Friday, April 12, 2024
homeاہم خبریںکلکتہ کے مسلم اداروں پر قبضہ کی نئی جنگ یتیم خانہ نیامیدان...

کلکتہ کے مسلم اداروں پر قبضہ کی نئی جنگ یتیم خانہ نیامیدان جنگ۔۔۔۔مسلم انسٹی ٹیوٹ بھی نشانے پر۔۔محمڈن اسپورٹنگ کلب کا معاملہ عدالت میں۔۔۔سلطان احمد فیملی اور امیرالدین بابی اینڈ کمپنی آمنے سامنے

بشکریہ روزنامہ راشٹریہ سہارا کلکتہ

کلکتہ10؍اگست (انصاف نیوز آن لاین)
کلکتہ کے مسلم اداروں پر ان دنوں قبضہ کرنے کی ایک نئی مہم شروع کی گئی ہے ۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ چند سال قبل مسلم اداروں پر قبضہ کرنے والے گروپ ہی آپس میں دست و گریباں ہیں۔2011میں ترنمول کانگریس کی حکومت قائم ہونے کے بعد ترنمول کانگریس نے سابق ممبر اسمبلی اقبال احمد (جوان دنوں سخت بیمار ہیں)کی قیادت میں مسلم اداروں سے بائیں محاذ کے لیڈروں کی تطہیر کا سلسلہ شروع کیا اور ہر اداروں پر اپنے لوگوں کو فائز کردیا۔2017میں سلطان احمد کے انتقال اور اس کے چند مہینے بعد اقبال احمد کے بیمار ہونے کے بعد اقبال احمد کے حوارین دو حصوں میں منقسم ہوچکے ہیں ۔میئر ان کونسل امیرالدین بابی جو ایک مدت تک اقبال احمد کے دست راست تھےاور کئی کروڑ روپے کے بزنس پارٹنر ہیں۔امیرالدین بابی سلطان احمد کے انتقال کے بعد اسلامیہ اسپتال کے انتخاب میں ریاستی وزیر جاوید احمد کے گروپ کو شکست دینے میں اقبال احمد کے ساتھ پوری قوت (لاٹھی ڈنڈا )کے ساتھ کھڑے تھے ۔مگر سلطان احمد کے انتقال اور اقبال احمد کے منظرنامہ سے ہٹنے کے بعد امیرالدین بابی نے سلطان احمد فیملی اور ان کے قریبوں کی تطہیر کا سلسلہ شروع کیا ہے۔
اسلامیہ اسپتال سے ’’احمد فیملی ‘‘ کا صفایا کرنے کے بعد اب امیرالدین بابی کی قیادت میں یتیم خانہ اسلامیہ سے احمد فیملی کے صفایا کی مہم زوروں پر ہے۔اسلامیہ اسپتال سے آسانی سے احمد فیملی کا صفایا گیا۔اقبال احمد کو اسلامیہ اسپتال کے جنرل سیکریٹری کے عہدہ سے ہٹانے کےلئے منصوبے بند طریقے سے اسلامیہ اسپتال میں ہنگامہ آرائی کی گئی ۔پھر اس کے بعد مولانا ئوں کے ایک گروپ کو سرگرم کرکے احمد فیملی کا صفایا کیا گیا ۔یتیم خانہ اسلامیہ کی میدان جنگ بنانے میں امیرالدین بابی کے ساتھ کلکتہ شہر سے شائع ہونے والے ایک اردو اخبار جس کے مالک ترنمول کانگریس کے راجیہ سبھا رکن ہیں کلیدی کردار ادا کررہا ہے۔صحافتی اقدار اور اخلاقیات کو بالائے طاق رکھ کریتیم خانہ اسلامیہ کو میدان جنگ بنانے میں مصروف ہے۔

اسمبلی انتخابات سے قبل ہی مہم جاری تھی۔مسلسل یتیم خانہ اسلامیہ سے متعلق یک طرفہ خبر شائع کی جارہی تھی۔چوں کہ اسمبلی انتخابات ہونے والے تھے ۔چناں چہ ممبر پارلیمنٹ سدیپ بندو پادھیائے نے مداخلت کرکے یتیم خانہ اسلامیہ اور اخبار کے درمیان صلح صفائی کرائی۔اس کے بعد ساجدہ احمد کا بڑا انٹرویو شائع کیا گیا۔سدیپ کو اندیشہ تھا کہ اس اختلافات کی وجہ سے وارڈ نمبر 62میں نقصان ہوسکتا ہے۔مگر اسمبلی انتخابات کے بعد ایک بعد پھر صفائی مہم شروع ہوگئی ۔بلڈنگ کمیٹی کے کنوینر کی تقرری کو لے کر ہوئے اختلافات کو بہانہ بناکر یتیم خانہ اسلامیہ کے صدر ساجد ہ احمد کے خلاف ’’تحریک عدم اعتماد‘‘ پیش کیا گیا۔جب کہ ایک دومہینے بعد ہی یتیم خانہ اسلامیہ کی منیجنگ کمیٹی کا انتخاب ہونے والا ہے ۔سوال ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب ایک دو مہینے میں ہی انتخاب ہونے والے تھے تو پھر صدر کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی جلدبازی کیوں تھی؟۔تحریک عدم اعتماد میں شکست کے اندیشے کو پیش نظر رکھتے ہوئے ساجد ہ احمد نے استعفیٰ دیدیا۔مگر اس استعفیٰ کو جس انداز میں قبول کیا گیا ہے کہ وہ سوالوں کے گھیرے میں آگیا ہے۔ اندرون ذرائع کے مطابق یتیم خانہ اسلامیہ کا معاملہ بھی عدالت میں جاسکتا ہے۔

یتیم خانہ اسلامیہ کے سیکریٹری عبد القیوم انصاری جن کی قابلیت کا صرف معیار یہ تھا کہ وہ اقبال احمد کے درباری تھے۔صبح و شام اقبال احمد کے دربار میں حاضری لگاتے تھے۔مگر اقبال احمدکے منظرنامہ سے ہٹنے کے بعد وہ امیرالدین بابی کے خیمے ہوچکے ہیں۔کیوں کہ انہیں امید ہے کہ وہ جنرل سیکریٹری کے عہدہ پر برقرار رہیں گے۔چناں چہ امیرالدین بابی نے صرف تین دنوں کی نوٹس پر میٹنگ بلاکر استعفیٰ نامہ کو قبول کرلیا۔اب کہ ساجدہ احمد اور اقبال احمد کی صاحب زادی ثنا احمد کے حامیوں کی دلیل تھی کہ اس استعفیٰ پر باضابطہ بحث ہونی چاہیے ۔انہوںنے کن حالات میں استعفیٰ دیا ہے۔اس میٹنگ میں ٹرسٹیوں کے علاوہ بڑی تعداد میں عہدیدار اور ممبران موجود نہیں تھے۔سوال یہ بھی ہے کہ صدر کے نہیں ہونے کی صورت میں میٹنگ بلانے کا حق کس کو حاصل ہے۔چناں چہ میٹنگ کے دوران ساجدہ احمد کے حامیوں اور امیرالدین بابی کے حامیوں کے درمیان گالی گلوجی اور لتم جوتم بھی ہوئے ۔
میٹنگ میں ساجدہ احمد کے استعفیٰ پر کوئی بات نہیں ہوئی کہ انہوں نے کن حالات میںا ستعفیٰ دیا ۔سوال یہ ہے کہ ٹرسٹیوں کی غیر موجود گی میں اخلاق احمد اور عبدالمجید صاحب کو میٹنگ چلانے کا اختیار کیسے ہوا۔سوال یہ ہے کہ پانچ صدور میں سے صرف دونائب صدور موجود تھے۔ایسے میں اس میٹنگ کا قانونی جواز کیا ہے۔میٹنگ کے شرکا کے اندارج کاطریقے کار بھی سوالوں کے گھیرے میں ہے۔
مسلم انسٹی ٹیوٹ

خیال رہے کہ یتیم خانہ اسلامیہ کے اختلافات کا اثر اب مسلم انسٹی ٹیوٹ پر بھی پڑنے لگا ہے۔62نمبر وارڈ کی کونسلر ثنا احمد کے انتباہ کے بعد مسلم انسٹی ٹیوٹ کے منتخب کے ممبر ان مخمصے میں ہیں۔ندیم الحق کو صدر بنانے کےلئے ثنااحمد سے مذاکرات کا دو دورمکمل ہوچکا ہے۔اطلاعات کے مطابق ثنااحمداس شرط پر ندیم الحق کو مسلم انسٹی ٹیوٹ کو صدر قبول کرنے کوبھی تیار ہوئی ہیں ان کے دو لوگوں کو مسلم انسی ٹیوٹ کی ایگزیکٹیو کمیٹی میں لیا جائے گا۔دوسر ی جانب امیرالدین بابی اینڈ کمپنی مسلم انسٹی ٹیوٹ سے بھی احمد فیملی کا صفایا کرنے پر بضد ہیں ۔اس کےلئے تابڑ توڑ میٹنگیں ہورہی ہیں ۔دیکھنا ہے کہ اقتدار اور مفادات کی جنگ میں جیت کس کی ہوتی ہے۔افسوس ناک بات ہے کہ مسلم انسٹی ٹیوٹ جو خالص علمی، سماجی وادبی ادارہ ہے۔مگر اس پر ایسے لیڈران اپنے اشارے پر لانے کی کوشش کررہے ہیں جن کا علم وادب سے کوئی رشتہ نہیں ہے۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ انسٹی ٹیوٹ کے قابل قدر ممبران کبھی امیرالدین بابی تو کبھی ثنااحمد کے دربار میںحاضری لگارہے ہیں۔
خیال رہے کہ امیرالدین بابی سلطان احمد کے انتقال کے بعد انجمن مفیدالاسلام، اسلامیہ اسپتال، محمڈن اسپورٹنگ کلب، ملی الامین کالج پر اپنا اثر و رسوخ قائم کرچکے ہیں ۔اب وہ یتیم خانہ اسلامیہ اور مسلم انسٹی ٹیوٹ کو بھی اپنے قبضے میں لینے کی کوشش میں ہیں ۔
اطلاعات کے مطابق یتیم خانہ اسلامیہ کے انتخابات سے چند ماہ قبل ساجدہ احمد کے استعفیٰ کے لئے حالات اس لئے پیدا کیا گیا ہے تاکہ آسانی سے بغیر کسی انتخا ب کے یتیم خانہ اسلامیہ پر قبضہ کیا جاسکے۔امیر الدین بابی کے گروپ کے ایک ممبرنے کہا ہے کہ ممکن ہے کہ ندیم الحق یتیم خانہ اسلامیہ کے صدر ہوسکتے ہیں۔ندیم الحق اس وقت حج ہائوس کے چیرمین،اردو اکیڈمی کے وائس چیرمین اور مسلم انسٹی ٹیوٹ کے صدر ہیں ۔
یتیم خانہ اسلامیہ کے ایک ممبر نے اپنانام ظاہر نہیں کرنے کی شرط پر کہا کہ دراصل یہ مفادات اور بدلے کی جنگ ہے۔چوں کہ احمد فیملی اور امیرالدین بابی بزنس پارٹنر ہیں ۔سلطان احمد کے انتقال اور اقبال احمد کے منظرنامہ سے ہٹنے کے بعد ان کے بچوں کے ساتھ امیرالدین بابی کی جم نہیں رہی ہے۔کئی معاملات میں اختلافات ہیں۔کئی بے نامی جائداد کو لے کر ان دونوں خاندان کے درمیان تکرار جاری ہے۔اس لئے امیرالدین بابی احمد فیملی خاندان کو سیاسی منظرنامہ سے تہس نہں کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔

قدرت کا یہ حسین انتقام ہے کہ مسلم اداروں پر قبضہ کرنے کا جوطریقہ اقبال احمد نے اختیار کیا تھا وہ طریقہ ان کے چیلے اور درباری اب ان کے خلاف اختیار کررہے ہیں اور احمد فیملی مجبور محض ہوکر مکافات عمل کو بھگت رہے ہیں۔امیرالدین بابی، اشتیاق راجو، اخبار مشرق اینڈ کمپنی یہ وہ لوگ جن کی صبح سلطان احمد سے ہوتی اور شام اقبال احمد سے ہوتی تھی۔اقبال احمد کی قیادت میں جب مسلم انسٹی ٹیوٹ میں دخل اندازی کی جارہی تھی کہ اسی اخبار مشرق نے سرخی لگائی تھی کہ’’اقبال احمد کا اقبال بلند ہوا‘‘ آج یہی اخبار اقبال احمد اور ان کے خاندان کی عزت کو خاک ملانے میں مصروف ہے۔اسی کو مکافات عمل بولتے ہیں۔اس درمیان بہت سے شرفا جو ماضی اس گروپ کا حصہ رہ چکے تھے وہ کنارہ کش ہونے میں ہی عافیت محسوس کررہے ہیں ۔
خیال رہے کہ محمڈن اسپورٹنگ کلب کا معاملہ عدالت میں جا چکا ہے۔سابق جنرل سیکریٹر محمد وسیم اکرم نے امیرالدین بابی سے متعلق دھماکہ خیز الزامات عاید کرچکے ہیں ۔دوسری جانب انجمن مفیدالاسلام کے سالانہ رپورٹ میں اکائونٹ کی رپورٹ میں کئی بدعنوانیوں کی نشاندہی ہوچکی ہے۔کہاجاتا ہے کہ یتیم خانہ اسلامیہ میں تنازع بھی سید امیر علی ایونیو میں زیر تعمیرعمارت پر قبضے کو لے کر ہی ہے۔کم وبیش صورت حال اسلامیہ اسپتال کا ہے۔ملت کے فلاح وبہبود کے قائم پر ہونے والا اسلامیہ اسپتال کی دونوں شاخ اس وقت پرائیوٹ ہاتھوں میں ہے۔عوام کی فلاح وبہبود کے بجائے کمیشن خوری پر زیادہ زور ہے۔

ایسے میں یہ سوال اٹھنا لازمی ہے کہ کب تک کلکتہ کے مسلم ادارے ناعاقبت اندیش سیاست دانوں کی جنگ کا میدان بنا رہے گا۔کلکتہ کے باشعور اورملی درد سے لبریز دانشور کب تک بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان سیاست دانوں کی کرتوں پر خاموشی اختیار کئے ہوئے رہیں گے۔جب سیاست دانوں کے بغیر یہ تمام ادارے قائم ہوسکتے ہیں تو پھر کیا یہ اداروں سیاست دانوں کے بغیر نہیں چل سکتے ہیں ۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین