Friday, July 19, 2024
homeاہم خبریںجھاڑ کھنڈ کی بہادر قبائلی شاعرہ کا قومی میڈیا کوزوردارطمانچہ--’’ آج تک...

جھاڑ کھنڈ کی بہادر قبائلی شاعرہ کا قومی میڈیا کوزوردارطمانچہ–’’ آج تک ساہتیہ جاگرتی اُدیمان پرتیبھا سمان‘‘ کو ٹھکرادیا

منی پور میں قبائلی تباہ و برباد ہورہے ہیں اور میں ایوارڈ قبول کروں گی ۔قومی میڈیا نے جان بوجھ کر قبائلیوں کے مسائل کو نظرانداز کیا ہے

ٕانصاف نیوز آن لائن بیورو

منی پور میں امن کے قیام کی کوششیں اب تک ثمر آور ثابت نہیں ہوئی ہیں ، انٹرنیٹ کی بندش کو 200دن مکمل ہونے کو ہیں ۔وزیر اعظم مودی کو اب تک منی پور کے حالات کا جائزہ لینے کی ضرورت تک محسوس نہیں کی ہے۔منی پور کا معاشرہ مکمل طور پر تقسیم کا شکار ہوگیا ہے ۔عدم اعتماد اور غیر یقینی صورت حال کا عالم یہ ہے کہ 6مہینے گزرنے کے باوجود کوکی اور میتی کے درمیا ن ایک دوسرے کے علاقے میں جانے سے خوفزدہ ہیں ۔میانمار سے دراندازی کے تازہ واقعات نے صورت حال مزید پیچیدہ کردیا ہے۔مگر اس پورے صورت حال کا سب سے تکلیف دہ المیہ یہ ہے کہ سیاسی پارٹیوں نے بھی خاموشی اختیار کرلی ہے۔بی جے پی اور کانگریس دونوں منی پور میں مستقبل کے امکانات کے پیش نظر کام کررہی ہے۔چناں چہ منی پور کے قبائلیوں کی بے بسی کے خلاف کہیں سے بھی احتجاج کی آواز بلند نہیں ہورہی ہے۔قومی میڈیا کا رویہ شمال مشرقی ریاست کے معاملے میں ہمیشہ متعصبانہ اور جاہلانہ رہا ہے۔

ایسے میں قبائلیوں کیلئے آواز بلند کرنے والی شاعرہ اور سماجی کارکن جیسنتا کرکیٹا نے انڈیا ٹوڈے گروپ کا ’’ج تک ساہتیہ جاگرتی اُدیمان پرتیبھا سمان ‘‘ کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا ہے کہ’’ جب پورے ملک میں قبائلیوں پر حملے ہورہے ہیں ، منی پور میں قبائلی ہر روز مصائب کے شکار ہو رہے ہیں ، قبائلیوں کی زندگیوں کی شان کو ختم کر دیا گیا ہے – کوئی بھی ایوارڈ کسی شاعر و ادیب کیلئے کیسے حوصلہ افزائی کر سکتا ہے؟‘‘۔ایوارڈ مستردکرنے کے فیصلے کو جواز بخشتے ہوئے قبائلی شاعرہ کہتی ہیں کہ اس پورے معاملے میں قومی میڈیا کا رویہ افسوس ناک ہے ، اس نے نظر پھیر لیا ہے، وہ آج بھی قبائلیوں کو تہذیب سے عاری اور ترقی کی دشمن سمجھتی ہے۔میرا یہ احتجاج کسی ایک میڈیا ہائوس کے خلاف نہیں ہے بلکہ میرا احتجاج قومی میڈیا کے مجموعی رویے کے خلاف ہے۔
قبائلی شاعرہ شاعرہ اور سماجی کارکن جیسنتا کرکیٹاکو 2022میں فوربس میگزین نے ہندوستان کے بااختیار خواتین کی فہرست میں شامل کیا تھا۔2021میں انہوں نے قبائلی تہذیب و ثقافت لا حق خطرات اور مقامی لوگوں کی جدو جہد کو اجاگر کر نے کیلئے ہندی نظموں کا مجموعہ ’’ایشور اور بازار ‘‘ نام سے ایک کتاب کی اشاعت کی۔جھارکھنڈ میں پیدا ہونے والی شاعرہ قبائلی کی اون برادری سے تعلق رکھتی ہیں۔ان کی ایک ’ہمیں کون جواب دے گا، جناب؟ بہت ہی شہرت حاصل کی تھی۔جس میں وہ کہتی ہیں کہ
ہم آپ کے اس کلچر کے خلاف آخری دم تک لڑیں گے۔
لیکن ذرا ہمیں بتائیں،
یہ دھرتی جو تباہ ہو گئی، اس کا جواب کون دے گا جناب؟

انڈیا ٹوڈے گروپ ہر سال ہندی ادیب کو ایوارڈ دیتی ہے۔اس سال اس کیلئےشاعرہ اور سماجی کارکن جیسنتا کرکیٹاکا انتخاب کیا تھاپ۔اس ایوارڈ ٹکے ساتھ 50ہزار روپے نقد بھی ملنے والے تھے۔ایوارڈ مسترد کرنے کے بعد کیرکیٹا کہتی ہیںکہ مین اسٹریم میڈیا کے پاس بہت زیادہ طاقت ہے۔ لیکن وہ طاقت ور طبقے کے خلاف آواز بلند کرنے کا اخلاقی حق سے محروم ہوچکا ہے ۔وہ آج بھی قبائلیوں کو غیر مہذب اور ترقی مخالف سمجھتے ہیں۔مین اسٹریم میڈیا میں قبائلیوں کی نمائندگی صفر کے برابر ہے۔اس کی وجہ سے قبائلیوں کی آواز کو بلند کرنے سے قاصر ہیں۔منی پور کی بے رحم کوریج کا حوالہ دیتے ہوئے، وہ مزید کہتی ہیںکہ وہ مشین بن گئے ہیں اور انسانی رابطے کھو چکے ہیں۔ اور منی پور پر ان کی خاموشی اس کو ظاہر کرتی ہے۔

منی پور مئی سے سے ہی خلفشار کا شکار ہے۔3 مئی کو پہلی مرتبہ منی پور میں اکثریتی میتی برادری اور کوکی قبیلے کے درمیان جھڑپوںکا آغاز ہوا ۔اب تک 200سے زاید افراد کی جانیں جاچکی ہیں ۔ایک لاکھ کے قریب افراد بے گھر ہوچکے ہیں ۔حملو ں کے خوف سے اپنا گھر چھوڑکر کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں ۔بی جے پی کی حکومت اس ناکامی کی اخلاقی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں ہے بلکہ وہ اس پورے صورت حال کیلئے خود کو بے قصور سمجھتی ہیں ۔وزیر اعظم مودی جو علامات پر سب سے زیادہ یقین رکھتے ہیں ۔گزشتہ ہفتے 15نومبر کو انہوں نے قبائلی لیڈر برسا منڈا کے آبائی گائوں میں ریلی کا انعقاد کیا اور انہوں نے 24ہزار کروڑ روپے کے پروجیکٹ کا اعلان کیا۔قبائلی لیڈر تروپدی مرمو کو صدر جمہوریہ کے عہدہ جلیلہ پر فائز کرکے بی جے پی قبائلیوں کی سب سے بڑی نجات دہندہ کے طور پر ثابت کرنے کی کوشش کررہی ہے مگر منی پور میں کوکی قبائلیوں کی بے بسی ، مدھیہ پردیش جہاں پندرہ سالوں سے بی جے پی کی حکومت ہے قبائلیوں کو زمین سے محروم کرنے کی کوشش اور جھاڑ کھنڈ میں قبائلیوں کی صورت حال یہ ثابت کرتی ہے قبائلیوں سے محبت کا دعویٰ ڈھونگ کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ قبائلی شاعرہ جیسنتا کرکیٹاکا یہ احتجاج میڈیا کی بے حسی اور بے مروتی کو ختم کرسکے گی ؟ظاہر ہے کہ اس کاجواب نا ہے۔اس کی امید نہیں کی جاسکتی ہے۔مگر جیسنتا کرکیٹانے کم سے کم ٹھہرے ہوئے بڑے تالاب میں پتھر پھینک ارتعاش پیدا کرنے کی ضرور کوشش کی ہے اور قومی میڈیا بالخصوص انڈیا ٹوڈے گروپ کی ذمہ داری ہے وہ ارتعاش کو سمجھنے کی کوشش کرے کہ اس کی چکا چوند 39سالہ شاعرہ کو متاثر کرنے میں ناکام کیوں ہوگیا۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین