جنگل محل میں کس کا دبدبہ قائم ہوگا

0
186

کلکتہ
مغربی بنگال کے جنگل محل کا 42اسمبلی حلقہ ترنمول کانگریس اور بی جے پی دونوں کےلئے اقتدار میں پہنچنے کےلئے کلید ی حیثیت رکھتا ہے ۔ایک دہائی قبل تک جنگل محل انتہا پسند بائیں بازوں کی تنظیموں کے زیر اثر رہا ہے ۔ریاست کے جنوب ، مغربی حصہ میں واقع یہ علاقوہ جھاڑ کھنڈ اور بہار سے متصل ہے اور ایک مدت یہ علاقہ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (ماؤنواز) کا گڑھ رہا ہے ، جو ایک عسکریت پسند تنظیم ہے ۔ 2008 اور 2011 کے درمیان اس علاقے میں حصول اراضی اور سودی نظام کے خلاف مسلح تحریل چلائی گئی تھی۔
تاہم سیاسی طور پر یہ علاقہ گزشتہ چند دہائیوں میں مختلف سیاسی پارٹی کے تئیں اپنے لگائو کا مظاہرہ کیا ہے ۔جس میں کانگریس سے لے کر مائونوازوں اور پھر ترنمول کانگریس کا گڑھ بن گیا اور اب بی جے پی نے بھی اس علاقے میں اپنی پکڑ مضبوط بنالی ۔گزشتہ پنچایت انتخابات میں قبائلی برادری کے متعدد آزاد امیدواروں نے مختلف گرام پنچایتوں میں مرکزی دھارے کی سیاسی جماعتوں کے نامزد امیدواروں کو شکست دی۔ ٹی ایم سی اور بائیں بازو کی جماعتوں کے نامزد امیدواروں کوشکست دینے پر مجبور کردیا ۔بی جے پی نے پرولیا اور جھاڑگرام اضلاع میں گرام پنچایت کی ایک تہائی سے زیادہ نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔قبائلیوں کے غم و غصے کو دیکھتے ہوئے ترنمو ل کانگریس نے گزشتہ پارلیمانی انتخابات میں ایک سنتھالی خاتون کو جھاڑگرام سیٹ پر کھڑا کیا ، جو جنگل محل خطہ کا مرکز ہے۔ بہرحال بھگوا جماعت نے ترنمول کانگریس کو شکست دی اور 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں اچھے فرق سے کامیابی حاصل کی۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق قبائلی علاقے بنگال ، جھاڑ کھنڈ، اڑیسہ اور چھتس گڑھ کے قبائلی علاقوں میں آر ایس ایس کے تحت سرسوتی شیشو مندر اسکولوں اور دیگرسماجی اقدمات کی وجہ سے بی جے پی کو فائدہ پہنچا ہے ۔جھاڑ گرام اور دیگر علاقوں میں کلیان واشی اور ایکلا اسکولوں کا جال بجھادیا گیا ہے ۔آر ایس ایس عیسائی اداروں کے پھیلاؤ کی مخالفت کرنے کے ساتھ ساتھ انتہائی بائیں بازو کی تنظیموں سے بھی لڑ رہی ہے۔قبائلی علاقوں میں آر ایس ایس کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے 2018 میں ، مغربی بنگال حکومت نے 120 سے زیادہ شوشو مندروں کو بند کردیا تھا اور آر ایس ایس کے زیر انتظام مزید 350 اسکولوں کو بند کرنے کا حکم دیا ۔ مگر اس وقت تک تاخیر ہوچکی تھی اور بی جے پی نے اس کا فائدہ اٹھالیا۔
جنگل محل خطہ چار اضلاع پرولیا ، جھاڑگرام ، مغربی مدنی پور اور بانکوڑا پر مشتمل ہے۔ 294 مغربی بنگال اسمبلی میں چھ لوک سبھا اور 42 اسمبلی نشستوں پر مشتمل ہے۔ لوک سبھا کی چھ نشستوں میں سے بی جے پی نے چار سیٹیں جھاڑگرام ، پرولولیا ، مدنی پور اور بانکوڑامیں جیت حاصل کی تھی۔ جیتا ۔ 2019 کے عام انتخابات میں گھٹال اور بشنو پور کو ترنمول کانگریس نے کامیابی حاصل کی۔
بائیں بازو کی حکومت کے خاتمے اور سیاست میں ترنمول کانگریس برانڈ کے ظہوراور پارٹی میں اندرونی اختلافات نے بی جے پی کے وسیع ہونے کی راہ ہموار کردی۔ 2016 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے ریاست میں صرف تین نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی جبکہ ٹی ایم سی نے 211 ، کانگریس کو 44 اور بائیں بازو کی 33 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ مگر 2018کے پنچایت انتخابات میں بی جے پی نے اس خطے میں اہم کامیابی حاصل کی ۰۔2019 کے لوک سبھا انتخابات میں ، ٹی ایم سی نے کل 42 سیٹوں میں سے 22 پر کامیابی حاصل کی جبکہ بی جے پی نے 18 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔
جنگل محل میں بی جے پی کےلئے سب سے بڑا انتحابی دائو کرمی کی حمایت حاصل کرنا تھا۔یہی کرمی جھاڑ کھنڈ میں بی جے پی کی حمایت نہیں کی تھی۔کیوں کہ وہ شہریت ترمیمی ایکٹ کی وجہ سے بی جے پی سے ناراض ہیں ۔ کیونکہ ان میں سے کسی کے پاس بھی اپنے آباؤ اجداد کو ثابت کرنے کے لئے دستاویزات نہیں ہیں ، خاص طور پر گھنے جنگلات میں رہنے والوں کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ مرکزی حکومت کے ذریعہ انہیں قبائلی کا درجہ دینے سے انکار کئے جانے پر بھی وہ ناراض ہیں۔
جنگل محل خطہ کے 42 اسمبلی حلقوں میں تقریبا 30 لاکھ آبادی والے اور کرمی کی حمایت حاصل کرنے کے لئے ترنمول کانگریس اور بی جے پی دونوں کوئی کسر نہیں چھوڑرہی ہے ۔30اسمبلی حلقے میں کرمی ووٹروں کی اچھی پوزیشن ہے ۔بی جےپی ترنمول کانگریس کی بدعنوانی کے ایشو کو اٹھاکر اور مقامی سطح پر پارٹی میں اختلافات کو ختم کرکے کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ ریاستی بی جے پی صدر دلیپ گھوش نے حال ہی میں پارٹی کیڈروں اور رہنماؤں کے مابین پائے جانے والے اختلافات کو دور کرنے کے لئے خطے کا دورہ کیا تھا۔ممتا بنرجی نے پہلے ہی 2008-09میں لال گڑھ تحریک کے کلیدی لیڈرچھتردھر مہتو کو شامل کیا ۔کرمیوں کو شیڈول ٹرائب میں شامل کرنے کےلئے مرکزی حکومت سے سفارش کرکے ان کی حمایت حاصل کرنے کی بھر پور کوشش کی ہے ۔
جھارکھنڈ اور مغربی بنگال کے کرمی سماجی ، ثقافتی اور نسلی اعتبار سے بہار کے ’’ کرمی ‘‘ سے مختلف ہیں۔ مظاہر فطرت کی پوجا کرتے ہیں ۔ 1913 میں مرکزی حکومت کے نوٹیفکیشن اور 1931 کی اس وقت کی بہاراڑیسہ حکومت کے نوٹیفکیشن یہ بتاتا ہے کہ کرمی شیڈول قبیلوں کا حصہ تھے۔1931 کی مردم شماری میں ، چھوٹنگ پور کے کرمی قبائلیوں کی فہرست میں شامل تھے اور یہ 5 ستمبر 1950 تک ایس ٹی کا ایک حصہ تھا۔مگر بعد میں انہیں شیڈول ٹرائب سے خارج کردیا گیا۔ 27 دسمبر 1988 کو پرولیا میں منعقدہ آدیواسی کرمی کنونشن میں این ای ہورو نے اپنے ایک تحریری پیغام میں کہا ہے کہ کرمی برادری کو ایس ٹی کی فہرست میں شامل کیا جانا چاہئے کیونکہ وہ قبائلیوں سے ان کا تعلق رہا ہے اور 1931 تک اس کا حصہ رہے۔مغربی بنگال کے رانچی ، ہزارباغ ، سنتھالی پرگنہ اور جھارکھنڈ کے چوٹانگ پور ،اڑیسہ کے مایوربنج ، سندر گڑھ ، کیونجھر ، بونئی اورمغربی بنگال کے پرولیا ، بانکوڑا اور مدنی پور ، بردوان ، مالدہ ، مرشد آباد اور مغربی بنگال میں مغربی مدنی پور میںآباد ہیں۔
ممتا بنرجی کے ماں ، ماٹی اور مانش کا نعرہ اور قبائلیوں کے جل ،جنگل اور زمین کے نعرے میں مماثلت ہے ۔مگر اسمبلی انتخابات سے قبل کرمی برادری اس وقت مخصمے کی شکار ہے ایک طرف ممتا بنرجی نے اپنے انتخابی منشور میںکرمیو کو پرانا مقام دلانے کا وعدہ کیا ہے تو دوسرے اس کے علاقے کے قبائلی اور غیر قبائلیوں اپنے اپنے سیاسی راستے کی تلاش میں سرگرم ہے۔یواین آئی۔نور