Wednesday, November 29, 2023
homeہندوستاناوڈی پی کالج انتظامیہ نے حجاب کیلئے احتجاج کررہی مسلم طالبات کی...

اوڈی پی کالج انتظامیہ نے حجاب کیلئے احتجاج کررہی مسلم طالبات کی نجی معلومات لیک کردیا۔۔۔مسلم بچیوں کی زندگی کو شدید خطرات لاحق۔دھمکیوں کے کال موصول ہورہے ہیں

بنگلور (انصاف نیوز آن لائن)
کرناٹک کے اُڈپی گورنمنٹ پری یونیورسٹی کالج فار گرلز کی مسلم طالبات جو کیمپس میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں، نے الزام عائد کیا ہے کہ کالج میں درج ان کی نجی معلومات رہائش کا پتہ، موبائل نمبر اور دیگر تفصیلات کو عام کردیا گیا ہے۔
17 سالہ عالیہ اسدی جو کہ کرناٹک میں کیمپس میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاج کی اہم چہرہ نے الزام عاید کیا ہے کہ ان کی ذاتی تفصیلات – بشمول فون نمبر، والدین کے نام، اور گھر کا پتہ عام کردیا گیا ہے۔اوڈپی کے مختلف گروپس میں یہ شیئر کئے جارہے ہیں۔
عالیہ نے سوال کیا ہے کہ اس وقت حالات یہ ہے کہ میں اپنے چہر ہ نہیں کھول سکتی ہوں، کیوں کہ پہلے ہی سب جانتے ہیں کہ میں کیسی دکھتی ہوں اور میرا گھر کہاں ہے۔ اگر کوئی مجھے نشانہ بنائے تو کیا ہوگا؟۔

نیوز ویب سائٹ نے اطلاع دی ہے کہ عالیہ نے برقع پہن رکھا ہے، اس کے برعکس وہ کئی بار حجاب میں میڈیا سے خطاب کر چکی ہیں۔یہاں تک کہ میرے والدین کو بھی نامعلوم نمبروں سے کالز موصول ہو رہے ہیں۔ میں نے ان سے کہا ہے کہ وہ کال اٹینڈ نہ کریں،“۔
ایک اور طالبہ، ہزارہ شفا نے کہاکہ ان کی بھی نجی معلومات واٹس اپ گروپ میں شیئر کئے جارہے ہیں۔کالج انتظامیہ کو اس سوال کا جواب دینا چاہیے کہ ہماری خفیہ معلومات کس طرح عام کیا گیا ہے۔
کالج کی ڈیولپمنٹ کمیٹی (سی ڈی سی) کے چیئرمین اڈوپی سے بی جے پی کے ممبر اسمبلی رگھوپتی بھٹ اسلامو فوبیاکے شکار ہیں۔ان کی شہہ پر ہی طالبات کے حجاب پہننے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
نیوز ویب سائٹ دی کوئنٹ سے بات کرتے ہوئے عالیہ نے کہا کہ ممبر اسمبلی نے ہی زعفرانی اسکارف کے احتجاج کی حمایت کرکے، حجاب کے لیے ہماری لڑائی کو فرقہ وارانہ رنگ دیدیا ہے۔ انہوں نے طلباء کو زعفرانی شالیں پہننے کی ترغیب دی۔ اور اب انہوں نے نہ صرف کالج بلکہ ہمارے گھروں کو بھی غیر محفوظ بنا دیا ہے،“۔
کرناٹک میں مسلم طالبات کے حجاب کے خلاف ہندوتوا کے مظاہروں نے پرتشدد رخ اختیار کرنے کے بعدتعلیمی ادارے بند ہیں۔آج ہائی کورٹ کی فل بنچ نے اس پورے معاملے کی سماعت کی ہے اور فیصلہ جلد ہی آئے گا۔عدالت نے کارروائی کو عام کرنے پر روک لگائی ہے۔
دریں اثنا، سپریم کورٹ نے حجاب کے معاملے سے متعلق کرناٹک ہائی کورٹ سے عرضیوں کو عدالت عظمیٰ میں منتقل کرنے کی درخواست کو فوری طور پر درج کرنے سے انکار کردیا۔سپریم کورٹ نے کہا کہ ہائی کورٹ آج اس معاملے کی سماعت کر رہا ہے اور سوال کیا کہ ”ہم اس مرحلے پر مداخلت کیوں کریں ”۔ اس نے کوئی مخصوص تاریخ دینے سے بھی انکار کردیا۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین