نئی دہلی: انصاف نیوز آن لائن
بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر اب محض انتخابی مہموں کا حصہ نہیں رہیں بلکہ یہ ‘سیاسی طرزِ حکمرانی کا مستقل آلہ بن چکی ہیں۔ انڈیا ہیٹ لیب (IHL) کی سالانہ رپورٹ 2025 کے مطابق گزشتہ ایک سال میں نفرت انگیز تقاریر کے1318تصدیق شدہ واقعات ریکارڈ کیے گئے، جو کہ اوسطاً روزانہ چار واقعات بنتے ہیں۔
نفرت کی لہر میں ہوش ربا اضافہ
رپورٹ کے مطابق، 2024 کے مقابلے میں ان واقعات میں 13 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ 2023 (668 واقعات) کے مقابلے میں یہ اضافہ 97 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بھارت میں نفرت انگیز بیانیے کو باقاعدہ ‘مضبوطی (Consolidation) مل رہی ہے۔
رپورٹ کا سب سے نمایاں پہلو ان واقعات کا جغرافیائی اور سیاسی تعلق ہے۔ کل واقعات میں سے88 فیصد (1164واقعات)بی جے پی زیرِ انتظام ریاستوں یا وفاقی علاقوں میں پیش آئے۔
سب سے زیادہ متاثرہ علاقے
اتر پردیش: 266 واقعات
مہاراشٹر: 193 واقعات
مدھیہ پردیش 172 واقعات
اتراکھنڈ: 155 واقعات
دہلی: 76 واقعات
رپورٹ کے مطابق، اپوزیشن کی زیرِ حکومت ریاستوں میں ان واقعات میں 34 فیصد کمی دیکھی گئی، جو واضح سیاسی سرپرستی کی نشاندہی کرتی ہے۔
ہدف کون؟ مسلمان اور عیسائی نشانے پر
انڈیا ہیٹ لیب کے مطابق
1. مسلمان: کل واقعات کے 98 فیصد (1289کیسز)میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
2. عیسائی: عیسائی برادری کے خلاف نفرت میں 41 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا (162 واقعات)
نفرت کا بیانیہ: ‘سازشی جہاد اور غیر انسانی زبان
نفرت پھیلانے کے لیے 656 تقاریر (تقریباً نصف) میں مختلف قسم کے ‘جہاد کے سازشی نظریات استعمال کیے گئے۔ ‘’’لو جہاد‘‘ اور ‘لینڈ جہاد کے ساتھ ساتھ اب ’’تھوک جہاد‘‘’’ایجوکیشن جہاد‘‘ اور’’ڈرگ جہاد‘‘جیسی من گھڑت اصطلاحات بھی شامل کر لی گئی ہیں۔
’’تشویشناک رجحانات‘‘
’’تشدد کی پکار: 308 تقاریر میں کھلے عام تشدد اور 136 میں ہتھیار اٹھانے کا مطالبہ کیا گیا۔
’’تذلیل‘‘: 141 تقاریر میں اقلیتوں کے لیے ’’دیمک‘‘، ’’کیڑے‘‘، ’’پاگل کتے‘‘ اور ’’خونخوار زومبی‘‘ جیسے توہین آمیز الفاظ استعمال کیے گئے۔
’’خطرناک تقاریر اور مرکزی کردار::
ریاست مہاراشٹرخطرناک تقاریر میں سرفہرست رہی جہاں 40 فیصد واقعات میں براہِ راست تشدد پر اکسایا گیا۔ رپورٹ میں چند اہم شخصیات کو سب سے زیادہ فعال پایا گیا
پشکر سنگھ دھامی (وزیر اعلیٰ اتراکھنڈ): 71 تقاریر
پروین توگڈیا: 46 تقاریر
اشونی اپادھیائے (بی جے پی رہنما): 35 تقاریر
تنظیموں میں ’’وشوا ہندو پریشد‘‘ (VHP)اور ’’بجرنگ دل‘‘ سب سے زیادہ واقعات (22 فیصد) منعقد کرنے کے ذمہ دار پائے گئے۔
سوشل میڈیا: نفرت کا عالمی پلیٹ فارم
رپورٹ بتاتی ہے کہ مقامی سطح پر ہونے والی نفرت صرف وہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ سوشل میڈیا کے ذریعے اسے ملک گیر بنایا جاتا ہے۔
فیس بک: 942 ویڈیوز کے ساتھ سرفہرست
یوٹیوب: 246 ویڈیوز
ادارہ جاتی ہچکچاہٹ: جمہوریت کے لیے خطرہ
رپورٹ کے اختتام پر متنبہ کیا گیا ہے کہ جب نفرت انگیز تقریر ‘معمول بن جاتی ہے، تو یہ دو متوازی حقائق پیدا کرتی ہے۔ ایک وہ جو آئین میں مساوات کا وعدہ کرتا ہے، اور دوسرا وہ جو سڑکوں پر اقلیتوں کو ذلت اور خوف قبول کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ رپورٹ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس بڑھتی ہوئی لہر کو روکنے کے لیے فوری ایف آئی آر، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر سختی اور شفاف عوامی احتساب ناگزیر ہے۔
