Thursday, February 19, 2026
homeاہم خبریںبنگلہ دیش انتخابات 2026: بی این پی کی کامیابی، جماعت اسلامی کا...

بنگلہ دیش انتخابات 2026: بی این پی کی کامیابی، جماعت اسلامی کا ابھار اور مستقبل کی سیاست

نور اللہ جاوید

کم وبیش دو دہائی کے جبر اور جابرانہ و سفاکانہ نظام کے خاتمے کے18ماہ بعد بنگلہ دیش میں جمہوریت بحال ہوگئی اور بنگلہ دیشی عوام نے واضح مینڈیٹ کے ساتھ بی این پی کو منتخب کرلیاہے۔یہ نتائج محض کسی ایک پارٹی کی فتح نہیں ہے ۔بلکہ بنگلہ دیش میں جمہوریت کی بحالی کی طرف ایک ایسا پہلا قدم ہے اگرفاتح جماعت جولائی انقلاب کی اسکرپٹ ، جمہوری نظام میں اصلاحات کے وعدوں کی تکمیل،عوام میںاعتماد سازی اور تقسیم کی سیاست کے بجائے اتفاق رائے ، مخالفین کااحترام کرنے کی پالیسی اختیار کرتی ہے تو یقینا یہ انتخاب معنی خیز تبدیلی کی علامت بن کرظاہرہوگی۔اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ بنگلہ دیش اس وقت دوہرائے پر کھڑا ہے۔یہ خوش آئند بات ہے کہ دھاندلی اورزیادتی کی شکایات کے باوجود بنگلہ دیش جماعت اسلامی نے انتخابات کے نتائج کو تسلیم کرتے ہوئے جمہوریت کی بحالی کیلئے مشترکہ کوششیں کرنے کے عزم کو پوری قوت کے ساتھ دہرایا ہے۔نتائج کااگر گہرائی سے تجزیہ کیا جائے تو یہ حقیقت ہمارے سامنے آتی ہے کہ پولنگ میں گرچہ پرامن تھی مگر نتائج کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی گئی اور کم و بیش 30سیٹیں ایسی ہیں جہاں کے نتائج کنٹرول کئے گئے اور محض چند سو ووٹوں کے فرق سے جماعت کے امیدوار کو شکست سے دوچار کردیا گیا ہے۔ایسے میں احتجاج اور نتائج قبول نہیں کرنے کے جذباتی اپیل کے بجائے تعمیر ی اپوزیشن کاکردارادا کرنے کا عزم یہ بہت بڑا قدم ہے ۔دوسری جانب بی این پی کے سربراہ طارق رحمن جو 17برس کی جلاوطنی کے بعد چند ماہ قبل ہی ملک لوٹے ہیں کے لب ولہجہ میں فاتحانہ غرور ، بلند و آہنگ دعوے کے بجائے انکساری اور اتفاق رائے قائم کرنے اور اتحاد کا پیغام ہے ظاہر ہے کہ انتقامی سیاست کیلئے بدنام بنگلہ دیش کیلئے یہ خوشگوار لمحہ ہے۔ طارق رحمن بنگلہ دیش کی سیاست میں متنازع ترین لیڈروں میں سے ایک رہے ہیں ، اپنی ماں خالدہ ضیا کے دوسرے دور اقتدار میں ان پر بدعنوانی کے کئی سنگین الزامات لگے ،ماں کی جگہ حکومت کو کنٹرول کرنے اور مخالفین کے ساتھ بدسلوکی اور غیر آئنی اقدامات کے بھی الزامات ہیں ۔اانہیں جیل بھی جانا پڑااورپھر ایک معاہدے تحت انہیں برطانیہ بھیج دیا گیا ۔یقینا یہ 17برس ان کی زندگی کے سخت ترین ایام تھے۔والدہ بنگلہ دیش میں قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کررہی تھیں ۔
ان 17برسوں کی مدت میں انہوں نے بہت کچھ تجربات حاصل کئے ہیں اور گڈگورنننس اور بہتر حکمرانی کے اسباق بھی سیکھے ہوں گے۔ برطانیہ جہاں وہ دودہائی سے مقیم تھے وہاں کی سیاست کو بھی قریب سے دیکھا ہوگا کہ مغربی نظام کی تمام تر خامی اور فریب کاری کے باوجود برطانیہ کے حکمراں طبقے میں جوابدہی اور اخلاقیات کا پہلو جنوبی ایشا کے ممالک کے مقابل میں کہیں زیادہ ہے ۔ طویل حکمرانی کی خواہش کسے نہیں ہے مگر اس خواہش کی قیمت آئین اور ملک کے اتحاد پر حاصل نہیں کیا جاتا ہے۔ 200 سے زائد نشستوں پر جیت نے بی این پی کو غیر مستحکم اتحادی سیاست یا قانون سازی میں تعطل کے خدشات سے بالاتر ہو کر حکومت کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ اگر اس مینڈیٹ کو تدبر اور دوراندیشی کے ساتھ استعمال کیا گیا تو پالیسیوں میں تسلسل بحال ہو سکتا ہے، عوامی ادارے مضبوط ہو سکتے ہیں اور حالیہ برسوں کی محاذ آرائی پر مبنی سیاست میں کمی آ سکتی ہے۔کیوں کہ استحکام کا اصل امتحان محض اعداد و شمار سے نہیں ہوتا ہے۔

یہ اس بات پر منحصر ہے کہ بی این پی جمہوری انداز میں، مشاورت اور مختلف حلقوں کی شمولیت کے ساتھ، اور سیاسی مخالفین سے تعمیری تعاون کرتے ہوئے حکمرانی کرتی ہے یا نہیں۔بنگلہ دیش کی سب سے قدیم جماعت ’’عوامی لیگ ‘‘ اس مرتبہ انتخابی منظرنامے سے غائب تھی ۔کیوںکہ اس پر پابندی عائد تھی ۔اسی طرح دو روایتی حریف شیخ حسینہ اور اورخالدہ ضیابھی نہیں تھیں ۔خالدہ ضیا کا چند ماہ قبل انتقال ہوگیا اور شیخ حسینہ بھارت میںجلاوطنی کی زندگی گزاررہی تھیں۔ماضی میں بی این پی اور جماعت اسلامی کے درمیان اتحاد رہا ہے ۔ مگراس مرتبہ دونوں آمنے سامنے تھے۔جماعت اسلامی کی قیادت میں طلبا کی نئی جماعت سٹیزن پارٹی اور دیگر 10مذہبی جماعتوںکا اتحادتھا۔جماعت اسلامی بنگلہ دیش کا اقتدار تک نہیں پہنچنا یا پھربنگلہ دیش کی پوری تاریخ میں پہلی مرتبہ 67سیٹوں پر جیت حاصل کرنےکو لے کرمثبت ومنفی دونوںطرح کے تجزیے کیاجارہے ہیں ۔ہرایک پہلوکی اپنی اپنی دلیل ہے۔بنگلہ دیش کی تاریخ میں ’’جماعت اسلامی بنگلہ دیش ‘‘ایک ایسی جماعت ہے جس سے متعلق کئی طرح کے منفی پروپیگنڈے رہے ہیں اوربنگلہ دیش کی آزادی کی تحریک سے کنارہ کشی ہی نہیں بلکہ مغربی پاکستان کی حمایت کرنے کے الزامات بھی ہیں ۔قیام بنگلہ دیش کے بعد سے ہی جماعت اسلامی آزمائش وابتلااو رپابندیوںکا سامنا کرتی رہے ۔

خالدہ ضیاکے دورمیںاقتدار میںشامل بھی رہی ہے۔2005میں حسینہ کی دوسری مرتبہ واپسی کے ساتھ ہی سخت وانتہائی سخت آزمائش و ابتلا کا دور شروع ہوگیا حسینہ کے 15سالہ جابرانہ اور ظالمانہ نظام نے جماعت اسلامی کی پوری قیادت کو پس دیوار زنداںکردیا ۔کئی قائدین کوتختہ دار پر چڑھادیا گیا۔خالدہ ضیااوربی این پی کے لیڈروں کو بھی مشکلات کا سامنا تھا۔

خالدہ ضیا ان برسوںمیںجیل میں بند تھیںاور ان کے بیٹے جلاوطنی کی زندگی گزاررہے تھے مگر جماعت اسلامی کی آزمائش و ابتلا کہیں زیادہ سخت تھی ۔طلبا تنظیم پر پابندی عائد کردی گئی تھی ۔سیاسی جماعت کا درجہ چھین لیا گیا تھا۔جولائی 2024انقلاب کے بعد جماعت اسلامی کے سیاسی جماعت کا درجہ بحال ہوسکا۔اس طرح دیکھا جائے جماعت اسلامی کیلئے یہ کامیابی بہت بڑی کامیابی ہے۔1991میں بی این پی اتحادمیں ہونے کےباوجود جماعت نے محض18سیٹوں پر ہی کامیابی حاصل کی تھی ۔

بنگلہ دیش کی اشرافیہ، اور ان کے ماتحت میڈیا اور بین الاقوامی سازشوںکے باوجود انفرادی طور پر 67سیٹوںپر کامیابی بنگلہ دیش کی سیاست میں ایک نیا آغاز ہے۔‘ انتخابات میں صرف نظریات و فکر کام نہیں کرتی ہے۔انتخاب جیتنے کیلئے کئی اورساری حکمت عملی اور تدبیروںکی ضرورت ہوتی ہے جوجماعت اسلامی اتحادکے پاس نہیں تھا ۔ عوامی مقبولیت میں اضافے اور پذیرائی کے باوجود جماعت اسلامی نے کئی اسٹریجک غلطیاں کیں ، خواتین کو مکمل طور پر ایسے ملک میں نظرانداز کردیا تھا جہاں تین دہائیوں تک دوخاتون کی حکمرانی رہی ہے ہو اور جہاں خواتین آبادی کا 52فیصد ہےاور بنگلہ دیش کی معیشت میں لیبرفورسیس میں خواتین اہم کردار ادا کرتی ہیں تو ایسے میں انتخابی سیاست میں خواتین کو یہہ کہ کر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ہے کہ ان کے پاس لائق خواتین امیدوار نہیں تھے ۔مقامی سطح پر ورکروں کی قلت، انتخابی منیجمینٹ میں خامیوں کے باوجود جماعت اسلامی جذباتی نعروں کے بجائے ایجنڈے کی بنیاد پر انتخاب لڑا اور خواتین کی فلاح بہبود کے ایجنڈے بھی پیش کئے ۔1971کے تاریخی ورثے کو لے کر جاری منفی پروپیگنڈے کا جماعت نے کوئی واضح جواب نہیں دیا ۔

تاہم حقیقت یہ ہے کہ بنگلہ دیش کا 13واں پارلیمانی انتخاب غصے اور روایتی تنظیمی طاقت کے درمیان ایک مقابلہ تھا۔ بی این پی اس لیے نہیں جیتی کہ اس نے قوم میں کوئی نئی روح پھونک دی تھی ، بلکہ وہ اس لیے جیتی کیونکہ وہ بنگلہ دیش کے روایتی ووٹر کے مزاج اور ”جیتنے والے کے ساتھ رہنے” کی نفسیات کو بہتر سمجھتی تھی۔حقائق بتاتے ہیں کہ یہ محض ووٹروں کی پسند کی لہر نہیں تھی، بلکہ ”فرسٹ پاسٹ دی پوسٹ” (FPTP) انتخابی نظام کے ریاضی کا نتیجہ تھا۔اعداد و شمار یہ ثابت کرتا ہے کہ جماعت کی عوامی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ لیکن موجودہ انتخابی نظام میں ووٹ شیئر کا بڑھنا خود بخود 151 نشستوں کی جیت میں تبدیل نہیں ہوتا۔اس انتخاب سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہےکہ بنگلہ دیش کا الیکشن ماضی سے ایک خوش آئند وقفہ ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ ملک میں خاندانی سیاست کتنی گہری جڑیں جما چکی ہے۔

مختلف بین الاقومی میڈیا آئوٹ لیٹ میں لکھنے والے ابو ذاکر کا یہ تجزیہ بہت ہی جامع ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ’’ اگست2024میں حسینہ کی آمریت کے خاتمے کے بعد بی این پی کے نچلے درجے کے کارکنوں پر بدعنوانی اور بھتہ خوری کے الزامات لگے۔ عوامی سطح پر بی این پی کے خلاف شدید غصہ پایا بھی جاتا تھا، اس کا فائدہ جماعتِ اسلامی کو ملا بھی۔ بہت سے ووٹروں نے ”دیانتدار متبادل” کے طور پر جماعت کی طرف رخ بھی کیا۔لیکن یہاں دیہی بنگلہ دیش کی عملی سیاست آڑے آئی۔ شہر کے تعلیم یافتہ ووٹر تو ”اخلاقی حکمرانی” کے نعروں پریقین کیا ۔لیکن دیہی ووٹر عملی سوچ رکھتے ہیں۔ ان کے لیے ایم پی (MP) محض ایک سیاسی عہدہ نہیں بلکہ روزگار، تحفظ اور مسائل حل کرنے والا ایک وسیلہ (Broker) ہوتا ہے۔جماعتِ اسلامی نے جہاں نئے چہروں کو ٹکٹ دیے، وہاں بی این پی نے اپنے پرانے کھلاڑیوں پر بھروسہ کیا جن کے اپنے مضبوط تعلقات اور نیٹ ورک تھے۔ غیر یقینی صورتحال میں ووٹروں نے اس ”مانوس برائی” (The devil they knew) کو چنا جسے وہ جانتے تھے۔ذاکر لکھتے ہیں کہ عوامی لیگ کے بچے کھچے ووٹ بینک کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ تقریباً 20 سے 25 فیصد ووٹر ایسے تھے جنہوں نے اپنی پسند ظاہر نہیں کی تھی۔ ان ووٹروں نے آخر کار بی این پی کا رخ کیا، نظریاتی ہم آہنگی کی جہ سے نہیں بلکہ اس لیے کہ انہیں لگا کہ بی این پی حکومت بنانے والی ہے اور وہ فاتح کے ساتھ رہنا چاہتے تھے۔اس الیکشن میں ایک نئی سیاسی جماعت ‘نیشنل سٹیزن پارٹی’ نے 5 نشستیں جیت کر سب کو حیران کر دیا۔ اگرچہ یہ تعداد چھوٹی ہے، لیکن یہ اس بات کی علامت ہے کہ عوام بی این پی اور جماعت کے متبادل کی تلاش میں ہیں۔

داخلی چیلنجز: طارق رحمان کا اصل امتحان
بنگالیوں کی فطرت میں مزاحمت کا عنصر ہمیشہ نمایاں رہا ہے۔ وفاداری اور ایثار کے تمام تر جذبوں کے باوجود، انہیں طویل عرصے تک دباؤ میں رکھنا ممکن نہیں رہا۔ قیامِ پاکستان سے قبل موجودہ پاکستان کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں بنگال وہ خطہ تھا جہاں سے سب سے پہلے مذہب کی بنیاد پر علیحدہ وطن کا مطالبہ اٹھا؛ مسلم لیگ کی بنیاد ڈھاکہ میں رکھی گئی اور 1905 میں ہی تقسیمِ بنگال کی صورت میں اس کی بنیادیں استوار ہو چکی تھیں۔ لیکن جب مغربی پاکستان کے حکمرانوں نے بنگالیوں کے حقوق کو نظرانداز کیا، تو محض دو دہائیوں میں ہی اس وفاداری نے مزاحمت کی شکل اختیار کر لی۔ یوں مذہب کی بنیاد پر قائم ہونے والا ملک لسانی عصبیت کی نذر ہو گیا۔

بنگلہ دیش کے قیام سے اب تک کی پچاس سالہ تاریخ سراسر جدوجہد کی تاریخ ہے۔ جب شیخ مجیب الرحمن نے جمہوری لیڈر کے بجائے آمرانہ روش اختیار کی اور عوام کو”بندھوا مزدور” سمجھا، تو فوج نے بغاوت کر دی۔ بعد ازاں ضیاء الرحمن ہوں یا جنرل ارشاد، ہر دورِ اقتدار کو عوامی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔شیخ حسینہ واجد نے فوج کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے طویل اقتدار کا خواب دیکھا تھا۔ انہوں نے 1971 کے تاریخی ورثے کی حفاظت کے نام پر بنگلہ دیشی ثقافت سے اسلامی شناخت ختم کرنے کی کوشش کی اور شیخ مجیب کی شخصیت کو ایک “مجاہدِ آزادی” کے مقام سے اٹھا کر “خدائی مرتبے” پر فائز کرنا چاہا تاکہ اپنی آمریت کو دوام دے سکیں۔ لیکن کوٹہ سسٹم کے خلاف اٹھنے والی تحریک حسینہ کے زوال پر منتج ہوئی اور دنیا نے مجیب الرحمن کے بتوں کو پاش پاش ہوتے دیکھا۔ درحقیقت یہ ردِعمل محض ایک شخص کے خلاف نہیں، بلکہ اس آمریت اور مخصوص تہذیب کو تھوپنے کے خلاف تھا جو مجیب کے نام پر مسلط کی گئی تھی۔

بنگالی عوام کا یہی “مزاحمتی مزاج” اب طارق رحمان کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ پروفیسر علی ریاض نے 2024 کے انتخابات پر تبصرہ کرتے ہوئے درست پیش گوئی کی تھی کہ حکومت کے پاس دو ہی راستے ہوں گے: یا تو وہ پسپائی اختیار کر کے سابقہ جمہوری طریقوں پر لوٹ جائے، یا پھر آہنی ہاتھ سے جبر کا راستہ اپنائے۔ عوامی لیگ نے جبر کا انتخاب کیا اور یہی آہنی گرفت ان کے خاتمے کا سبب بنی۔

حسینہ واجد کے دور میں بنگلہ دیش ایشیا پیسیفک کی تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت ضرور بن گیا تھا (جی ڈی پی 71 بلین ڈالر سے بڑھ کر 460 بلین ڈالر تک جا پہنچی)، مگر اس ترقی کے پیچھے بڑھتی ہوئی مہنگائی، طبقاتی عدم مساوات اور نوجوانوں میں بے روزگاری کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔ دولت کا چند ہاتھوں میں ارتکاز عوامی لیگ کے خلاف نفرت کا ایندھن بنا۔

آج حسینہ کے جانے کے بعد بھی مشکلات برقرار ہیں۔ بلند افراطِ زر اور ٹکا کی گرتی ہوئی قدر نے عوام کی قوتِ خرید ختم کر دی ہے۔ ہر سال 20 لاکھ نوجوان لیبر مارکیٹ میں شامل ہو رہے ہیں جبکہ بے روزگاری کی شرح 13.5 فیصد تک جا پہنچی ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی نے درآمدات، توانائی اور مینوفیکچرنگ سیکٹر کو مفلوج کر دیا ہے اور 40 ملین سے زائد عوام خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

معیشت کی بحالی طارق رحمان کا کڑا امتحان ہوگا۔ سیاسی استحکام کے باوجود معاشی بہتری میں وقت لگتا ہے۔ بینکاری کا شعبہ بدانتظامی اور ڈوبے ہوئے قرضوں (Bad Loans) کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ بیرونی سرمایہ کار غیر یقینی صورتحال اور امن و امان کے مسائل کی وجہ سے ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔
بی این پی کو ملنے والا ممکنہ عوامی مینڈیٹ انہیں سخت فیصلے کرنے کا موقع فراہم کرے گا، جن میں مالیاتی نظم و ضبط اور سرمایہ کاری کے ماحول میں شفافیت لانا شامل ہے۔ تاہم، اعتماد کی بحالی محض بیانات سے نہیں بلکہ پالیسیوں کے تسلسل سے ہوگی۔ سرمایہ کار اور عوام اب قواعد کے استحکام (Stability of Rules) کی توقع رکھتے ہیں۔

آمرانہ طرزِ حکمرانی میں اداروں کا زوال ناگزیر ہوتا ہے۔ گزشتہ 15 برسوں میں بنگلہ دیش کا کوئی بھی ادارہ خود مختار نہیں رہا۔ اگرچہ عبوری حکومت نے کچھ بہتری کی بنیاد رکھی ہے، مگر اداروں کی ازسرِ نو تشکیل کا اصل کام ابھی باقی ہے۔ پارلیمنٹ کے وقار کی بحالی، عدلیہ کی آزادی، فوج کو سول معاملات سے دور رکھنا اور پولیس کو سیاسی اثر و رسوخ سے پاک کرنا بڑے اہداف ہیں۔بی این پی کا اپنا ماضی بھی داغدار رہا ہے۔ پارٹی کے لیے یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ ماضی میں (1979، 1996 اور 2006 میں) جمہوری عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں خود اس کے لیے اور اس کی قیادت کے لیے نیک شگون ثابت نہیں ہوئیں۔ طارق رحمان کو اب یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ واقعی ایک آزاد اور غیر جانبدار الیکشن کمیشن پر یقین رکھتے ہیں، جو قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اپنا بھرپور قانونی اختیار استعمال کرنے کی ہمت رکھتا ہو۔

نئی جیو پولیٹکس کی تشکیل اور بین الاقوامی تعلقات میں توازن

بنگلہ دیش رقبے کے لحاظ سے بظاہر ایک چھوٹا ملک ہے، مگر گزشتہ 18 ماہ سے یہ عالمی جیو پولیٹکس کا اہم مرکز بنا ہوا ہے۔ چین، بھارت، پاکستان اور امریکہ، سبھی کی نظریں اس خطے پر جمی ہوئی تھیں۔ بنگلہ دیشی انتخابات کے نتائج کے بعد اب عالمی طاقتیں اس سوال کا جواب تلاش کر رہی ہیں کہ طارق رحمان کا بطور وزیر اعظم ابھرنا کس کے مفاد میں ہوگا؟ بھارتی میڈیا کے تجزیوں سے ایک گونہ اطمینان جھلک رہا ہے کہ جماعتِ اسلامی کامیاب نہیں ہوئی، تاہم اصل سوال یہ ہے کہ کیا طارق رحمان، حسینہ واجد کی “بھارت پر حد درجہ انحصار” کی پالیسی کو برقرار رکھیں گے؟ اس کی امید بہت کم دکھائی دیتی ہے۔

بنگلہ دیش جغرافیائی طور پر تین اطراف سے بھارت میں گھرا ہوا ہے اور اس کی چار ہزار کلومیٹر طویل سرحد بھارت سے ملتی ہے۔ تاریخی طور پر دونوں ممالک کے تعلقات گہرے رہے ہیں، لیکن حسینہ واجد کے دور میں یہ تعلق محض دوطرفہ تعاون سے بڑھ کر ایک مخصوص سیاسی وابستگی میں بدل گیا تھا۔ حالیہ برسوں میں بھارت میں بنگلہ دیشی شہریوں کے خلاف نفرت انگیز مہم اور “بنگالی” کی شناخت کو بطور گالی استعمال کیے جانے نے بنگلہ دیشی عوام میں شدید غم و غصہ پیدا کیا۔ جولائی انقلاب کے دوران یہ تاثر عام تھا کہ حسینہ واجد کے ہر غیر آئینی اقدام کے پیچھے دہلی کا ہاتھ ہے۔
حسینہ واجد کو بھارت میں پناہ دینے کے بعد تعلقات اس حد تک کشیدہ ہو چکے ہیں کہ بنگلہ دیش نے سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر بھارت میں شیڈول عالمی مقابلوں سے بھی معذرت کر لی ہے۔ اگرچہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے طارق رحمان کو مبارکباد دیتے ہوئے مل کر کام کرنے کا اعادہ کیا ہے، مگر اعتماد کی بحالی کا راستہ ہموار نہیں ہے۔ برطانوی اخبار ‘دی گارڈین’ کے مطابق، طارق رحمان نے واضح کیا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ صرف “باہمی احترام اور برابری” کی بنیاد پر تعلقات چاہتے ہیں۔

امریکی میڈیا آؤٹ لیٹ ‘بلومبرگ’ کا تجزیہ ہے کہ بھارت نے اپنی تمام تر بنگلہ دیش پالیسی حسینہ واجد کی ذات پر مرکوز رکھی، جو ایک سنگین اسٹریٹجک غلطی ثابت ہوئی۔ اس کے برعکس بی این پی کی خارجہ پالیسی کسی ایک ملک کے گرد نہیں گھومتی۔ وہ اپنے نوجوان ووٹرز کے مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے “سب کے ساتھ توازن” کی پالیسی اپنا رہے ہیں۔

یہ صورتحال چین کے لیے ایک سنہرا موقع بن کر ابھری ہے۔ چین پہلے ہی بنگلہ دیش کو اسلحہ فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ عبوری حکومت کے سربراہ ڈاکٹر محمد یونس کا روایتی طور پر بھارت کے بجائے چین کا پہلا غیر ملکی دورہ اسٹریٹجک تبدیلی کا واضح اشارہ تھا۔ جہاں بھارت نے صرف ایک سیاسی شخصیت پر تکیہ کیا، وہاں چین نے ریاست کے ساتھ طویل مدتی سرمایہ کاری اور انفراسٹرکچر پر توجہ دی، جس کا صلہ اسے حکومت کی تبدیلی کے باوجود مل رہا ہے۔

اس جیو پولیٹیکل کھیل میں امریکہ نے ایک نیا کارڈ کھیلا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی خام مال سے تیار کردہ بنگلہ دیشی ملبوسات پر “زیرو ٹیرف” کی سہولت دے کر بنگلہ دیشی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی یعنی ٹیکسٹائل صنعت کو بڑی آکسیجن فراہم کی ہے۔ یہ بھارت کے ٹیکسٹائل مینوفیکچررز کے لیے ایک بڑا معاشی دھچکا ہے۔

دوسری جانب، پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں دو دہائیوں بعد حیرت انگیز گرمجوشی دیکھی جا رہی ہے۔ براہِ راست فضائی سروس کی بحالی، تجارتی معاہدے اور فوجی حکام کے درمیان رابطے اس بات کا ثبوت ہیں کہ دونوں مسلم ممالک ماضی کی تلخیاں پسِ پشت ڈال کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ بنگلہ دیش کا پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھانا بھارت کے لیے ایک حساس اور تشویشناک معاملہ ہے۔

بنگلہ دیش اور بھارت ایک دوسرے کی ضرورت ہیں۔ بھارت کو اپنی شمال مشرقی ریاستوں (Seven Sisters) تک رسائی کے لیے بنگلہ دیش کی سرزمین درکار ہے، جبکہ بنگلہ دیشی مصنوعات کے لیے بھارت ایک بڑی منڈی ہے۔ تاہم، بھارتی انتہا پسند عناصر کی نفرت انگیزی نے بھارت کو خارجہ محاذ پر تنہا کر دیا ہے اور بنگلہ دیشی عوام کو فطری طور پر پاکستان اور چین کے قریب دھکیل دیا ہے۔

طارق رحمان کے لیے سب سے بڑا چیلنج اپنی والدہ خالدہ ضیا کی “متوازن خارجہ پالیسی” کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ہے۔ انہیں ایک طرف داخلی عوامی دباؤ کا سامنا ہے کہ وہ بھارت کے سامنے جھکنے کے بجائے برابری کی بنیاد پر بات کریں، اور دوسری طرف امریکہ اور چین کی عالمی کشمکش میں اپنے ملک کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ بنگلہ دیش اب محض ایک جیو پولیٹیکل مہرہ بننے پر تیار نہیں ہے، اور یہی طارق رحمان کی سیاست کا اصل امتحان ہوگا۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین