Friday, April 12, 2024
homeتجزیہہندتوا مسلمانوں کے شناخت کو از سر نو تشکیل کی دینے کی...

ہندتوا مسلمانوں کے شناخت کو از سر نو تشکیل کی دینے کی کوشش کررہی ہے۔مگر یہ ناکام کیوں ہوجائے گی؟ مسلمانوں کے عقیدے اور عمل کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے کی کوشش ہے

نظام الدین احمد صدیقی۔۔۔ترجمہ نوراللہ جاوید

کالم نگار مکل کیساواں نے حال ہی میں انگریزی اخباردی ٹیلی گراف میں اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ ”ایک مسلمان شہری کو ڈیفالٹ ریاست اور مجرمانہ ریاست کے طورپر پیش کیا جارہاہے“۔ ان کی یہ بات بالکل درست ہے۔ ہندوستانی سماجی اور عوامی مقامات پر مسلم شہریوں کے خلاف نفرت واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ صرف سیاست دانوں کی تقریروں تک محدود نہیں ہے۔ یہ شہریوں کی روزمرہ کی زندگی میں نظر آتا ہے۔

ایک سرسری نظر سے پتہ چلتا ہے کہ ایک مسلمان شہری کی سماجی زندگی کے تقریباً ہر پہلو کو خطرہ لاحق ہو چکا ہے۔ خوراک، لباس، خاندان، سماجی معاملات، سیاسی شرکت اور اب فرد بھی یعنی مسلم خواتین کو بھی خطرات لاحق ہیں۔یہ ہندوستان کی سیکولر آئینی جمہوریت میں اکثریتی طبقے ہندوتوا کے ظہورکا نتیجہ ہے۔
زیادہ تر لوگوں کے لیے، ”ایمان“ اور ”عقیدہ“ مترادف اصطلاحات ہیں۔ تاہم، تکنیکی طور پر، ایمان کا تعلق علم اور عمل سے ہے، جبکہ عقیدہ ایک پختہ یقین کی نمائندگی کرتا ہے۔ مذہب کے طور پر، عقیدہ اور ایمان دونوں اپنے ماننے والوں کی زندگیوں کو اہمیت دینے کے مترادف ہے۔
اختلاف پیدا کرنا
ہندوستان میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ریاست کی ایماء پر مسلمانوں کے عقیدے اور ایمان کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے کی دانستہ کوشش ہے۔ عوامی مقامات پراپنے ایمان اور عقیدہ کا اظہار کرنے والے مسلمان شہریوں پر مسلسل حملے اسلام کے بنیادی اصولوں پر حملہ نہیں ہیں۔ بلکہ یہ اس بات پر حملہ ہے کہ کس طرح اسلام اوراس کے پیروکار ہندوستان کے شہری ہونے کے ناطے اپنی زندگی میں اپنے ایمان و عقیدہ کا عملی اظہار نہ کریں۔

یہ ایمان کو اس کے بنیادی عقیدے سے دور کرنے کی کوشش سے کم نہیں ہے – یہ کہنا کہ مسلمان جو چاہیں مان سکتے ہیں، لیکن پھر بھی ان سے کہا جارہا ہے وہ وہی کریں جو ان سے کہا جارہا ہے۔ہندوتوا کا حملہ دو سطحوں پر کام کرتا ہے۔ یہ عوامی مقامات پر مسلم مذہبی تشخص کے اظہار کو روکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، یہ اس مذہبی شناخت کو ایک نو ثقافتی شناخت میں تبدیل کرنے کی کوشش بھی ہے۔جسے ہندوتوا کے آدرشوں کے پیش نظر بنایا گیا ہے۔

اس منصوبے کے تحت مسلم عقیدے کے سماجی مظہر کو ایک زیادہ مضبوط، ہندوتوا عقیدے میں بدلنے کا اردادہ ہے، جس میں تمام ہندوستانی مسلمانوں کو یقین دلانا ہے کہ انہیں جبراً ہندومذہب سے مسلمان بنایا گیا ہے۔اس کے ذریعہ مسلمانوں میں یہ احساس دلانا ہے کہ وہ ذاتی طور پر یا پھر عوامی مقامات اجتماعی طور پر بھی اپنے عقیدے اور ایمان کے اظہار بالخصوص اللہ اکبر جیسے نعرے لگانے کی جرأت نہ ہو۔ محاصرے میں رہتے ہوئے بھی ”اللہ اکبر“ کا نعرہ لگانے کی ہمت نہیں ہونی چاہیے۔ بلکہ مسلمانوں کو اپنے مبینہ ہندو ماضی پر فخر محسوس کرنا چاہیے، ایک ایسا ماضی جس کا تصور ہندوتوا کے خطوط پر مبنی ہے۔

مسلم عقیدے کی ہندوتو تشریح کے مطابق مسلمانوں کے عقیدے اور اس مسلمانوں کے عمل میں بہت زیادہ خامیاں ہیں۔ مسلمانوں کے مذہب کی یہ تشریح اسی طرح ناقص ہے جس طرح لبرل طبقے کی اسلام کی تشریح ناقص ہے۔ہندتو اور لبرل طبقہ اسلام کی جو تشریح کرتے ہیں وہ عقیدے کے نظام کی انفرادی تشریحات ہے، اور اجتماعی نظریات اور شناخت کو قبول نہیں کرتے ہیں۔

اسلام ایک عملی مذہب ہے: نظریہ اتنا ہی اہم ہے جتنا اس کا عمل۔ مسلمانوں کے عقیدے کو اس کے سماجی تناظرسے الگ کرنا مشکل ہے۔مسلمانوں کے عمل کو خصوصی طور پر کسی اور تاریخی شناختی جڑوں جیسے قومیت یاکلچرل میں قائم کرنا مشکل ہے۔

ہر ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی مذہبی شناخت سے دستبردار نہ ہو۔چاہے اس کے ساتھ اس کی کوئی اور بھی شناخت ہو۔مذہبی شناخت کے ساتھ وہ ہندوستانی بھی ہے۔
ہندوستان میں حجاب کا تنازع شناخت کی بحث کے اس پہلو کو صحیح معنوں میں ظاہر کرتا ہے۔ جب مسلمان لڑکیاں حجاب پہن کر کالج آتی ہیں، تو وہ اس عمل سے اس بات کا اظہارکرتی ہیں کہ وہ بیک وقت کئی چیزیں ہو سکتی ہیں – ہندوستانی، مسلمان اور طالب علم۔ تاہم، جب ہندوتوا گروپ ان نوجوان خواتین کو چیلنج کرتے ہیں، تو وہ مسلمانوں کو عقیدے سے ایمان و عمل کوالگ کرنے کے ارادے سے ایسا کرتے ہیں، اور پھر اسے ایک ایسی شناخت سے تبدیل کرتے ہیں جو ان خواتین کے لیے بالکل اجنبی ہو۔

اگرچہ یہ مسلم خواتین آسانی سے سیکولر ہندوستانی کی شناخت کو اختیار کرلیں گی۔ مگر وہ مذہبی شناخت سے کسی بھی صورت میں دستبردار نہیں ہوں گی۔یہ مسلم مخالف شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مظاہروں سے واضح تھا۔ یہ ایک سبق ہے جو ہم سب کو گھر لے جانا چاہیے۔

٭نظام الدین احمد صدیقی کریسنٹ اسکول آف لاء، چنئی میں قانون کے اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین