بالی ووڈ میں خودکُشیوں کارجحان کیوں بڑھ رہا ہے

0
144

کووڈ وبا کے سبب لاک ڈاون اور اس کے بعد حالات سے پیدا ہونے والی بوریت کو مٹانے کے لیے میری طرح بیشتر مرد و خواتین یوٹیوب و انٹرنیٹ کے دیگر ذرائع سے زیادہ تر پرانی فلمیں اور ٹی وی سیریل دیکھنے کے لیے مجبور ہیں۔

میرے خیال سے اس کی وجہ سب جانتے ہیں۔ دیگر شعبہ جات کی طرح فلمی صنعت بھی کووڈ سے بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ مگر فلمی دنیا کی چکا چوند دیکھ کر کسی نے کبھی یہ سوچا نہیں ہو گا کہ فلم اور ٹی وی میں کام کرنے والے اداکاروں کو بھی فا قہ کشی کی نوبت پیش آ سکتی ہے۔ حالیہ مہینوں کے دوران بھارت میں ایک درجن کے قریب فنکار (مرد و خواتین) معاشی مسائل اور بے کاری سے تنگ آ کر خود کشی کا انتہائی قدم اٹھا چکے ہیں۔

بھارت کی فلم انڈسٹری کو دنیا کی بڑی فلم انڈسٹریوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ غالباً ہالی ووڈ کے بعد فلموں کی تعداد اور روزگار فراہم کرنے کے اعتبار سے بھارتی فلمی صنعت کو دنیا میں دوسرا مقام حاصل ہے، جس کی مالیت کا حجم مالی سال 2020 میں 183 ارب روپے تھا۔ تاہم اس وقت تفریحی صنعت کا برا حال ہے۔ چاہے فلم ہو یا ٹی وی شو یا پھر تھیٹر، سب کی سرگرمیاں بڑی حد تک ٹھپ ہو چکی ہیں۔

اس کا ہلکا سا نظارہ دہلی کے قلب میں واقع منڈی ہاوس میں دیکھ سکتے ہیں۔ یہ علاقہ دارالحکومت دہلی میں ثقافتی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں اد اکاری کی تعلیم دینے والا دنیا کا سب سے پہلا مدرسہ یعنی نیشنل اسکول آف ڈرامہ قائم ہے اور اس کی بدولت علاقہ میں متعدد ڈرامہ تھیٹر ہال قائم ہیں۔ میں جب بھی یہاں آتی تو اداکاری کے فن سیکھنے والوں، نئے فنکاروں اور تماش بینوں کا ایک میلہ سا لگا رہتا تھا مگر آج ہر طرف ہو کا عالم ہے۔ یہاں کی گہما گمی اور رونق سب غائب ہوچکے ہیں۔

نئی فلموں کے ریلیز نہ ہونے کی وجہ سے فلم انڈسٹری کو بے تحاشہ نقصان ہو رہا ہے، تھیٹر بند ہو رہے ہیں۔ فلم، ٹی وی اور ویب سیریز کی شوٹنگ کا سلسلہ بند ہو گیا ہے۔ یہ کسی کو نہیں معلوم کہ سنیما کا پروجیکٹر پھر کب چلے گا۔ ٹی وی کے متعدد شو بند ہو گئے ہیں۔ سونی ٹیلی ویژن نے ‘اشاروں اشاروں میں‘، بے حد 2، اور پٹیالہ بیب کی نمائش بند کر دی ہیں۔ اسی طرح اسٹار پلس نے ‘نظر 2‘، اور ‘دل جیسے دھڑکے دھڑکنے دو‘ کی نمائش معطل کر دی ہے۔

مگر کورونا کی سب سے زیادہ مار فلم اور ٹی وی انڈسٹری سے وابستہ درمیانے اور چھوٹے فنکاروں پر پڑی ہے۔ کئی فنکاروں نے یا تو مالی مسائل کے آگے ہتھیار ڈال دیے ہیں یا اپنا ذریعہ معاش تبدیل کر لیا ہے۔ گزشتہ ایک سال کے د وران کئی مشہور فنکاروں نے خود کشی کا انتہائی قدم اٹھایا ہے۔’عادت سے مجبور ‘ کے اداکار 32 سالہ منمیت گریوال کی خودکشی کا واقعہ سرخیوں میں تھا۔ وہ کام نہ ملنے کی وجہ سے مکمل طور پر قلاش ہو گیا تھا۔ بنک کے قرض کی قسط ادا نہیں کر پارہا تھا۔ ‘ہماری بہو سلک‘ سیریل کی ادکارہ نے بھی خودکشی کی کوشش کی تھی مگر اسے بچا لیا گیا۔

ایک اور اداکارہ کرتی چودھری کو ممبئی سے اپنے وطن اندور واپس آنا پڑا۔ا س کے پاس اپنے فلیٹ کا کرایہ ادا کرنے تک کے پیسے نہیں تھے اور اس نے حالات سے سمجھوتہ کرتے ہوئے اینکرنگ کرنی شروع کر دی تھی مگر وہ بھی لاک ڈاؤن کی نذر ہو گئی۔

اسی طرح علاقائی زبانوں کے فلم و ٹی وی ادکاروں کا بھی برا حال ہے۔ میراٹھی ایکٹر آشوتوش بھاکرے، کنڑا ایکٹر چندانہ،، سوشل گوڈا، سوشانت سنگھ راجپوت وغیرہ نے بھی خود کشی کی۔ تامل فلموں کے دو فنکار سری دھر اور جیا کلیانی بھی خودکشی کی کوشش کر چکے ہیں۔ من میت کی خودکشی کے واقعہ کے بعد کونسلنگ کا سلسلہ شروع کیا گیا۔

اپنے جسم و جان کا رشتہ برقرار رکھنے کے لیے انہیں دوسرے پیشے اختیار کرنا پڑ رہے ہیں۔ مشہور ٹی وی سیریل بالیکا ودھو (کمسن دلہن) کے ایک ہدایت کار رام وریک شاہ گوڑ نے اعظم گڑھ (یوپی) میں اپنے والد کے آبائی پیشہ سبزی فروشی میں مدد کرنا شروع کر دی ہے۔ معروف ٹی وی میزبان اور گائیک ادیتہ نارائن کی حالت بھی پتلی ہوگئی ہے۔

بھارت میں ہندی فلموں (جن کی اصل زبان و لہجہ اردو ہی ہوتا ہے) کے علاوہ چودہ پندرہ علاقائی زبانوں جیسے بنگالی، تامل، تیلگو، کنڑا، ملیالم، پنجابی، بھوجپوری اور دیگر زبانوں میں فلمیں اور ٹی وی سیریل بنتے ہیں۔ بنگالی، تامل، تیلگو، کنڑا، اور ملیالم زبانوں کی فلم انڈسٹری تو بالی ووڈ کی ٹکر کی ہیں۔ ممبئی میں واقع فلم انڈسٹر ی کو ہالی ووڈ کے وزن پر بالی ووڈ کہا جاتا ہے۔

ممبئی بھارت کا اقتصادی قلب ہونے کے ساتھ ساتھ فلمسازی کا بھی ملک کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ تاہم فلم انڈسٹری میں اس وقت ایک طرح سے مایوسی کی فضاء چھائی ہوئی ہے۔ اس عرصہ میں فلم تھیٹروں میں فلموں کی نمائش قال و قال ہی رہی۔ تھیٹروں کے بند ہونے کے نتیجے میں فلموں کی نمائش سے ہونے والی آمدنی میں گزشتہ سال مارچ سے ستمبر کے دوران 1500 کروڑ روپے کا نقصان ہوا تھا۔ بالی ووڈ کو ہوئے مجموعی نقصان کی مالیت بہت زیادہ ہے۔ اس کے مختلف تخمینے لگائے گئے ہیں جو 5,000 سے لے کر 9,000 کروڑ روپے تک ہیں۔

اس سے فلمی صنعت سے وابستہ لوگوں کے حوصلے ٹوٹ رہے ہیں۔ اداکار سنجے گاندھی گزشتہ سال جولائی سے بے کار ہیں۔ اترن سیریل کے اداکار ٹی وی اسٹار ایوب خان، جو دلیپ کما ر کے بھتیجے ہیں، وہ بھی کووڈ کی مار جھیل رہے ہیں۔ اداکاروں کا یہ بھی الزام ہے کہ بعض پروڈیوسر لاک ڈاؤن کا بہانہ بنا کر ان کی فیس میں 60 فی صد تک کی زبردست کٹوتی کر رہے ہیں۔

معمر اداکارہ ہمانی شیوپوری اپنے ساتھیوں کے مشکلات کی یوں ترجمانی کرتی ہیں۔ کہنے کو تو فلم سازی کو فلم انڈسٹری یا صنعت کہا جاتا ہے مگر اسے عملاً صنعت کا درجہ نہیں ملا ہے۔ اس لیے لیبر قوانین بھی یہاں نافذ نہیں ہیں۔ چنانچہ فلم سے و ابستہ لوگوں کے لیے نہ کوئی پروویڈنٹ فنڈ ہے نہ کوئی اسی قسم کا دوسرا فنڈ، جس سے وہ ا یسے بحرانی حالات میں مدد حاصل کر سکیں، ”گزشتہ ایک سال سے ان لوگوں کی کوئی باقاعدہ آمدنی نہیں ہو رہی ہے۔ ممبئی جیسے مہنگے شہر میں بنک کی ماہانہ قسط، کرایہ، کھانے اور دیگر اخراجات کو برداشت کرنا سب کے لیے مشکل ہے۔ ہمیں نہ صرف معاشی مسائل بلکہ نفسیاتی مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ہم لاک ڈاؤن کے سبب گھر سے باہر قدم نہیں نکال سکتے ہیں۔‘‘

فلموں اور ٹی وی سیریلوں میں اداکاروں کے علاوہ معاون اداکاروں، کیمرہ مین، فوٹو گرافر، ٹیکنیشین، ہیر ڈریسر اور دیگر کارکنوں کا ایک بڑا عملہ ہوتا ہے۔ وہ بھی اس کی لپیٹ میں ہیں۔ ٹی وی فنکار ذان خان کے بقول لوگوں کوباہر سے بڑی چمک دمک دکھائی دیتی ہے مگر ہم کس قدر مشکل حالات میں کام کر رہے ہیں وہ کسی کو نظر نہیں آتا۔

اداکارہ سارہ خان اپنے ساتھی اداکاروں کو یہ مشورہ دیتی ہیں کہ وہ صرف ٹی وی کے کاموں پر تکیہ نہ کریں بلکہ معاش کے دیگر ذرائع پر بھی توجہ دیں کیونکہ فلم صنعت کو حکومت سے کوئی مدد حاصل نہیں ہو گی۔