Friday, February 20, 2026
homeاہم خبریںغزہ جنگ پر کوثر بن ہنیہ کا احتجاج: برلن میں ایوارڈ لینے...

غزہ جنگ پر کوثر بن ہنیہ کا احتجاج: برلن میں ایوارڈ لینے سے انکار، اسرائیلی نسل کشی کے احتساب کا مطالبہ

برلن: انصاف نیوز آن لائن

برلن میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران تیونسی فلم ڈائریکٹر کوثر بن ہنیہ نے ایوارڈ لینے سے انکار کر دیا اور اپنی ٹرافی اسٹیج پر ہی چھوڑ دی، تاکہ غزہ میں اسرائیل کی جانب سے جاری نسل کشی کی جنگ کو حاصل بین الاقوامی سیاسی پشت پناہی کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرایا جا سکے۔

بن ہنیہ نے ’سنیما فار پیس‘ (Cinema for Peace) گالا میں اپنے پروجیکٹ The Voice of Hind Rajab” (ہند رجب کی آواز) کے لیے دیا جانے والا ’’سب سے قیمتی فلم‘‘ (Most Valuable Film) کا انعام قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیلی فوج کے ہاتھوں پانچ سالہ فلسطینی بچی ہند رجب کا قتل کوئی اتفاقی واقعہ نہیں تھا بلکہ ایک منظم نسل کشی کا حصہ تھا۔

حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا:
“امن کوئی ایسی خوشبو نہیں ہے جسے تشدد پر چھڑک دیا جائے تاکہ طاقتور لوگ خود کو مہذب اور پرسکون محسوس کر سکیں۔ اگر ہم امن کی بات کرتے ہیں تو ہمیں انصاف کی بات بھی کرنی ہوگی، اور انصاف کا مطلب احتساب ہے۔”

انہوں نے الزام عائد کیا کہ اسرائیلی فوج نے ہند رجب، ان کے خاندان اور انہیں بچانے کے لیے بھیجے گئے دو پیرامیڈکس (طبی عملے کے ارکان) کو دنیا کی طاقتور حکومتوں اور اداروں کی مبینہ حمایت کے سائے میں قتل کیا۔

بن ہنیہ نے اس بات سے بھی انکار کیا کہ فلم انڈسٹری ان کی دستاویزی فلم کو اپنے “امیج کو بہتر بنانے” (Image Laundering) کے لیے استعمال کرے۔ انہوں نے ایوارڈ پوڈیم پر ہی چھوڑ دیا تاکہ ان ڈھانچوں کی یاد دہانی کرائی جا سکے جنہوں نے بڑے پیمانے پر شہری ہلاکتوں کو ممکن بنایا۔

انہوں نے مزید کہا:
“میں اس بات کو مسترد کرتی ہوں کہ فلسطینیوں کی اموات امن کے بارے میں ایک شائستہ تقریر کا پس منظر بن جائیں۔ جب امن کو ایک قانونی اور اخلاقی فریضے کے طور پر، نسل کشی کے احتساب کی بنیاد پر حاصل کیا جائے گا، تب میں واپس آؤں گی اور اسے خوشی سے قبول کروں گی۔”

برلن میں ان کا یہ عوامی موقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فلمی دنیا کی 80 سے زائد ممتاز شخصیات — جن میں اداکار جیویر بارڈیم، ٹلڈا سوئنٹن، برائن کاکس اور ہدایت کار مائیک لی اور ایڈم میک کے شامل ہیں — نے ایک کھلے خط پر دستخط کیے ہیں۔ اس خط میں ’برلن انٹرنیشنل فلم فیسٹیول‘ (برلینالے) پر تنقید کی گئی ہے، جو اسی ماہ جرمنی کے دارالحکومت میں منعقد ہو رہا ہے۔

’فلم ورکرز فار فلسطین‘ کی جانب سے جاری کیے گئے اس خط میں برلینالے کی مبینہ “فلسطین مخالف فضا” اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں پر جوابدہی کا مطالبہ نہ کرنے پر تنقید کی گئی ہے۔ خط میں یہ بھی کہا گیا کہ فیسٹیول نے یوکرین اور ایران کے لیے تو بھرپور یکجہتی دکھائی، مگر غزہ کے معاملے پر خاموشی اختیار کیے رکھی۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین