Friday, February 6, 2026
homeاہم خبریںمدھیہ پردیش کے بالاگھاٹ میں مسلم خاندانوں کا سماجی بائیکاٹ--- ہندو کانفرنس...

مدھیہ پردیش کے بالاگھاٹ میں مسلم خاندانوں کا سماجی بائیکاٹ— ہندو کانفرنس کے بعد روزگار، لین دین اور خدمات بند، خوف کی فضا

بالاگھاٹ (مدھیہ پردیش):

مدھیہ پردیش کے ضلع بالاگھاٹ میں لانجی پولیس تھانے کے تحت واقع گھوٹی–نندورا گاؤں میں مبینہ طور پر دس مسلم خاندانوں کا سماجی بائیکاٹ کیا جا رہا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق جنوری میں منعقدہ ایک ہندو کانفرنس میں مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر کے بعد ان خاندانوں کو روزمرہ لین دین، خدمات اور روزگار سے محروم کر دیا گیا، جس سے گاؤں میں خوف اور عدم اعتماد کی فضا قائم ہو گئی ہے۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ کانفرنس کے دوران گاؤں والوں سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ مسلمانوں سے کھانے پینے یا دیگر اشیاء کی خریداری نہ کریں اور تمام کاروباری و سماجی لین دین صرف ہندو برادری کے اندر محدود رکھیں۔ ”دی موکنایک” کے مطابق ایک گاؤں والے نے بتایاکہ:

“اس کے بعد گاؤں کے سماجی ڈھانچے میں اچانک تبدیلی آ گئی۔ جو خاندان برسوں سے ایک ساتھ رہ رہے تھے، وہ ایک دوسرے پر شک کرنے لگے۔”

اس سماجی بائیکاٹ کے شدید معاشی اثرات سامنے آئے ہیں۔ اسکول بس کے ڈرائیور آصف حسین کو بس چلانے سے روک دیا گیا، جو ان کی آمدنی کا واحد ذریعہ تھا۔ اسی طرح الیکٹریشن صدیق حسین گزشتہ ایک ہفتے سے بے روزگار ہیں، کیونکہ مقامی افراد انہیں کام دینے سے انکار کر رہے ہیں۔ رہائشیوں کے مطابق یہ سب ایک دانستہ کوشش ہے تاکہ مسلم خاندانوں کو گاؤں چھوڑنے پر مجبور کیا جا سکے۔

روزمرہ خدمات بھی بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق کریانے کی دکانیں مسلم خاندانوں کو ضروری اشیائے خورونوش فروخت کرنے سے انکار کر رہی ہیں، جبکہ نائی بال کاٹنے یا داڑھی بنانے سے بھی گریز کر رہے ہیں۔ ایک مقامی شخص نے کہا:
“یہ صرف معاشی مسئلہ نہیں، بلکہ انسانی وقار پر براہِ راست حملہ ہے۔”

خواتین اور بچے اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ بچے اسکول جانے سے خوفزدہ ہیں، جبکہ خواتین مستقل ذہنی دباؤ اور عدم تحفظ کے احساس میں زندگی گزار رہی ہیں۔ گاؤں کی رہائشی خیرالنسا نے بتایا کہ:
”جب میں نے کانفرنس میں دیے گئے بیانات پر بات کرنے کی کوشش کی تو ماحول مزید کشیدہ ہو گیا۔ ہم نے اس گاؤں میں اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں دیکھا کہ

سابق رکنِ اسمبلی کشور سامرتے نے اس سماجی بائیکاٹ کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے آئینی حقوق کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مرکزی وزارتِ داخلہ فوری طور پر اس معاملے کی جانچ کرائے۔
ان کا کہنا تھا کہ:
“امن و امان کی بحالی کے لیے پولیس کا فلیگ مارچ اور عدالتی انکوائری ناگزیر ہے۔”

سامرتے نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ گاؤں کے سرپنچ، سیکریٹری اور بعض ضلعی نمائندے اس بائیکاٹ کی حمایت کرتے دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ مندروں اور اہم چوراہوں پر مذہبی جھنڈے لگا کر کشیدگی کو مزید ہوا دی جا رہی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر انتظامیہ نے غیر جانبداری کے ساتھ کارروائی نہ کی تو یہ صورتحال نہ صرف امن و امان بلکہ سماجی ہم آہنگی کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ
“یہ سماجی اخراج غیر قانونی ہے اور ہمارے آئین میں دیے گئے مساوات، آزادی اور انسانی وقار کے بنیادی اصولوں کو کمزور کرتا ہے۔”

متعلقہ خبریں

تازہ ترین