Sunday, April 5, 2026
homeاہم خبریںبدرالدین اجمل کو اویسی کے ساتھ اتحاد کرنے پر جمعیۃ علمائے ہند...

بدرالدین اجمل کو اویسی کے ساتھ اتحاد کرنے پر جمعیۃ علمائے ہند نے نوٹس جاری کیا فرقہ پرست سیاسی جماعت سے اتحاد کرنا بنیادی اصولوں کے خلاف ہے: جمعیۃ علمائے ہند

نئی دہلی: انصاف نیوزآن لائن

آسام میں جو اگلے ہفتے پولنگ ہونے والی ہے، بدرالدین اجمل قاسمی کی قیادت والی یو ڈی ایف نے اپنی سیاسی زمین کو بچانے کیلئے اسدالدین اویسی کو آسام میں مختلف جلسوں میں تقاریر کراکرآسام کے پورے سیاسی منظرنامے اور بیانیہ کو بی جے پی کے ٹرپ میں ڈال دیا ہے۔کیوں کہ بی جے پی کی کوشش رہی ہے کہ وہ ہندو اورمسلم تنازع کو انتخابی ایشو بنادے۔بی جے پی کی دس سالہ حکومت مسلم دشمنی پر مبنی رہی ہے۔

آسام میں اویسی کے انتخابی جلسوں کے بعد آسام کی سول سوسائٹی کی مختلف تنظیموں نے الزام عائدکیا ہے کہ بدرالدین اجمل بی جے پی کے اشاروں پر کام کررہے ہیں اور اسی مقصد سے انہوں نے اویسی کو بلاکر بی جے پی کو ایجنڈہ فراہم کررہی ہے۔اجمل کی اسی تفرقہ سیاست کے پیش نظر ان کے کئی پرانے ساتھیوں نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا ہے۔

اجمل جمعیۃ علمائے ہند کے مرکزی قیادت کا حصہ رہے ہیں چناں چہ آج شام جمعیۃ علمائے ہند نے اجمل کو اویسی کے ساتھ شراکت داری پر نوٹس جاری کیا ہے۔پریس نوٹ کے مطابق جمعیۃ علماء ہند نے اپنی اصولی پالیسی کی روشنی میں مولانا بدرالدین اجمل قاسمی صدر جمعیۃ علماء آسام سے حالیہ انتخابی مہم کے دوران ایک فرقہ پرست سیاسی جماعت کے ساتھ مبینہ اتحاد اور علانیہ حمایت کے سلسلے میں 24 گھنٹوں کے اندر تحریری وضاحت طلب کی ہے۔

جمعیۃ علماء ہند کے ناظم عمومی مولانا محمد حکیم الدین قاسمی کی جانب سے جاری کرہ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ جمعیۃ کے اکابر رحمہم اللہ نے آزادی کے فوری بعد مجلس عاملہ کے تاریخی اجلاس منعقدہ 17۔ 18 اگست 1951، زیر صدارت شیخ الاسلام مولانا سیدحسین احمد مدنیؒ، انتخابات اور ووٹ سے متعلق ایک واضح، اصولی اور غیر مبہم پالیسی منظور فرمائی تھی جس کی توثیق بعد کے متعدد اجلاسوں میں بھی کی جاتی رہی ہے۔

جمعیۃ نے اپنی پالیسی میں طے کیا تھا کہ جمعیۃ کے ارکان اور ذمہ داران کے لیے یہ لازم ہے کہ وہ کسی بھی فرقہ پرست جماعت سے کسی قسم کی وابستگی نہ رکھیں۔ اس کے برعکس انہیں صرف ایسی جماعتوں اور قوتوں کے ساتھ رہنے کی ہدایت دی گئی تھی جو قومی یکجہتی، آئینی اقدار، جمہوری اصولوں اور تکثیری معاشرتی ڈھانچے کی بقا کی حامی ہوں۔

اس کے برعکس حالیہ انتخابی مہم میں مولانا بدرالدین اجمل قاسمی نے ایک فرقہ پرست پارٹی کے ساتھ سیاسی اتحاد اور ہم نوائی کی ہے اور اس کی علانیہ حمایت حاصل کی ہے جو جمعیۃ علماء ہند کی پالیسی اور اس کے بنیادی اصولوں سے صریح انحراف ہے۔اس پس منظر میں ان سے کہا گیا ہے کہ وہ 24 گھنٹوں کے اندر اپنا تحریری جواب مرکزی دفتر کو ارسال کریں اور یہ واضح کریں کہ مذکورہ طرزِ عمل کن مقاصد، حالات اور بنیادوں پر اختیار کیا گیا۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر موصولہ جواب اطمینان بخش نہ ہوا تو تنظیمی ضابطے اور دستور کی روشنی میں مناسب کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

جمعیۃ علماء ہند نے اپنے بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ اپنے اکابر کے طے کردہ اصولی موقف، آئینی اقدار کے تحفظ اور فرقہ وارانہ سیاست کی مخالفت کے موقف پر پوری مضبوطی کے ساتھ قائم ہے۔

خیال رہے کہ کئی برس قبل جمعیہ علمائے ہند (الف)کے صدر مولانا سید ارشدمدنی نے بدرالدین اجمل پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ بدرالدین اجمل بی جے پی کیلئے کام کررہے ہیں اور وہ ان کے ایجنٹ ہیں۔اس الزام کے بعد اجمل نے مولاناسید ارشد مدنی کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائرکیا اس کے جواب میں مولانا ارشدمدنی نے اپنی جمعیت سے انہیں نکال دیا۔بدرالدین اجمل مولا ارشدمدنی کے بھتیجے مولانا محمود مدنی کی جمعیۃ کا حصہ بن گئے اور اب اس جمعیۃ نے بھی اجمل کو نوٹس جاری کردیا ہے۔

چند برس قبل مولانا بدرالدین اجمل کے چھوٹے بھائی و سابق ممبر پارلیمنٹ سراج الدین اجمل نے ہیمانتا بسوا شرما کو آسام کی تاریخ کا سب سے کامیاب وزیر اعلیٰ قرار دیا تھا۔ گزشتہ پانچ برس تک بڑے پیمانے پر مسلمانوں کے مکانات منہدم ہوتے رہے مگر اجمل اور ان کی سیاسی جماعت اس سیاست کے خلاف مزاحمت کرنے کے بجائے صرف بیان بازی کرتے رہے۔یہی وجہ ہے کہ گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں اجمل کو 10لاکھ ووٹوں سے شکست ہوئی تھی اور اب اجمل اپنی ڈوبتی ہوئی سیاست کیلئے اویسی کی مدد لی ہے۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین