Friday, April 12, 2024
homeخصوصی کالمحجاب معاملے میں لبرلز ہندوتوکے بچھائے گئے جال میں پھنستے جارہے ہیں

حجاب معاملے میں لبرلز ہندوتوکے بچھائے گئے جال میں پھنستے جارہے ہیں

انگشومان چودھری ۔ سورج گوگوئی:—
ترجمہ نور اللہ جاوید
سب سے پہلے، ہم واضح طور پر یہ بتانا چاہتے ہیں کہ حجاب پہننے یا نہیں پہننے کا حق مسلم خواتین کو ہونا چاہیے۔ یہ انتخاب صرف ان کے اختیار ہونا چاہیے۔ اسکولوں، کالجوں یا کسی اور عوامی جگہ پر نقاب کے استعمال پر کسی بھی فکری بحث کا آغاز اور اختتام بھی ہونا چاہیے۔حجاب پہن کر کالج جانے والی مسلم طالبات کے خلاف موجودہ مہم پچھلے مہینے کرناٹک کے ساحلی ضلع اُڈپی میں واقع ایک کالج سے شروع ہوئی۔ پھر اسی ضلع کے کنڈا پور میں واقع ایک اور کالج نے حجاب پہننے والی مسلم طالبات کے ایک گروپ کو کالج کے احاطے میں داخل ہونے سے روک دیاگیا۔حجاب پہننے والی لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور فرقہ وارانہ نعروں کے ساتھ تعلیمی اداروں میں حجاب پہننے کے خلاف ایک بڑی تحریک تبدیل ہوچکی ہے۔

کچھ ہفتے پہلے تک جو نان ایشو تھا اب ایک قومی مسئلہ بن چکا ہے۔ یہ معاملہ کرناٹک ہائی کورٹ کے زیر غور ہے، عدالت نے بھی اپنے عبوری ہدایت میں کلاس رومز میں مذہبی لباس پہننے پر روک لگادی ہے۔یہ سمجھنابہت ضروری ہے کہ ہندوتوا طاقتوں نے حجاب کے خلاف مہم کو کس طرح استوار کیا ہے؟جب اس بات پر غور کرتے ہیں تو ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کئی لبرل ذہنیت کے حاملین دائیں بازو کی جارحانہ مہم کی مخالفت کرنے کے بجائے اس شو کا حصہ بن گئے ہیں۔اس کے بعد یہ سارا معاملہ نریندر مودی کےاکثریت پرست ثقافتی ازم کا حصہ بن گیا ہے۔جو بڑی کامیابی کے ساتھ اقلیت مخالف سوچ کی جڑیں مضبوط کر رہا ہے۔

ہندتو گروپ نے حجاب مخالف مہم کو دو سطحو ں پر چلائی ۔ایک طرف ہندتو گروپ نے حجاب مخالف گفتگو کو مرکزی دھارے کی طرف دھکیل دیا ہے۔کرناٹک کی سڑکوں پر ہونے والے ہنگامہ آرائی، جن کی قیادت زیادہ تر نوجوان ہندو طلباکررہے تھے کھلے عام فرقہ وارانہ نعرے بازی کی۔ زعفرانی لباس پہن کر اشتعال انگیز اورجے شری رام کے نعرے لگا ئے۔ شیموگہ کے ایک کالج میں ترنگے کے کھمبے پر زعفرانی پرچم لہرادیا گیا ۔

دوسری طرف، ہندوتوا کے حامی تبصرہ نگار جو پرائم ٹائم ٹی وی مباحثوں یا اخباری کالموں میں رہتے ہیں، بظاہر ترقی پسند انہ راستہ اختیار کر تے ہوئے یہ دلیل دی کہ تعلیمی اداروں کو تمام مذہبی علامتوں سے پاک ہونا چاہیے اور حجاب خواتین کی آزادی کے خلاف ہے۔ یہ بالکل الگ کہانی ہے کہ یہ مبصرین مودی سرکار کے ذریعہ ہندوستانی سیاست میں کھلے عام ہندوانائزیشن کے ایشو پر کبھی بات نہیں کرتے ہیں۔
یہ دوہری مہم منصوبہ بندی کے تحت اٹھایا گیا ہے۔اور تنگ اور متعصبانہ دلیل کو وسیع تر پیمانے پر قبول بنانے کےلئےیہ طریقہ ڈیزائن کیا گیا ہے۔

عوامی مقامات پر مذہبی علامتوں کے استعمال پر روک لگانے کےلئے ہندتوگروپ فرانسیسی سیکولرازم اور لیکچرر پر مبنی سیکولر اخلاقات کا سبق پڑھانے لگے ہیں۔فرانسیسی سیکولر ازم ریاست اور مذہب کے درمیان ایک صاف وقفے کا پرچار کرتا ہے۔درحقیقت ہندتو گروپ نے بازاری رویہ کا مظاہرہ کرتےفرانسیسی سیکولر رویے کے ورژن کا انتخاب کیا ہے۔اس کی قیادت بنیادی طور پر صدر ایمانوئل میکرون کی حکومت کر رہی ہے،جو سیکولرازم کے نام پر فرانسیسی مسلمانوں (خصوصاً مسلم تارکین وطن) کو نہایت ہی چابکدستی سے نشانہ بنارہے ہیں۔ درحقیقت، حال ہی میں ہندوتوا کیمپ نے میکرون کے دائیں بازو کے موقف ،’’جہادیوں‘‘ اور’’غیر قانونی تارکین وطن‘‘ پر ان کے سخت تبصروں کی تعریف کرنا شروع کر دیا ہے۔حجاب کے خلاف مہم میں سیکولرروایات کا سہارالینے کا واحد یک نکاتی ایجنڈا یہ ہے کہ مسلم طرز زندگی کو عوامی مقامات سے مٹادیا جائے۔

یہ بات واضح ہے کہ ہندتو گروپ صرف لفظی طور پرسیکولرازم کاسہارا لیتے ہیں ۔دراصل اس کی آڑ میں مذہب اور سیاست کو شاندار طریقے سے اکٹھا کی جارہی ہے۔ عظیم الشان مندر کے افتتاح کی قیادت کرنے والے وزیرا عظم سے لے کر عوامی مقامات پر ہندو رسومات میں وزرائے اعلیٰ کی شرکت کی روایات کے بعد آج کے ہند و ستا ن میں حکمران سیاسی طبقہ اپنی مذہبی جھکاؤ کے بارے میں اس طرح غیر واضح ہو گیا ہے کہ سیکولر آئین پنجرے میں بند پرندے کی طرح نظر آنے لگا ہے۔ حجاب کے بارے میں سیکولر دلائل دینے والے ہندوتوا چیئر لیڈروں کی ستم ظریفی کی نشاندہی خوفناک ہے۔

آج کے ہندوستان میں مسلم علامتوں کے خلاف کوئی بھی بیان بازی، بشمول لباس پہننے کا معاملہ کو عالمی اخلاقی عینک سے نہیں دیکھا جا سکتا ہے۔انہیں ہندو قوم پرستی اور ثقافتی اکثریت پسندی کی سیاست کے تناظر میں دیکھنا چاہئے، کیو ں اس پوری مہم کو براہ راست حکمران جماعت سے منظوری حاصل ہے۔کسی بھی صورت میں ہندوستان میں عوامی مقامات پر مذہبی علامتوں کی کوئی ممانعت نہیں ہے – ایک بنیادی آئینی اصول کا حوالہ دیتے ہوئے کرناٹک ہائی کورٹ کی بنچ نے بھی عارضی طور پر سہی کلاس رومز میں حجاب پر پابندی لگا دی ہے۔ جب کہ ریاست کی طرف سے مقرر کردہ ایسی حدود کی عدم موجودگی میں، طلباء کوئی بھی کپڑا پہننے کےلئے آزاد ہیں۔

کسی بھی عوامی جگہ کی طرح، اسکول ، کالج اور یونیورسٹیوں میں بچوں اور طلباء کو اپنے مذہبی اور سیاسی نظریات کی نمائندگی کرنے کا اختیار ضرور دینا چاہیے۔لباس یا پھر کسی اور حق کے اختیارات کو محدود کرنا ہندوستان کےدستور میں دئیے گئے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیںہے؟مسلمانوں سے حجاب اتارنے یا نہ پہننے کے لیے کہنا مسلمانوں کے لیے عوامی مقامات پر موجودگی کو محدود کرنے کے مترادف ہے۔پردہ ہٹانے سے کوئی غیر جانبداری حاصل نہیں ہوتی ہے بلکہ اس سے صرف عدم مساوات اور عدم آزادی کا ماحول بنتا ہے۔سب سےاہم بات یہ ہے کہ اسکول اور یونیورسٹیاںایسی جگہ نہیں ہوسکتی ہیں جہاں ثقافتی اور مذہبی علامات کو برداشت نہ کیا جائے۔ بصورت دیگر، ہندوستان کی اقلیتوں کے لیے شہریت اور جمہوری اقدار مزید مجروح ہوجائیں گے ۔

لبرل ملی بھگت
یہ حجاب مخالف سیاست فرقہ وارانہ اور جنس پرستی پر مشتمل ہے۔ ہم اکثر پاپولسٹ اور لبرل دونوں کو یہ کہتے سنتے ہیں کہ پردہ مسلم معاشرے میں خواتین پر تسلط اور پدرانہ نظام کی علامت ہے۔ایسا ہو سکتا ہے اور ہمیں اس پر غور بھی کرنا چاہیے۔ لیکن، یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کون کس تناظر میں یہ دلیل پیش کر رہا ہے۔فرانسیسی فلسفی ٹائین بالی بار کی دلیل ہے کہ خواتین پر جبرکو سامنے لانے کےلئے یورپ حجاب کو ایک آلہ کے طور پراستعمال کرتےرہےہیں۔اس میکانائزیشن کو ایک اضافی طریقے کے طور پر پوری مسلم کمیونٹی پر حملہ کرنے کے لیے ایسے حالات میں استعمال کیا جاتا ہے جہاں وہ پہلے ہی امتیازی سلوک کے شکار ہیں۔ اس آلہ میں مسلم خواتین کو دوہرا بدنام کیا جاتا ہے – پہلے بطور خواتین اور پھر بطور مسلمان۔ زیادہ تر معاملات میں، ایسی بیان بازی اکثریتی طبقے کی طرف سے کی جاتی ہے جو اپنے حلقے کی سماجی برائیوں پرخاموشی اختیار کرلی ہے۔یہ مسلم مخالف رویے کا یہ وہ پہلو ہے جو ہندوستانی لبرل طبقہ ہندوتوا کے بچھائے گئے حجاب مخالف جال کے شکار ہوگئے ہیں ۔

حجاب جیسے نان ایشو کا اچانک اور تیزی سے موضوع بحث بننا قومی تشویش کا باعث ہے، وہ بھی طاقت کے مظاہرے، پرتشدد دھمکیوں اور سماجی و قانونی اخلاقیات کی آمیز ی کے ذریعے ہندوستانی مسلمانوں کو غیر مسلم بنانے کی ایک مکروہ اور منظم کوشش کی نشاندہی کرتی ہے۔لہٰذا آج حجاب مخالف دلیل کو بنیادی طور پر فرقہ وارانہ تناظر میں پیش کیا جارہا ہے۔یہ مکمل طور سیکولر مخالف ہے اور اس پوری مہم کو حکومت کی حمایت حاصل ہے۔پھر بھی، ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سی لبرل آوازیں اس نازک سیاق و سباق سے ہٹ کر بلند ہورہی ہیں۔یہ رویہ ہندتو کے ایجنڈے کو مزید قوت بخشتی ہے ۔

ثقافتی اکثریت پسندی کو آگے بڑھانے کی مثال یہ ہے۔ معروف ٹی وی نیوز جرنلسٹ، راجدیپ سردیسائی نے حکومت کی حمایتی طبقےکی سڑکوں پر تشدد اور ہنگامہ آرائی کی مذمت کرتے ہوئے لکھا کہ ’’ہرمذہب میں بنیاد پرست ہیں جو ہمیں مذہبی علامتوں کی جنگ میں پھنسانا چاہتے ہیں‘‘۔مشہور خاتون صحافی، ساریگاگھوس نے اپنی کتاب’’کیوں میں لبرل ہوں‘‘ کے ایک صفحے ٹویٹ کرتے ہوئے اسی طرح کی بات کی ہے۔
سماجی کارکن شبنم ہاشمی نے ٹویٹ کیا کہ وہ ’’ہندو حق اور مسلم حق کے درمیان ایک پیادہ بننے سے انکار کرتی ہیں۔میں نے آپ کے بیانات دیکھے ہیں، آپ کے مضامین پڑھے ہیں۔میں حجاب کی حفاظت کے لیے نہیں لڑ رہی ہوں۔حجاب نہ میری پہچان ہے، نہ میرا فخر اور نہ ہی میرا وقار ہے۔مزید برآں،یہ لبرلزحجاب مخالف مہم کو ’ترقی پسند ‘‘ مہم کے طور پر پیش کرتے ہیں ۔یہ غیر مغربی معاشروں پر نوآبادیاتی دلائل کو تھوپنے کے ہی طرح ہے۔خاص طور پر اکثریتی طبقے کے لبرلز خود کو اقلیتوں کے سماجی مصلح اور جدیدیت کے پیامبر کے طور پر پیش کرتے ہیں۔یہ لبرل طبقہ مسلمانوں کو مرکزی دھارے کے ہندوتوا میں ضم کرنے کی خواہش رکھتے ہیں ۔اس لپے وہ مسلم خواتین کو آزاد کرنے کےلئےپردہ اور طلاق کا ایشو اٹھاتےرہتے ہیں۔
مشہور صحافی شیکھر گپتا نے اپنے’’ 50 ورڈ ایڈیٹ‘‘ میں لکھاہے کہ ’’یہ افسوسناک ہے کہ کرناٹک میں حجاب ۔زعفرانی اسکارف کا تنازع جدیدیت اور لبرل ازم کی اچھی آوازوں کو بھی نوجوان خواتین کو چھپانے کے رجعتی عمل کا دفاع کرنے پر مجبور کر دیاہے۔’دی انڈین ایکسپریس‘ کی ایک کالم نگار، تولین سنگھ نے لکھا ہے کہ ’’یہ مضحکہ خیز ہے کہ ہندوستانی خواتین کے حجاب پہننے کے حق کے دفاع کا مطالبہ کیا جارہا ہے ‘‘۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ رام چندر گوہا کے 2018 کے ٹویٹس کی ایک سیریز دوبارہ گردش کر رہی ہے، جس میں ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کا حوالہ دیتے ہوئے گوہا نے لکھا تھا کہ ’’مسلم خواتین کے لیے پردے کا لازمی نظام ’’ایک سماجی برائی ہے‘‘ جو کہ ہندوؤں کی سماجی برائیوں سے بھی زیادہ شدید ہے۔ دی انڈین ایکسپریس کے لیے مارچ 2018 کے کالم میں، گوہا نے برقع کا ترشول (ہندو ترشول) سے موازنہ کیا تھا اور دلیل دی تھی کہ یہ’’عقیدے کے انتہائی رجعت پسند، مخالف پہلوؤں کی نمائندگی کرتا ہے‘‘۔

برقع، نقاب یا حجاب کی اس قسم کی ہائپربولک مذمت اخلاقی برتری کے ایک خاص احساس سے ہوتی ہے جو کہ جدید لبرل فکر کا بہت ہی اہم عنصر ہے۔واضح طور پر، پدرانہ سماجی اصولوں پر لبرل طبقے کی تنقید میںکچھ بھی غلط نہیں ہے۔مگرجس طریقے سے آج کے ہندوستان میں ہورہا ہے ۔وہ اکثریتی پسندی کے مزاج کو تقویت ہی بخشی جارہی ہے۔ ماضی سے کچھ لبرل تنقیدوں کو مستعار لیا جارہا ہے جیسے کہ گوہا کا امبیڈکر یا اصلاح پسند مفکر، حامد دلوائی کے حوالے کو سیاق و سباق سے ہٹاکر پیش کئے جانے سے صرف ہندو اکثریتی طبقے کو فائدہ پہنچانے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔وہ ایک ایسے ماحول میں غیر جانبداری کا پردہ ڈالتے ہیں جو غیر جانبدار کے سوا کچھ بھی ہے۔

سیدھی سیدھی مسلمانیت
مزید برآں’جدید لبرل‘ کی طرف سے حجاب پر سخت ترین تنقید مسلمانوں اور اسلام کے بارے میں ان کا ایک انتہائی ضروری نظریہ سے نکل کر سامنے آتا ہے جس میں وہ مرکزی دھارے میں ایک خاص قسم جس کا خاکہ انہوں نے خود تیار کیا ہے کے مسلمانوں کو قبول کرتے ہیں
یہ نظریہ ایک مستشرق بائنری کے فکر سے مستعار ہے۔جس میں وہ ’’اچھے مسلمان اور برے مسلمان ‘‘کی تشریح پیش کرتے ہیں۔جس میں حجاب پہننے کو ضروری طور پر برا اور ترقی کے مخالف کے طور پر دیکھتے ہیں۔جب کہ حجاب نہیں پہننے والوں کو جدید یا مستقبل کے طور پر دیکھتے ہیں۔یہ لبرل سٹریٹ جیکٹ حجاب کی یہ تشریح کرکے بہت سے مختلف طریقوں کو دھندلا تے ہیں، خاص طور پر ایک مسلم خاتون کے مقام ۔جو وہ رضاکارانہ طور پر اپنے کپڑے کا انتخاب کرتی ہیں۔
جیسا کہ ایک نوجوان مسلم گریجویٹ، ثانیہ مریم نے گوہا کے جواب میں لکھاہے کہ’’ حجاب سے متعلق یہ سکہ بند نظریہ دراصل مسلمانوں کے مختلف پہلوؤںسے مکمل عدم وابستگی، اور مسلم کمیونٹی کے اندر زندگی گزارنے کے بے شمار طریقوں کو قبول کرنے سےانکار کے مترادف ہے‘‘۔
مختصراًپردہ کرنے کے محرکات مختلف ہوتے ہیں، اور یہ صرف کسی کے مذہب اور سیاست کا اظہار نہیں ہو تاہے۔مثال کے طور پر، سان فرانسسکو میں ہسپانوی فلو کے پھیلاؤ کے دوران، ترک یاشمک نقاب کو عام آبادی نے ماسک کے طور پر استعمال کیا۔
بیڈوین معاشرے کے بارے میں لکھتے ہوئےماہر بشریات لیلا ابو لغود نے ہمیں یاد دلایا ہے کہ ؤ پردہ “رضاکارانہ اور حالات کے مطابق” ہے۔ یہ سماجی سکون کی ایک حد تک نمائندگی کرتا ہے، اس بات پر منحصر ہے کہ جب پہنا جاتا ہے تو اسے کس طرح استعمال کیا جاتا ہے۔ ابو لغود ہمیں بتاتے ہیں کہ یہ سب سے زیادہ ’’معمولی احترام کا نظر آنے والا عمل‘‘ بھی ہے۔
فرقہ وارانہ ایجنڈے کے ساتھ لبرل افکار کا یہ امتزاج حیران کن لگ سکتا ہے، لیکن یہ تاریخی نہیں ہے۔ فاشسٹ اور لبرل سیاست دونوں کا ماضی میں آمرانہ سیاست کے ساتھ نامیاتی رشتہ رہا ہے۔اطالوی فلسفی اور قدیم ترین فاشسٹ دانشوروں میں سے ایک، جینٹائل جیوانی نے بینیٹو مسولینی کے نام لکھے گئے اپنے ایک خط میں لبرل سماجی نظریہ اور آمرانہ ریاستوں کے درمیان نامیاتی تعلق کا انکشاف کیا ۔

اس طرح، ہمیں ایک نئے مقبول لبرل ڈسکورس کی ضرورت ہے جو ہمیشہ آفاقی اخلاقی ضابطوں پر انحصار نہ کرے،بلکہ سیاق سباق میں سمجھ کر ضابطوں کو تشکیل دےاور یہ سمجھے کہ مرکزی دھارے کے معاشرے میں کس انداز میں متعارف کرایا جا رہا ہے۔ بصورت دیگر، ہم اکثریتی طرز عمل کے کلچر کی طرف رجوع کرتے رہیں گے جو ہر طرف سے اقلیتوں کے گرد دیواریں کھڑی کرتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین