ایران کا میزائل سسٹم اور فوج کتنی طاقتور ہے؟

امریکی محکمہ دفاع کا کہنا ہے کہ کئی سالوں سے عائد پابندیوں کے باوجود ایران ڈرون صلاحیت حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔

0
37

ایجنسی؛

دمشق میں یکم اپریل کو ایرانی سفارت خانے کی عمارت پر فضائی حملے میں پاسداران انقلاب کے سات اہلکاروں کی اموات کے بعد ایران نے ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب اسرائیل پر
میزائل اور ڈرونز سے حملے کیے ہیں۔

ان حملوں کے دوران ایران نے چند ایسے ہتھیار استعمال کیے ہیں جو ایک طویل عرصے سے مغربی ممالک کو تشویش میں مبتلا رکھے رہے ہیں۔

ایران کے میزائل اور ان کی صلاحیت

خبررساں ادارے روئٹز کے مطابق بیلسٹک میزائل تہران کے پاس موجود ہتھیاروں کا ایک اہم حصہ ہیں۔

امریکی دفتر برائے نیشنل انٹیلی جنس کے مطابق ایران خطے میں سب سے زیادہ بیلسٹک میزائلوں سے لیس ملک ہے۔

ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے ’اسنا‘ نے رواں ہفتے ایک گرافک تصویر شائع کی تھی جس میں ایران کے نو میزائل دکھائے گئے تھے جن کے بارے میں کہا گیا تھا کہ وہ اسرائیل تک پہنچ سکتے ہیں۔

ان میں 17,000 کلومیٹر (10,500 میل) فی گھنٹہ سے زیادہ کی رفتار کے ساتھ پرواز کرنے کی صلاحیت رکھنے والا ’سیجل‘، 2،000 کلومیٹر (1،240 میل) کی رینج والا ’خیبر‘ اور 1،400 کلومیٹر (870 میل) کی رینج رکھنے والا ’حج قاسم‘ شامل ہے۔

جس کا نام قدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کے نام پر رکھا گیا ہے جو چار سال قبل امریکی حملے میں بغداد میں مارے گئے تھے۔

ایران کے ڈرونز اور ان کی طاقت

ایران جو کہ ڈرون تیار کرنے والا بڑا ملک ہے، نے اگست میں کہا تھا کہ اس نے مہاجر-10 کے نام سے ایک جدید ملکی ساختہ ڈرون تیار کیا ہے۔

جس کی آپریشنل رینج 2،000 کلومیٹر (1،240 میل) ہے اور یہ 300 کلوگرام (660 پاؤنڈ) تک کے پے لوڈ کے ساتھ 24 گھنٹے تک پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ایران کا کہنا ہے کہ اس کے بیلسٹک میزائل امریکہ، اسرائیل اور دیگر ممکنہ علاقائی اہداف کے خلاف ایک اہم مزاحمتی اور جوابی طاقت ہیں۔ تاہم جوہری ہتھیاروں کے حصول سے انکار کرتا ہے۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق گذشتہ برس جون میں ایران نے اپنا پہلا ہائپر سونک بیلسٹک میزائل پیش کیا تھا۔

ہائپر سونک میزائل آواز کی رفتار سے کم از کم پانچ گنا زیادہ تیزی سے پیچیدہ راستے پر پرواز کر سکتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں روکنا مشکل ہو جاتا ہے۔

امریکہ اور یورپی مخالفت کے باوجود اسلامی جمہوریہ ایران نے کہا ہے کہ وہ اپنے دفاعی میزائل پروگرام کو مزید بڑھائے گا۔

واشنگٹن میں قائم ایک غیر سرکاری تنظیم آرمز کنٹرول ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ایران کا میزائل پروگرام زیادہ تر شمالی کوریا اور روسی ڈیزائنز پر مبنی ہے اور اسے چین سے مدد ملی ہے۔

آرمز کنٹرول ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ایران کے مختصر اور درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں میں شہاب-ون شامل ہے، جس کی تخمینہ رینج 300 کلومیٹر (190 میل) ہے۔

شہاب- تھری، 800-1,000 کلومیٹر (500 سے 620 میل)، عماد-ون، 2،000 کلومیٹر (1،240 میل) تک کا میزائل تیار کیا جا رہا ہے اور سیجل، 1،500-2،500 کلومیٹر (930 سے 1،550 میل) کے ساتھ تیاری کے مراحل میں ہے۔

ایران کے پاس کروز میزائل بھی ہیں، جیسا کہ Kh-55 جو کہ 3,000 کلومیٹر (1,860 میل) تک کی رینج کے ساتھ جوہری صلاحیت کا حامل ہتھیار ہے۔

جدید ترین اینٹی شپ میزائل خالد فرز، تقریباً 300 کلومیٹر (186 میل) رینج کے ساتھ 1,000 کلوگرام (1.1 ٹن) وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

علاقائی حملے

ایران کے پاسداران انقلاب نے رواں برس جنوری میں اس وقت دنیا کو ان میزائلوں کی طرف متوجہ کیا جب انہوں نے کہا کہ انہوں نے عراق کے نیم خودمختار کردستان کے علاقے میں اسرائیل کے جاسوسی کے ہیڈکوارٹر پر حملہ کیا، اور کہا کہ انہوں نے شام میں داعش کے عسکریت پسندوں پر فائر کیے۔

ایران نے پاکستان میں بلوچ عسکریت پسند گروپ کے دو ٹھکانوں پر میزائل داغنے کا بھی اعلان کیا۔

سعودی عرب اور امریکہ کے بقول ان کے خیال میں 2019 میں سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر ڈرون اور میزائل حملے کے پیچھے ایران کا ہاتھ تھا۔ تاہم تہران نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

سال 2020 میں ایران نے ایرانی کمانڈر سلیمانی پر امریکی ڈرون حملے کے جواب میں عراق میں موجود امریکی افواج کے الاسد ایئر بیس پر بھی میزائل حملے کیے تھے۔

امریکہ ایران پر الزام لگاتا ہے کہ وہ یمن کے حوثیوں کو اسلحہ فراہم کر رہا ہے، جو غزہ جارحیت کے دوران بحیرہ احمر اور اسرائیل پر حملے کر رہے ہیں۔ تہران حوثیوں کو اسلحہ فراہم کرنے کی تردید کرتا ہے۔

سال 2022 میں حوثی باغیوں نے کہا تھا کہ انہوں نے متحدہ عرب امارات پر متعدد بیلسٹک میزائل اور ڈرون داغے تھے۔

اس میں متحدہ عرب امارات میں امریکی فوج والے ایک اڈے کو نشانہ بنانے والا میزائل حملہ بھی شامل تھا، جسے امریکی ساختہ پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں نے ناکام بنا دیا تھا۔

دوسری جانب لبنان کے حزب اللہ گروپ کے رہنما نے کہا ہے کہ اس گروپ کے پاس لبنان کے اندر ہزاروں راکٹوں کو میزائلوں میں تبدیل کرنے اور ڈرون بنانے کی صلاحیت ہے۔

گذشتہ سال حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے کہا تھا کہ ان کا گروپ ’اسلامی جمہوریہ ایران کے ماہرین‘ کے تعاون سے معیاری راکٹوں کو میزائلوں میں تبدیل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔

اسرائیل اور مغربی انٹیلی جنس حکام کے مطابق ایران نے باغیوں کے خلاف لڑائی میں صدر بشار الاسد کی مدد کے لیے شام میں دیسی گائیڈڈ میزائل منتقل کیے ہیں۔

اسی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران نے اپنی پیداواری صلاحیت کا کچھ حصہ شام کے زیر زمین کمپاؤنڈز میں بھی منتقل کر دیا ہے، جہاں اسد کی حامی افواج اور دیگر تہران نواز فورسز نے اپنے میزائل بنانا سیکھا ہے۔ن