Wednesday, January 7, 2026
homeاہم خبریںعمر خالد اور شرجیل امام کی درخواست ضمانت مسترد -دیگر ملزمان گل...

عمر خالد اور شرجیل امام کی درخواست ضمانت مسترد -دیگر ملزمان گل فشاں فاطمہ، میران حیدر، شفاالرحمن، شاداب احمد اور محمد سلیم خان کو ضمانت ملی

نئی دہلی :
سپریم کورٹ نے پیر کے روز عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔ ان پر 2020 کے دہلی فسادات کے مبینہ ”بڑے سازشی معاملے“ میں غیر قانونی سرگرمیاں (انسداد) ایکٹ (UAPA) کے تحت الزامات عائد ہیں۔

تاہم جسٹس اروند کمار اور جسٹس این وی انجاریہ پر مشتمل بنچ نے پانچ دیگر ملزمان—گلفشاں فاطمہ، میران حیدر، شفاالرحمن، شاداب احمد اور محمد سلیم خان—کو ضمانت دے دی۔

عدالت نے کہا کہ ساتوں ملزمان کی ضمانت کی درخواستوں کا انفرادی طور پر جائزہ لیا جانا چاہیے کیونکہ ذمہ داری (culpability) کے اعتبار سے سب ایک ہی سطح پر نہیں ہیں۔

بنچ نے کہاکہ “عمر خالد اور شرجیل امام دیگر ملزمان کے مقابلے میں معیاری طور پر مختلف حیثیت رکھتے ہیں۔

عدالت نے کہا کہ ریکارڈ پر موجود مواد عمر خالد اور شرجیل امام کے خلاف بادی النظر (prima facie) کیس ظاہر کرتا ہے۔

عدالت نے کہا کہ “یہ عدالت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ استغاثہ کے مواد سے اپیل کنندگان عمر خالد اور شرجیل امام کے خلاف بادی النظر الزامات ظاہر ہوتے ہیں۔ ان اپیل کنندگان کے حوالے سے قانونی حد پوری ہوتی ہے۔ کارروائی کے اس مرحلے پر انہیں ضمانت پر رہا کرنا مناسب نہیں۔”

البتہ عدالت نے کہا کہ محفوظ گواہوں کے بیانات مکمل ہونے یا موجودہ حکم نامے کے ایک سال بعد خالد اور امام دوبارہ ضمانت کی درخواست دے سکتے ہیں۔

باقی پانچ ملزمان کے بارے میں عدالت نے سخت شرائط کے ساتھ ضمانت منظور کی۔

عدالت نے کہا کہ مقدمے میں تاخیر، حتیٰ کہ UAPA کے تحت مقدمات میں بھی، عدالتی جانچ کے لیے محرک بن سکتی ہے۔عدالت نے کہا کہ “UAPA بطورِ خاص قانون اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ قبل از سماعت مرحلے میں کن شرائط پر ضمانت دی جا سکتی ہے۔ تاخیر، سخت عدالتی جانچ کے لیے محرک بنتی ہے۔ بحث کو تاخیر اور طویل حراست تک محدود رکھا گیا ہے۔ UAPA کے تحت جرائم عموماً الگ تھلگ اعمال تک محدود نہیں ہوتے۔ قانونی خاکہ اسی فہم کی عکاسی کرتا ہے۔”

بنچ نے اس بات پر زور دیا کہ آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت آزادی کا حق ریاست سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ وہ طویل قبل از سماعت حراست کا جواز پیش کرے۔

عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ UAPA مقدمات میں ضمانت معمول کے طور پر نہیں دی جاتی، لیکن قانون یہ بھی لازم نہیں کرتا کہ ضمانت بطورِ اصول مسترد ہی کی جائے، اور نہ ہی عدالت کے اختیار کو ختم کرتا ہے۔
عدالت نے کہاکہ ”‘UAPA کی دفعہ 43D(5) ضمانت کے عمومی اصولوں سے ہٹتی ہے، مگر یہ عدالتی جانچ کو خارج نہیں کرتی اور نہ ہی ضمانت کی خودکار (default) طور پر نفی کرتی ہے“۔’

یہ فسادات فروری 2020 میں ا±س وقت ہوئے جب مجوزہ شہریت ترمیمی قانون (CAA) کے خلاف جھڑپیں ہوئیں۔ دہلی پولیس کے مطابق ان فسادات میں 53 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔موجودہ کیس میں الزام ہے کہ ملزمان نے فسادات کرانے کے لیے ایک بڑی سازش رچی تھی ۔ اس کیس میں ایف آئی آر دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے تعزیراتِ ہند (IPC) اور UAPA کی مختلف دفعات کے تحت درج کی تھی۔

عمر خالد کو ستمبر 2020 میں گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر مجرمانہ سازش فساد غیر قانونی اجتماع اور UAPA کے تحت دیگر کئی الزامات عائد کیے گئے۔ تھے

شرجیل امام کے خلاف بھی مختلف ریاستوں میں متعدد ایف آئی آر درج کی گئیں، جن میں زیادہ تر بغاوت (سیڈیشن) اور UAPA کے الزامات شامل ہیں۔ اگرچہ وہ دیگر معاملات میں ضمانت حاصل کر چکے ہیں، لیکن بڑے سازشی کیس میں ابھی تک انہیں ضمانت نہیں ملی ہے۔

خالد اور دیگر ملزمان نے دہلی ہائی کورٹ کے 2 ستمبر کے ضمانت مسترد کرنے والے حکم کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے 22 ستمبر کو دہلی پولیس کو نوٹس جاری کیا تھا۔

ضمانت کی درخواستوں کے جواب میں دہلی پولیس نے حلف نامہ داخل کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ناقابلِ تردید دستاویزی اور تکنیکی شواہد موجود ہیں جو ”ریجیم چینج آپریشن“، ملک گیر فرقہ وارانہ فسادات بھڑکانے اور غیر مسلموں کو قتل کرنے کے منصوبوں کی سازش کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

31 اکتوبر کی سماعت کے دوران ملزمان نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے تشدد کی کوئی اپیل نہیں کی اور وہ صرف CAA کے خلاف پ±رامن احتجاج کے اپنے حق کا استعمال کر رہے تھے۔دوسری جانب دہلی پولیس نے دلیل دی کہ چھ ملزمان ا±ن تین دیگر ملزمان کے ساتھ برابری (parity) کا دعویٰ نہیں کر سکتے جنہیں پہلے دہلی ہائی کورٹ سے ضمانت مل چکی ہے۔

18 نومبر کو سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے دہلی پولیس کی جانب سے مو¿قف اختیار کیا کہ فسادات پہلے سے منصوبہ بند تھے اور اچانک نہیں ہوئے۔ ان کے مطابق ملزمان کی تقاریر معاشرے کو فرقہ وارانہ خطوط پر تقسیم کرنے کے ارادے سے کی گئیں۔

20 نومبر کی سماعت میں دہلی پولیس نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ ملزمان ”ملک دشمن“ ہیں جنہوں نے تشدد کے ذریعے حکومت گرانے کی کوشش کی۔21 نومبر کو بھی اسی نوعیت کے دلائل دیے گئے، جب پولیس نے کہا کہ ملزمان نے بنگلہ دیش اور نیپال میں حالیہ فسادات کی طرز پر بھارت میں بھی فسادات کے ذریعے ریجیم چینج کی کوشش کی۔3 دسمبر کو سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے چھ ملزمان کو عدالت میں اپنے مستقل پتے جمع کرانے کی ہدایت دی۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین