کلکتہ | 12 فروری: انصاف نیوز آن لائن
کلکتہ کے چار اسمبلی حلقوں — بالی گنج، بھوانی پور، کلکتہ پورٹ اور مٹیا برج — میں جاری ’’منطقی تضادات‘‘ (Logical Discrepancies – LD) کی فہرستوں کے تجزیے سے پتہ چلا ہے کہ مسلمانوں کی نمائندگی ان کی آبادی کے تناسب سے کہیں زیادہ ہے۔
صبر انسٹی ٹیوٹ (Sabar Institute) کی تحقیق کے مطابق جہاں ASDD (غیر حاضر، منتقل شدہ، مردہ، ڈپلیکیٹ) اور ’’غیر نقشہ شدہ ووٹرز‘‘ (Unmapped Voters) کی فہرستیں عمومی آبادی کے تناسب کے قریب ہیں، وہیں منطقی تضاد کی فہرستوں میں نمایاں عدم توازن دیکھا گیا۔

اہم اعداد و شمار
بھوانی پور: مسلم آبادی تقریباً 20 فیصد، مگر منطقی تضادات کے تحت 52 فیصد مسلم ووٹرز کو نوٹس جاری کیا گیا
بالی گنج: مسلم آبادی تقریباً 50 فیصد، مگر منطقی تضادات کے تحت 77.5فیصد مسلم ووٹرز کو نوٹس
کلکتہ پورٹ: مسلم آبادی تقریباً 50 فیصد، مگر منطقی تضادات کے نام پر 82 فیصد مسلم ووٹرز کو نوٹس
مٹیابرج مسلم آبادی تقریباً 60 فیصد، مگر منطقی تضادات کے نام پر 87 فیصد مسلم ووٹرز کو نوٹس
اس کے برعکس ASDD اور غیر نقشہ شدہ فہرستوں میں مسلمانوں کا تناسب زیادہ تر مقامی آبادی کے قریب رہا۔ الیکشن کمیشن نے 16 دسمبر کو 58 لاکھ سے زائد ووٹرز کو مختلف زمروں میں خارج کیا تھا، جبکہ 24 جنوری کو تقریباً1 .2کروڑ ووٹرز کو ’’منطقی تضادات‘‘کے زمرے میں شامل کیا گیا۔
منطقی تضادات میں والدین کے نام کی مماثلت یا عمر کے فرق (15 سال سے کم یا 50 سال سے زیادہ) جیسے نکات شامل ہیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ ASDD کے برعکس منطقی تضاد کے زمرے میں واضح اور شفاف عملی معیار کی کمی ہے، جو سوالات کو جنم دیتی ہے۔ تحقیق میں ناموں کی بنیاد پر مذہبی شناخت کے اندازے کے لیے مشین لرننگ ماڈل استعمال کیا گیا، جسے دستی جانچ کے ساتھ ملایا گیا۔
سیاسی مبصرین اور اپوزیشن رہنماؤں نے اس عمل کو اقلیتوں کے لیے تشویشناک قرار دیا ہے، جبکہ چیف الیکٹورل آفیسر کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ محققین کے مطابق، وسائل کی کمی اور دستاویزات کے مسائل کی وجہ سے اقلیتی طبقات میں حقِ رائے دہی سے محرومی کا خوف غالب ہے۔
2011 کی مردم شماری کے اعداد و شمار کو بنیاد بنا کر مسلم آبادی کے تخمینے تیار کیے گئے۔
24 جنوری کو الیکشن کمیشن نے تقریباً 30 لاکھ ووٹرز کی فہرست جاری کی ہے، جنہیں ’’غیر نقشہ شدہ ووٹرز‘‘ (Non-Mapping) قرار دیا گیا۔ ان ووٹرز کا ریکارڈ 2002 کی آخری نظرثانی سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ اسی روز تقریباً 1.2 کروڑ ووٹرز کی ایک اور فہرست جاری کی گئی، جن میں ’’منطقی تضادات‘‘ کی نشاندہی کی گئی۔
سبر انسٹی ٹیوٹ کے — سوپتیک ہلدار، اشین چکرورتی اور صابر احمد — نے کہا کہ ’’جہاں ASDD حذف کرنے اور غیر نقشہ شدہ ووٹرز کی درجہ بندی واضح اور ضابطہ بند معیار کے تحت کی جاتی ہے، وہیں منطقی تضاد کے زمرے میں عملی معیارات اور درجہ بندی کے طریقہ کار میں شفافیت کا فقدان ہے۔ یہ ابہام پورے عمل پر سوالات کھڑے کرتا ہے‘‘۔
اشین چکرورتی نے کہا کہ ’’منطقی تضادات کی نشاندہی کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال قابلِ اعتراض ہے۔ ممکن ہے کہ انسانی تعصبات نے سافٹ ویئر کے نتائج کو متاثر کیا ہو۔‘‘
بنگال کے چیف الیکٹورل آفیسر منوج اگروال سے رابطے کی کوشش کی گئی، تاہم کال، پیغامات اور ای میل کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
متعدد اپوزیشن رہنماؤں اور سیاسی مبصرین نے الزام عائد کیا ہے کہ متنازعہ SIR عمل بنیادی طور پر اخراجی نوعیت کا تھا اور اقلیتی برادریوں کو ہراساں کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا۔ چکرورتی کے مطابق، اخراج کی فہرستوں کے وسیع پیمانے کو دیکھتے ہوئے افراد کے ناموں کی بنیاد پر مذہبی شناخت کی دستی درجہ بندی میں کئی ماہ لگ سکتے تھے۔
اس عمل کو تیز کرنے کے لیے محققین نے الینوائے یونیورسٹی، شکاگو کی روچنا چترویدی اور آئی آئی ٹی دہلی کے سوگت چترویدی کے تیار کردہ مشین لرننگ ماڈل (یہ سب نام میں ہے) کا استعمال کیا۔ یہ الگورتھم ناموں کے نمونوں کی بنیاد پر مذہبی شناخت کا اندازہ لگانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
خودکار درجہ بندی کو دستی توثیق کے ساتھ ملا کر SIR اخراجی فہرستوں کی مذہبی ساخت کا تجزیہ کیا گیا۔
صابر احمد نے کہا کہ اقلیتی برادری کے ایک بڑے حصے کے پاس وسائل کی کمی ہے۔ اکثر لوگوں کے پاس مطلوبہ دستاویزات مکمل نہیں ہوتیں۔ ایسے حالات میں حقِ رائے دہی سے محرومی کا خوف حقیقی اور گہرا ہے۔
