Friday, February 27, 2026
homeاہم خبریںدہلی :ترکمان گیٹ میں فیضِ الٰہی مسجد کے قریب انہدامی کارروائی، مظاہرے،...

دہلی :ترکمان گیٹ میں فیضِ الٰہی مسجد کے قریب انہدامی کارروائی، مظاہرے، آنسو گیس، 10 افراد حراست میں

نئی دہلی:

دہلی کے پرانے شہر میں ترکمان گیٹ اور رام لیلا میدان کے علاقے میں واقع فیضِ الٰہی مسجد کے قریب میونسپل کارپوریشن آف دہلی (MCD) کی جانب سے انسدادِ تجاوزات مہم کے دوران بدھ کی صبح حالات کشیدہ ہو گئے، جب مقامی افراد اور پولیس کے درمیان جھڑپ ہوئیں۔ انتظامیہ کے مطابق پتھراؤ میں پانچ پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔

دہلی پولیس کے مطابق یہ انہدامی کارروائی دہلی ہائی کورٹ کی ہدایات پر مسجد اور قریبی قبرستان سے متصل سرکاری زمین پر غیر قانونی تعمیرات ہٹانے کے لیے کی گئی تھی۔ کارروائی صبح 8 بجے شروع ہونی تھی، تاہم بھاری پولیس نفری اور بلڈوزروں کے ساتھ اسے رات تقریباً 1:30بجے شروع کیا گیا۔

جوائنٹ کمشنر آف پولیس مادھور ورما نے بتایا کہ کارروائی کے دوران لوگ جمع ہو گئے اور ایک چھوٹے گروپ نے پولیس پر پتھراؤ شروع کیا۔ انہوں نے کہاکہ ، ’’واقعے میں ملوث افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، دیگر کی شناخت کر لی گئی ہے اور جلد گرفتاریاں کی جائیں گی۔

ڈی سی پی ندھِن والسَن نے کہا کہ بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے داغے گئے۔ ’’پولیس پر پتھراؤ کیا گیا، ہم نے کم سے کم طاقت استعمال کی اور جلد حالات معمول پر آ گئے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج، ویڈیوز اور باڈی کیمروں کی ریکارڈنگ کی جانچ کی جا رہی ہے۔

پولیس کے مطابق ہنگامہ آرائی، سرکاری ملازمین پر حملہ اور سرکاری کام میں رکاوٹ ڈالنے سے متعلق دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ اب تک 10 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

دہلی میونسپل کارپوریشن نے وضاحت کی کہ مسجد کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا گیا ہے ۔ ایم سی ڈی کے مطابق صرف غیر قانونی تجارتی ڈھانچوں، جیسے بینکوئیٹ ہال، ڈائگناسٹک سینٹر اور دیگر غیر مجاز تعمیرات کو گرایا گیا ہے۔ دہلی کے میئر راجہ اقبال سنگھ نے کہا کہ کارروائی عدالتی احکامات کے مطابق مکمل کی گئی ہے اور ملبہ ہٹایا جا رہا ہے۔

یہ کارروائی 22 دسمبر کو جاری نوٹس کے بعد کی گئی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ 0.195ایکڑ سے زائد رقبے پر قائم ڈھانچے غیر قانونی ہیں۔ ایم سی ڈی نے دعویٰ کیا کہ مسجد کے زیرِ استعمال زمین کے علاوہ کسی اضافی رقبے کی ملکیت یا قانونی قبضے کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا ہے۔

مسجد فیض الٰہی کی انتظامیہ نے اس کارروائی کے خلاف دہلی ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی ہے، جس میں کہا گیا کہ مسجد اور قبرستان سو سال سے زائد پرانے ہیں اور دہلی وقف بورڈ کے تحت آتے ہیں۔ منگل کو ہائی کورٹ نے معاملے پر غور کی ضرورت بتاتے ہوئے متعلقہ اداروں سے چار ہفتوں میں جواب طلب کیا۔ اگلی سماعت 22 اپریل کو ہوگی۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین