Friday, April 10, 2026
homeاہم خبریںنواب بہادر انسٹی ٹیوشن: 200سالہ تاریخ کے سائے میں سسکتا اردو میڈیم...

نواب بہادر انسٹی ٹیوشن: 200سالہ تاریخ کے سائے میں سسکتا اردو میڈیم اور ایس آئی آر کا المیہ

نور اللہ جاوید(مرشدآباد سے خصوصی رپورٹ)

مرشد آباد کے ”نواب بہادر انسٹی ٹیوشن“ کی ہر ہر تہہ میں تاریخ رچی بسی ہے۔ یہاں کا نظامت ہاسٹل، دربار ہال، بلند و بالا گنبد اور اسکولی عمارت آج بھی اس تعلیمی ادارے میں نوابی دور کی یادوں کو تازہ رکھے ہوئے ہیں۔

مرشد آباد کا نواب خاندان ان دنوں ایس آئی آر (ووٹنگ لسٹ کی خصوصی نظر ثانی) کی وجہ سے سرخیوں میں ہے۔ الیکشن کمیشن کے تعصبانہ نظام کے باعث خاندان کے 300سے زائد افراد کے نام ووٹر لسٹ سے خارج کر دیے گئے ہیں۔ یہاں تک کہ نظامت فیملی کے چھوٹے نواب کا نام بھی اس فہرست میں جگہ نہیں بنا سکا ہے۔ یہ ستم ظریفی اپنی جگہ، مگر وقت کے ساتھ ساتھ مرشد آباد کے نوابین کی یادیں بھی مدھم پڑتی جا رہی ہیں۔ نوابین کے خاندان آج بھی موجود ہیں، لیکن یہاں کی گلیاں اور منہدم ہوتی تاریخی عمارتیں گزرے ہوئے شاندار عہد کی خاموش گواہ ہیں۔

مرشد آباد کے ’نواب بہادر انسٹی ٹیوشن“*کی ہر ہر تہہ میں تاریخ رچی بسی ہے۔ یہاں کا نظامت ہاسٹل، دربار ہال، بلند و بالا گنبد اور اسکولی عمارت آج بھی اس تعلیمی ادارے میں نوابی دور کی یادوں کو تازہ کرتے ہیں –

نواب بہادر انسٹی ٹیوشن“صرف ایک تاریخی عمارت نہیں بلکہ ایک ایسا ادارہ ہے جس نے گزشتہ 200 برسوں سے مرشد آباد کے تہذیب و تمدن کی ترتیب و تزئین میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ یہ ادارہ دراصل نوابوں کے عہد کا ایک کالج اور مدرسہ تھا۔ نواب ناظم سید محمد علی خاں (عرف ولاجاہ)نوابی خاندان کے چشم و چراغوں کو مغربی تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے ہزار دواری کے قریب ایک کالج قائم کرنا چاہتے تھے۔ 1824 میں ان کے انتقال کے بعد، ان کے لائق جانشین نواب ہمایوں جاہ کی سفارش پر برطانوی ہند کے گورنر جنرل نے 27 مئی 1825 کو اس کالج کے قیام کی منظوری دی۔

1909 میں نواب بہادر واصف علی مرزا نے تعلیمی سہولیات کو وسعت دیتے ہوئے کالج اور مقامی اسکول کو ضم کر دیا، جس کے بعد اس کا نام ’نواب بہادر انسٹی ٹیوشن‘ رکھ دیا گیا۔ اس اسکول کا ایک اہم تاریخی پہلو یہ بھی ہے کہ یہ اردو زبان و ادب کا عظیم مرکز رہا ہے، مگر آج صورتحال یہ ہے کہ یہاں اردو کے طلباء کی تعداد دن بدن کم ہو رہی ہے، حالانکہ مرشد آباد شہر میں اب بھی اردو بولنے والوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔

اسکول کے ہیڈ ماسٹر مسعود عالم کہتے ہیں کہ انہوں نے چارج سنبھالنے کے بعد سے اردو طلباء کی تعداد میں اضافے کی بھرپور کوشش کی ہے، لیکن روزگار کے مواقع کی کمی کے باعث طلباء اردو میڈیم میں داخلہ لینے سے کتراتے ہیں۔ ان کے مطابق حالیہ برسوں میں جس تیزی سے تعداد کم ہوئی ہے، اس سے اردو میڈیم شعبے کے بند ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ کسی زمانے میں یہاں 500 سے زائد طلباء اردو میڈیم میں زیرِ تعلیم تھے، جو اب محض 55 رہ گئے ہیں۔

اسکول کے سابق طالب علم اور سابق آئی پی ایس افسر ایس ایم مرزا نے ’انصاف نیوز آن لائن‘سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ اسکول ایک تاریخی اثاثہ ہے۔ مرشد آباد کی تہذیب کے فروغ میں اس کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔ یہاں سے اردو میڈیم میں تعلیم پانے والے کئی افراد اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوئے۔ انہوں نے خود بھی اسی ہاسٹل میں رہ کر تعلیم حاصل کی۔ مرزا صاحب کا ماننا ہے کہ درمیان میں اردو کے تئیں کچھ بے توجہی برتی گئی، مگر اب دوبارہ یہاں اردو کی محفلیں سجنے لگی ہیں اور امید ہے کہ طلباء کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔

سابق طالب علم سید افضل رضانے تاریخی ورثے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس اسکول کا ہاسٹل اپنی مثال آپ تھا جہاں نوابی خاندان کے بچوں کی تربیت کی جاتی تھی، مگر اب وہ سب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ جو کبھی نوابوں کا دربار ہال تھا، اب اساتذہ کا اسٹاف روم ہے۔ نظامت ہاسٹل میں اب بھی نوابی خاندان کے 27 طلباء موجود ہیں۔ پرانی روایت کے مطابق آج بھی ان بورڈرز کے قیام و طعام اور دیگر ضروری اخراجات ادارہ ہی برداشت کرتا ہے۔

تاہم طلباء اب رات میں یہاں قیام نہیں کرتے کیونکہ **’اتالیق‘** کا عہدہ ختم ہو چکا ہے۔ اتالیق (جس کا شیعہ مسلک سے ہونا لازمی تھا) نواب زادوں کی مذہبی اور اخلاقی تربیت کا ذمہ دار ہوتا تھا۔ سنہ 2000 میں آخری اتالیق **سید آفاق علی مرزا** (جو ایک بہترین شاعر بھی تھے) کی سبکدوشی کے بعد قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے اس عہدے پر نئی تقرری نہ ہو سکی۔

نوابی روایات آج بھی یہاں کے دسترخوان پر زندہ ہیں۔ ہر ہفتہ (سنیچر) کو نظامت ہاسٹل کے طلباء کے لیے mٹن بریانی اور شاہی ٹکڑاکا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے۔ ہیڈ ماسٹر مسعود عالم فخر سے کہتے ہیں، کسی روز ہفتے کے دن آئیں، تو آپ کو یہاں کی نوابی ضیافت کا اندازہ ہوگا

تاریخی اہمیت کے حامل اس ادارے کو ’ہیریٹیج‘ (تاریخی ورثہ) قرار دینے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ مقامی عوام اور سابق طلباء کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک اسکول نہیں بلکہ ہماری شناخت ہے، جسے بچانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔”کیا مرشد آباد کی اس عظیم علمی وراثت اور اردو مرکز کو بچانے کے لیے حکومت اور سماج کو مل کر قدم نہیں اٹھانا چاہیے؟”

متعلقہ خبریں

تازہ ترین