Friday, April 12, 2024
homeبنگالآسنسول فرقہ وارانہ فسادکا ذکر کرکے وزیر اعظم مودی نے زخموں کو...

آسنسول فرقہ وارانہ فسادکا ذکر کرکے وزیر اعظم مودی نے زخموں کو تازہ کردیا؛امداداللہ رشیدی

کلکتہ19اپریل :
دودن قبل آسنسول میں ایک انتخابی ریلی میں وزیرا عظم نریندر مودی کے ذریعہ 2018میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات کا ذکر کئے جانےپر آسنسول میں نوری مسجد کے امام مولانا امداداللہ رشیدی جنہوں نے فرقہ وارانہ فساد میں نوعمر بیٹے کو کھونے کے باوجود وہ علاقے میں امن قائم کرنےکی وجہ سے سرخیوں میں آگئے تھےنے اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ ماضی کے زخموں کو کریدنے کے باوجود وزیر اعظم کو لوگوں کے دلوں کو جوڑنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

رام نومی کے موقع پر 2018میں آسنسول اور رانی گنج میں فرقہ وارانہ فسادات ہوئے ۔اس فساد میں نوری مسجد کے امام مولانا امداداللہ رشیدی کے چھوٹے بیٹے17سالہ صبغۃ اللہ کو بھیڑ اٹھاکر لے گئی اور بعد میں لاش ملی۔اس بچے کے جسم پر زخمی کے نشانات تھے۔یہ واقعہ سامنے آنےکے بعد پورے علاقے میں غم و ناراضگی پھیل گئی اور ایک بڑی بھیڑ جمع ہوگئی جو اس بچے کے خون کا بدلہ لینے کےلئے تیار تھی۔اس موقع پر مولانا امداد اللہ رشیدی نے بیٹے کے غم پر قابو پاتے ہوئے لوگوں سے اپیل کی کہ اس شہر کو ہم لوگوں نے مل کر رونق بخشی ہے ۔اس لئے اس کو تباہ نہ ہونے دیں ۔


میرے بیٹے کی جان گئی ہے میں نہیں چاہتا کہ کسی اور کے گھر میں اس طرح کا ماتم ہوئے ۔انہوں نے کہا کہ اگر آپ لوگ اپنے اپنے گھروں کو واپس نہیں جائیں گے تومیں مسجد کی امامت چھوڑ دوں گااور اس شہر کو بھی چھوڑ کر ہمیشہ کےلئے چلا جائوں گا۔
مولانا امداد اللہ رشید ی کے اس جذباتی تقریر کے بعد مجمع منتشر ہوگیا اور اس طرح آسنسول ایک بڑے فرقہ وارانہ فسادات سے بچ گیا۔تین سال بیت جانے کے بعد گزشتہ سنیچر کو وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی ریلی میں اس فساد کا ذکر کرتے ہوئے ایک بار پھر زحم کو تازہ کردیاہے۔
وزیرا عظم مودی نے اپنی تقریر میں کہا کہ 2018میں ہوئے فرقہ وارانہ فساد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے یہاں پر فرقہ وارانہ فسادہوئے جس میں لوگوں کی جانیں گئیں اور بڑے پیمانے پر مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
خیال رہے کہ آسنسول فرقہ وارانہ فسادات کےلئے ترنمول کانگریس اور بی جے پی دونوں ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں ۔دائیں بازوں کی جماعتوں نے پابندی کے باوجود مسلم محلوں سے رام نومی کے جلوس نکالے اور نعرے بازی کی اس وجہ سے حالات بگڑے ۔جب کہ بی جے پی نے اس وقت کہ آسنسول کے میئر و سابق ممبر اسمبلی جیتندر تیواری کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جیتندر تیواری اب بی جے پی میں ہیں ۔
مولانا امداد اللہ رشید نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور انتقامی سیاست سےگریز کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ تین سال بعد اس زخم کو تازہ کرنے کی کوشش کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے ۔یہاں ساتویں مرحلے میں پولنگ ہونی ہے ۔مولانا امداد اللہ رشیدی نے کہا کہ وزیرا عظم ملک کے ہیں ۔انہیں کسی ایک فرقے اور طبقے کو مطعون کرنے اور فرقہ واریت کے زخم کو تازہ نہیں کرناچاہیے ۔سیاسی فائدہ کے لئےاس طرح کے بیانات دینے سے بچنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی تقریر سے ایک بارپھر لوگوں کے زخم تازہ ہوگئے ہیں ۔ہم لوگ اس بد قسمت واقعے کو یادکرنا نہیں چاہتے ہیں ۔
مولانا امداد اللہ رشید نے کہا کہ وزیر اعظم مودی انتخابی ریلی میں شہر کی ترقی کی بات کرتے اور ہمیں اتحاد کا پیغام دیتے تو خوشی ہوتی مگر انہوں نے ہمیں مایوس کیا ۔ہمارے زخموں کو تازہ کردیا ہے۔ہم اپنے کھوئے ہوئے بچے کو یاد کرنا نہیں چاہتے تھے ۔
انہوں نے کہا کہ میں کسی بھی پارٹی کا آدمی نہیں ہوں، وزیر اعظم کی حیثیت سے ان کی عزت کرتا ہوں ،میرے اس موقف کو کسی بھی تعصب کی نظر سے نہیں دیکھا جائے ۔میں صرف امن وامان کی بات کرتا ہوں اور اشتعال انگیزتقریروں کے خلاف ہوں اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ میں سیاست داں نہیں ہوں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک بھر میں کورونا کی صورت حال خطرناک حد تک پھیل گیاہے۔لوگوں کی جانیں جارہی ہیں ۔رشید ی نے کہا کہ ضرورت تھی اس پر بات کی جاتی مگر افسوس کہ یہ نہیں ہوسکا ہے ۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین