Friday, April 12, 2024
homeاہم خبریںگوا میں ترنمول کانگریس کی ”تقسیم کی سیاست“ ناکام

گوا میں ترنمول کانگریس کی ”تقسیم کی سیاست“ ناکام

فرحانہ فردوس

تین ماہ قبل ترنمول کانگریس میں شامل ہونے والے گوا کے سابق ممبر اسمبلی لاوو مملیدار اور دیگر چار لیڈروں نے یہ کہتے ہوئے استعفیٰ دیا ہے کہ ترنمول کانگریس گوا کے عوام کو مذہبی بنیاد پر تقسیم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ایسے میں یہ سوا ل ہے کیا واقعی میں ترنمول کانگریس ”مذہبی بنیاد پر تقسیم“ کی سیاست کرتی ہے؟۔یہ سوال اس لئے بھی لازمی ہے کہ ترنمول کانگریس سے استعفیٰ دینے والوں نے اپنے استعفیٰ میں سب سے زیادہ اسی سوال پر توجہ دی ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ اس طرح کے الزامات ترنمو ل کانگریس کو صرف گوا میں سامنا کرنا پڑا ہے۔بلکہ بنگال میں بھی ترنمول کانگریس پر”تقسیم کی سیاست“ کرنے کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔مگر سوال یہ ہے کہ آخر ترنمول کانگریس کی طرز سیاست کیا ہے؟ کہ اس پر اس طرح کے الزامات لگتے ہیں؟اس سوال کا جواب جاننے کیلئے 2011سے قبل بنگال کی سیاست کو سمجھنا ضروری ہے۔دراصل بنگال کی سیاست 2011سے قبل روزی، کپڑا اور مکان کے ارد گرد گھومتی تھی، ناانصافی، سماجی استحصال، مزدوروں کی اجرت اور اقلیت اور پسماندہ طبقات کو ریزرویشن جیسے ایشو ز پر بات چیت ہوتی تھی۔2011میں ممتا بنرجی نے بھی ان ہی ایشوز کی بنیاد پر 34سالہ بائیں محاذ کی حکومت کا خاتمہ کیا تھا۔مگر بائیں محاذ حکومت کے خاتمے کے بعد ممتا بنرجی نے جس طریقے سے سیاست کی وہ بی جے پی جیسی اکثریت نواز پارٹی کیلئے ماحول سازگار ہوگیا۔2014سے قبل تک ممتا بنرجی ریاست کے ہر ایک جلسے میں مسلمانوں کیلئے الگ کالج، الگ اسکول اور یہاں تک کہ الگ بازار بنانے کی بات کرتی تھیں۔گرچہ اپنے دس سالہ دور حکومت میں انہوں نے مسلم علاقے میں ایک بھی کالج کی تعمیر نہیں کی ہے۔ایک ہزار مدرسوں کی منظوری کا وعدہ بھی ہوا ہوائی ہوگیا۔اس کے علاوہ انہوں نے امام اور موذن کو تنخواہ دینے کا اعلان کرکے بنگال میں مذہبی سیاست کا رخ ہی پھیر دیا۔گرچہ اس کے تدارک کیلئے انہوں نے مندروں کے پوجاریو ں کو بھی تنخواہ دینے کا فیصلہ کیا۔تاہم بی جے پی کو ا س کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کا موقع مل گیا۔علاوہ ازیں درگاپوجا کی مورتیوں کے بھسان جیسے انتظامی فیصلے کو بھی ممتا بنرجی نے مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی۔بادی النظر میں ایسا محسوس ہوا کہ ممتا بنرجی مسلمانوں کے تہواروں کے مد نظر درگا پوجا کی مورتیوں کے بھسان کے وقت میں تبدیلی کی ہے۔جب کہ بہار اور اترپردیش میں بھی ا س طرح کے فیصلے کئے گئے مگر وہاں کی حکومتوں نے مقامی سطح پر اس طرح کا فیصلہ کیا۔جب کہ ممتا بنرجی یہ فیصلے خود لتی رہیں۔اس کی وجہ سے بی جے پی کو یہ کہنے کا موقع مل گیا کہ بنگال میں درگا پوجا کی اجازت نہیں ہے۔یہ پروپگینڈہ اس طرح کیا گیا کہ ریاست کے حالات کے بے خبر لوگوں کو یقین بھی آگیا۔اس طرح ممتا بنرجی کی غلط سیاست نے معاشرہ کو تقسیم کرنے کا ذریعہ بن گیا۔

2016کے اسمبلی انتخاب کے بعد ممتا بنرجی کی سیاست سے مسلمان غائب ہوگئے مگر انہوں نے جو بیانیہ طے کیا اس سے بی جے پی کو پھلنے پھولنے کا موقع مل گیا۔ چناں چہ 2016میں محض تین سیٹوں پر جیت حاصل کرنے والی بی جے پی بنگال کی اہم سیاسی جماعت بن گئی اور 2019میں لوک سبھا کی 18سیٹوں پر اور اس سے ایک سال بعد 77سیٹوں پر اسمبلی میں جیت حاصل کی۔2021کا اسمبلی انتخاب بھی ہندو اور مسلم کے ارد گرد گھومتا رہا اور ممتا بنرجی کو مسلمانوں کے خو ف اور برہمن ہونے کا فائدہ مل گیا۔
بنگال اسمبلی انتخابات میں شاندار جیت کے بعد ممتا بنرجی اپنی پارٹی کو پورے ہندوستان میں توسیع کرنے کی کوشش کررہی ہے۔تری پورہ، گوا، میگھالیہ اور منی پور میں ترنمو ل کانگریس کی نظر ہے۔بنگال میں مسلمانوں کی پارٹی کی دعویدار ترنمول کانگریس تری پورہ میں مسلمانوں پر حملے کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں بولا۔ممتا بنرجی گوا دورمرتبہ جاچکی ہیں۔گوامیں بھی ممتا بنرجی نے اسی طرح کی سماجی انجینئرنگ کرنے کی کوشش کی ہے۔گوا میں جن چار لیڈروں نے استعفیٰ دیا ا ن میں سے ایک پونڈہ سے مہاراشٹر وادی گومانتک پارٹی (ایم جی پی) کے سابق ممبر اسمبلی مملیدار نے بھی لکھا ہے کہ ترنمو ل کانگریس کا ”ہندؤں کا ووٹوں کو ایم جی پی اور کیتھولک ووٹوں کوترنمول کانگریس کی طرف کرنے کی کوشش پولرائزیشن ہے اور یہ خالصتا فرقہ وارانہ ہے۔مملیدار، رام مندریکر، کشور پروار، کومل پروار اور سوجے ملک کے دستخط شدہ خط میں کہا گیا ہے کہ، ”ہم ایسی پارٹی کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے جو گواکے باشندوں کو تقسیم کرنے میں یقین رکھتے ہیں۔
خط میں کہا گیا ہے کہ ہم ترنمول کانگریس اور اس کیلئے کام کرنے والی آئی پیک کمپنی کو ریاست کے سیکولر تانے بانے کو توڑنے کی اجازت نہیں دیں گے اور ہم اس کی حفاظت کریں گے۔مملیدار،سابق ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نے 29 ستمبر کو ترنمول کانگریس میں شمولیت اختیار کی تھی اور وہ گوا کے پہلے دس لیڈروں میں شامل تھے جو سابق وزیر اعلیٰ اور اب ترنمو ل کانگریس کے راجیہ سبھا ایم پی لوزینہو فالیرو کے ساتھ شامل تھے۔جب کہ آزاد ایم ایل اے پرساد گاونکر نے پہلے پارٹی میں شامل ہوئے بغیر ٹی ایم سی کی حمایت کا وعدہ کیا تھا، بعد میں اس نے اپنا ذہن بدل دیا اور کانگریس اور گوا فارورڈ پارٹی (جی ایف پی) کی حمایت کی جب دونوں پارٹیوں نے قبل از انتخابات اتحاد کا اعلان کیا۔
ملیدارنے گوا میں نامہ نگاروں سے کہا کہ ”جس طرح سے ترنمو کانگریس نے گوا کو عیسائیوں اور ہندوؤں کے درمیان تقسیم کیا ہے – کہ کیتھولک ووٹ ترنمو ل کانگریس کو جائیں گے اور ہندو ووٹ ایم جی پی کو جائیں گے – ایم جی پی کے ساتھ اتحاد اور سیٹوں کی تقسیم کے معاہدے سے یہ ظاہرہوتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ترنمول کانگریس سیکولر پارٹی نہیں ہے۔بلکہ ایک فرقہ پرست پارٹی ہے جو گوا کے ہندوؤں اور کیتھولکوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔خط میں کہا گیا ہے کہ ایم جی پی کے سینئر لیڈر اور پارٹی کے واحد ممبر اسمبلی رام کرشن عرف سودین دھاولیکر کے ساتھ اتحاد کرکے ترنمو ل کانگریس ووٹوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ مملیدار، اس سے پہلے ایم جی پی کے ساتھ تھا، کو 2019 میں پارٹی سے نکال دیا گیا تھا اور وہ ایم جی پی کے صدر پانڈورنگ عرف دیپک دھاولیکر اور ان کے بھائی سدین دھاولیکر کے ساتھ باہر ہو گئے تھے۔استعفیٰ کے خط میں یہ بھی کہا گیا ہے، ”ہم نے آل انڈیا ترنمول کانگریس میں اس امید کے ساتھ شمولیت اختیار کی تھی کہ یہ گوا اور یہاں کے باشندوں کے لیے روشن دن لائیں گے۔ لیکن ترنمو ل کانگریس گوا اور یہاں کے عوام کو سمجھنے میں ناکام رہی۔
استعفیٰ والے خط میں ترنمول کانگریس کے ایک اور جھوٹے وعدے کو بے نقاب کیا گیا ہے۔خط میں کہا گیا ہے کہ مغربی بنگال میں لکشمی بھنڈار اسکیم کے تحت خواتین کو ہرمہینے 500روپے ماہانہ دیا جاتا ہے مگر گوا میں ترنمول کانگریس نے وعدہ کیاکہ ”گریہ لکشمی اسکیم“کے تحت گوا کی ہرخواتین کو ہر مہینے 5000روپے دئیے جائیں گے۔استعفیٰ نامہ پر اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ اس کیلئے رجسٹریشن کا عمل شروع کیا گیا اور صرف 12دنوں میں ایک لاکھ خواتین نے رجسٹریشن کرایاہے۔مغربی بنگال میں خواتین کی ترقی میں ناکام رہنے والی ترنمول کانگریس کے پاس گوا کی خواتین کیلئے کوئی پروگرام نہیں ہے اور رجسٹریشن کرانے کا مقصد صرف ڈاٹا جمع کرنا ہے جور ترنمو ل کانگریس کے لئے کام کرنے والی کمپنی کیلئے ڈاٹاجمع کرنا ہے۔
استعفیٰ نامہ لکھا گیا ہے کہ
” آپ نے گوا میں اپنی مہم کے لیے جس کمپنی کو رکھا ہے وہ گوا والوں کو بے وقوف بنا رہی ہے اور وہ گوا کی نبض کو نہیں سمجھ پائے ہیں۔ یہ واضح طور پر اشارہ کرتا ہے کہ گوا میں گریہ لکشمی اسکیم کچھ نہیں ہے لیکن آپ نے جس کمپنی کی خدمات حاصل کی ہیں وہ ا س کے ذریعہ انتخابات کے لئے ڈیٹا جمع کررہی ہے کیونکہ ان کے پاس زمین پر کوئی ڈیٹا نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین