**کیا غیر تسلیم شدہ مدارس کو چلانے سے روکا جا سکتا ہے؟ الٰہ آباد ہائی کورٹ کا واضح مؤقف**
درخواست گزار نے شراوستی ضلع کے اقلیتی بہبود افسر کے مدرسہ بند کرنے کے حکم کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔
**لکھنؤ/شراوستی: ایکسپریس نیوز سروس**
الٰہ آباد ہائی کورٹ نے واضح کیا ہے کہ محض کسی مدرسے کے غیر تسلیم شدہ (Non-Recognised) ہونے کی بنیاد پر اس کی سرگرمیوں کو روکا نہیں جا سکتا۔ عدالت نے شراوستی ضلع کے اقلیتی بہبود افسر کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایک نجی مدرسے پر لگائی گئی مہر (سیل) 24 گھنٹوں کے اندر ہٹا دے۔
یہ حکم الٰہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے جسٹس سبھاش ودیارتھی کی سربراہی میں اس عرضی کو منظور کرتے ہوئے دیا، جو مدرسہ اہلِ سنت امام احمد رضا کی جانب سے اس کے منیجر عبدالرحمن کے ذریعے دائر کی گئی تھی۔
درخواست گزار نے یکم مئی 2025 کو جاری کیے گئے اس حکم کو چیلنج کیا تھا، جس میں شراوستی کے ضلع اقلیتی بہبود افسر نے مدرسے کو منظوری نہ ہونے کی بنیاد پر بند کرنے کی ہدایت دی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اتر پردیش نان گورنمنٹل عربی و فارسی مدارس (منظوری، انتظامیہ اور خدمات) ضابطہ 2016 کی دفعہ 13 کے مطابق غیر تسلیم شدہ مدرسہ صرف سرکاری گرانٹ حاصل کرنے کا اہل نہیں ہوتا، تاہم اس ضابطے میں کہیں بھی یہ نہیں کہا گیا کہ غیر تسلیم شدہ مدرسے کو بند کیا جا سکتا ہے۔
وکیل نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزار ریاست سے کسی قسم کی مالی امداد کا مطالبہ نہیں کر رہا، اس لیے محض منظوری نہ ہونے کی بنیاد پر مدرسے کی سرگرمیوں پر پابندی عائد نہیں کی جا سکتی۔
انہوں نے سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کا حوالہ بھی دیا، جس میں اقلیتی تعلیمی اداروں کو تین زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے:
(1) وہ ادارے جو نہ ریاستی امداد چاہتے ہیں اور نہ منظوری،
(2) وہ ادارے جو امداد چاہتے ہیں،
(3) وہ ادارے جو صرف منظوری چاہتے ہیں، امداد نہیں۔
وکیل کے مطابق پہلے زمرے میں آنے والے ادارے آئین ہند کے آرٹیکل 30(1) کے تحت محفوظ ہیں۔
عدالت نے 16 جنوری کے اپنے حکم میں کہا کہ اگرچہ ایڈیشنل چیف اسٹینڈنگ کاؤنسل نے اس بنیاد پر عرضی کی مخالفت کی کہ غیر تسلیم شدہ مدرسہ چلانے سے طلبہ کو مستقبل میں مسائل پیش آ سکتے ہیں، تاہم وہ اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکے کہ ضابطوں میں ایسا کوئی اختیار موجود نہیں ہے جو صرف عدمِ منظوری کی بنیاد پر مدرسے کو بند کرنے کی اجازت دیتا ہو۔
عدالت نے واضح کیا کہ یکم مئی 2025 کو ضلع اقلیتی بہبود افسر، شراوستی کی جانب سے جاری مدرسہ بند کرنے کا حکم منسوخ کیا جاتا ہے۔ تاہم یہ بھی کہا گیا کہ جب تک مدرسہ تسلیم شدہ نہیں ہوتا، وہ کسی بھی سرکاری گرانٹ کا حق دار نہیں ہوگا، اور نہ ہی مدرسہ ایجوکیشن بورڈ اس کے طلبہ کو اپنے امتحانات میں شامل کرنے کا پابند ہوگا۔ مزید یہ کہ طلبہ اس مدرسے سے حاصل کردہ اسناد کو ریاستی حکومت سے متعلق کسی بھی مقصد کے لیے استعمال نہیں کر سکیں گے۔
عدالت نے حکم دیا کہ اس فیصلے کی مصدقہ نقل پیش کیے جانے کے بعد 24 گھنٹوں کے اندر مدرسے پر لگائی گئی مہر کھول دی جائے۔
