Friday, January 23, 2026
homeاہم خبریں’الیکشن کمیشن کا کوئی بھی اختیار بے لگام یا غیر منظم نہیں...

’الیکشن کمیشن کا کوئی بھی اختیار بے لگام یا غیر منظم نہیں ہو سکتا– سپریم کورٹ: ووٹر لسٹوں کی ‘خصوصی نظرثانی’ پر الیکشن کمیشن سے سخت سوالات

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے ووٹر لسٹوں کی نظرثانی کے دوران الیکشن کمیشن آف انڈیا (ECI) کے “واضح اختیارات” کے دعوے پر اہم ریمارکس دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کوئی بھی آئینی اختیار مکمل طور پر بے لگام یا غیر منظم نہیں ہو سکتا۔

چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیہ باگچی پر مشتمل بنچ، الیکشن کمیشن کی متنازعہ اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کر رہی تھی۔

قانونی قواعد سے انحراف پر سوال: سماعت کے دوران جسٹس جوئے مالیہ باگچی نے سوال اٹھایا کہ کیا الیکشن کمیشن کو رجسٹریشن آف الیکٹرز رولز 1960 کے تحت مقررہ طریقۂ کار (رول 13 اور فارم 6) سے انحراف کا حق حاصل ہے؟ عدالت نے خاص طور پر اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ کمیشن نے فارم 6 میں درج 6 دستاویزات کے بجائے 11 دستاویزات کا مطالبہ کر کے شرائط کو مزید سخت کر دیا ہے۔

جسٹس باگچی نے ریمارکس دیے:

”ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا الیکشن کمیشن کو یہ قانونی اختیار حاصل ہے کہ وہ طے شدہ دستاویزات کی تعداد میں اضافہ کرے یا فارم 6 میں شامل بنیادی دستاویزات کو مسترد کر دے؟“

کمیشن کا مؤقف اور عدالت کا جواب: الیکشن کمیشن کے وکیل سینئر ایڈووکیٹ راکش دویدی نے نمائندگیِ عوام ایکٹ 1950 کی دفعات کا حوالہ دیتے ہوئے لچک کی اپیل کی۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ قانون کمیشن کو ‘مناسب طریقے’ سے نظرثانی کی اجازت دیتا ہے۔

تاہم، چیف جسٹس سوریہ کانت نے اس پر سخت موقف اپناتے ہوئے کہا کہ خصوصی نظرثانی کے نتیجے میں عام شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا:

”جب قانون کہتا ہے کہ ’جس طریقے کو کمیشن مناسب سمجھے‘، تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ وہ طریقہ کار قدرتی انصاف، شفافیت اور آئینی اصولوں سے آزاد ہو۔“

عدالت نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اختیارات کا استعمال غیر محدود یا من مانی نہیں ہو سکتا۔ کیس کی مزید سماعت جمعرات کو جاری رہے گی۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین