Friday, April 12, 2024
homeتجزیہون ورلڈ آرڈر اور اسلام ------------------ اسلام کو ختم کرنے کے...

ون ورلڈ آرڈر اور اسلام —————— اسلام کو ختم کرنے کے لئے کیا منافقین اب بھی موجود ہیں؟

پہلی قسط
شوکت علی خان یوسف زئی

اسلام صرف ایک دین یا مذہب ہی نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے ‘ جو افراد کی دینی و اخلاقی تربیت پر زور دیتا ہے۔ اسلام کا مقصد دنیا سے شرک‘ بت پرستی‘ بے دینی‘ گمراہی اور تمام برائیوں کا خاتمہ کرنا اور انسانیت کو راہ راست پر لانا ہے۔ اس مذہب میں داخل ہونا بہت آسان ہے ‘ اس کے لئے زبان سے کلمہ پڑھ لینا اور دل میں اس کا یقین کرلینا ہوتا ہے۔ ہم کو کسی کے دل کا حال معلوم نہیں ہوسکتا‘ اس لئے جو بھی زبان سے اللہ کے ایک ہونے اور حضرت محمد ﷺ کے رسول ہونے کا اقرار کرلے وہ مسلمان ہے‘ یہی تعلیم رسول اللہ ﷺ نے دی ہے۔ آپ ﷺ کی حیات مبارک کے دوران مکہ معظمہ میں جن نیک نفوس نے اسلام قبول کیا تھاان کا ایمان بہت پکا تھا‘ اسلام قبول کرنے والی ان مقدس ہستیوں کو اذیتیں اور تکلیفیں دی گئیں ‘ تاکہ وہ اسلام سے پھر جائیں۔ لیکن وہ ثابت قدم رہے۔ ا سلام قبول کرنے پر ان کو کیا ملا؟ کیا ان کو دنیا کی نعمتیں اور لذتیں ملیں کہ اس کے لالچ میں وہ اس نئے مذہب میں داخل ہوئے ؟کئی افراد نے نعمتوں اور آرام و آسائش کی زندگی چھوڑ کرغریبی و تنگ دستی کی زندگی کو گلے لگا لیا۔ راہ حق میں مصیبتیں برداشت کرنے اور تکلیفیں جھیلنے کا یہ جذبہ سوائے اسلام کے کسی اور مذہب کے ماننے والوں میں نہیں دیکھا جاتا ۔ مکہ سے رسول اللہ ﷺ کی ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں اسلام کا نیا دور شروع ہوا اور وہ پھلنے پھولنے لگا۔ فتح مکہ کے بعد سارا عرب دائرہ اسلام میں داخل ہوگیا۔ اور سو سال کے اندر دنیا کے بڑْ حصہ پر اسلام کا پرچم لہرانے لگااور بے شمار افراد نے اسلام قبول کیا ۔
رسول اللہ ﷺ کے دور میں ہی بعض ایسے بھی تھے جنہوں نے صرف زبان سے کلمہ پڑھا تھا اور دل میں اس کا یقین نہیں رکھاتھا۔ ان کو منافقین کہا جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کو اس کا علم تھا ‘ کہ فلاں فلاں شخص بظاہر تو مسلمان ہے لیکن اندر سے وہ اسلام کو اور رسول اللہ ﷺ کو مٹانے کی سازشیں کرتا رہتا ہے۔ لیکن رسول اللہ ﷺ نے اس کا علم ہوجانے کے بعد بھی ان سے کچھ نہیں کہا ۔ نہ اعتراض کیا نہ ان سے لڑائی کی اور نہ ان کا قتل کیا۔ رسول اکرم ﷺ نے حضرت حذیفہ بن یمان کو اس وقت موجود تمام منافقین کے نام بتا دیئے تھے ‘ تاہم ان کو ہدایت تھی کہ وہ کسی پر یہ نام ظاہر نہ کریں۔ حضرت عم فاروق ؓ بار بار حضرت حذیفہ سے پوچھتے تھے کہ اس فہرست میں کہیں ان کا نام تو نہیں ہے ۔ منافقین کا مقصد خودکو مسلمان ظاہر کرتے ہوئے اندر سے اسلام کو ختم کرنے یا کھوکھلا کرنے کی سازشیں کرنا اور باطل قوتوں کے ساتھ مل کر ناپاک عزائم کی تکمیل کرنا تھا۔ بہترین دور میں منافقین موجود تھے تو کیا اس کے بعد ان کا وجود ختم ہوگیا؟ کیا اب منافقین نہیں ہیں جو اسلام کو اندر اندر سے کھوکھلا کرکے اسے ختم کرنے کی سازشیں نہیں کررہے ہیں ؟ یہ ہر دور میں رہے ہیں اور آخر زمانہ تک رہیں گے اور اسلام کو ختم کرنے کی سازشوں کا لازمی حصہ بنتے رہیںگے۔
اسلام کا مطلب غیب پر ایمان لانا ہے
ہم جب خود کو مسلم کہتے ہیں تو یہ اس بات کا اعلان ہے کہ ہم غیب پر ایمان لاتے ہیں‘ اور ان چیزوں پر ایمان لاتے ہیں جن کو ہم نے دیکھا نہیں ہے‘ لیکن اس کا اللہ نے ذکر کیا ہے اور رسول اللہ ﷺ نے ہم کو اس سے واقف کروایا ہے۔ مسلمانو ںکا بنیادی عقیدہ یہ ہے ۔
اَمْنتُ بِاللہ ِ وَ مَلٰیِکَتِہِ وَ کُتُبِہ وَ رَسُوْلِہ ِوَاْلْیَوْمِ الْاٰ خَرِ وَالْقَدْرَ خَیْرِہِ وَشَرِہِ منْ اللہ ِ تَعَالیٰ ( وَالْبَعَثِ بَعْدَ الْمُوْتْ)
یعنی ایمان لایا/لائی میں اللہ پر ‘ اس کے فرشتوں پر ‘ اس کی کتابوں پر ‘ اس کے رسولوں پر ‘ بدلہ کے دن (آخرت ) پر اور تقدیر پر جس کا اچھا اور برا ہونا اللہ کی طرف سے ہے ‘ اور مرنے کے بعد اٹھائے جانے پر ۔
صرف صحابہ کرام ؓ کو یہ شرف و اعزاز حاصل تھا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا اور آپ ﷺ کی صحبت میں وقت گزارا تھا۔ صحابہ کرام ؓ کے زمانہ کے بعد ہر مسلمان نے بغیر دیکھے ان تمام باتوں پر ایمان لایا ہے اور اس ایمان کو عقل کی کسوٹی پر نہیں پرکھا ہے۔ جو راسخ العقیدہ مسلمان ہیں وہ کبھی عقل ‘ یا سائنس یا کسی فلسفہ سے مقابلہ کرتے ہوئے اسلام کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ان کے پاس تو دین وہ ہے جس کی تعلیم رسول اللہ ﷺ نے دی تھی اور صحابہؓ نے اس پر عمل کرکے دکھایا تھا۔ ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے نہ صحابہ کو دیکھا ہے ‘ نہ تابعین کو اورنہ تبع تابعین کو۔ البتہ آج کا مسلمان ان ہستیوں کے ذریعہ تواتر سے آنے والی روایات اور تعلیمات کو سنتے اور پڑھتے ہوئے اس پر اپنے ایمان کی بنیاد رکھے ہوئے ہے۔ میری اس حقیر کوشش کا مقصد بھی ایسے ہی راسخ العقیدہ مسلمانوں کو چند اہم امور سے واقف کروانا ہے‘ جو ان کی نظروں سے اوجھل ہیں۔ انگریزی زبان میں مسلمانوں کے تعلق سے ‘ ان کی تائید و حمایت میں اور ان کی مخالفت میں جو لٹریچر چھپتا ہے۔ ویب سائٹس پر جو مواد دیا جاتا ہے ‘ اس سے ہمارے اردو داں بھائی بہنیں واقف نہیں ہیں۔ ہمارے خلاف جو سازشیں کی جارہی ہیں وہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں ظاہر ہونے لگی ہیں ۔ میں ایسی ہی چند سازشوں کو آپ کے سامنے لا رہا ہوں ۔ میں یہاں جو کچھ بھی پیش کررہا ہوں وہ میری رائے نہیں ہے۔ یہ انگریزی کتابوں میں درج باتوں کا خلاصہ ہے۔ ان میں بیشتر مواد اسلام دشمن عناصر کا لکھا ہے ‘ اس میں کتنی صداقت ہے ا س کے بارے میں ہمارے علما اور ماہرین روشنی ڈال سکیں گے۔
اسلام کے خلاف سازشوں کا لٹریچر
میں نے جو کچھ بھی لکھا ہے وہ میرے ذاتی خیالات نہیں ہیں۔ بلکہ میں نے اس کے لئے بالعموم انگریزی زبان میں موجود لٹریچر سے استفادہ کیا ہے ۔ وہ بھی اسلئے کہ میں جس نقطہ نظر سے مطالعہ کررہا ہوں ویسا لٹریچر اردو زبان میں نہیں ہے‘ اگر ہے بھی تو اس تک میری پہنچ نہیں ہوسکتی۔ ایک چیز میں نے محسوس کی ہے کہ مغربی قلمکار بہت ہی تحقیق کے بعد لکھتے ہیںخواہ وہ صحیح ہو یا نہ ہو ۔ ان کی تحریروں میں تعصب اور جانبداری جھلکتی ہے اور وہ ہمارے نزدیک غلط اور گمراہی سے بھری ہوئی ہیں ‘ لیکن ہمارے پاس صداقت کو پرکھنے کا ایک معیار ہے او وہ ہے قرأن و سنت‘ صحابہ کرا م اور ہمارے علمائے کرام کا رویہ اور ان کی تعلیمات۔ اس سیریز میں ان لوگوں‘ ان تنظیموں اور ان اداروں کی بات کی گئی ہے جو گزشتہ کئی صدیوں سے اسلام کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی سازشیں کررہے ہیں ۔ ان کی یہ سازشیں سیاسی ‘ سرکاری ‘ سماجی اور مذہبی بنیادوں پر ہورہی ہیں جس سے کوئی صاحب سمجھ انکار نہیں کرسکتا۔
اس کے علاوہ میں جو باتیں کہہ رہا ہوں وہ ہمارے انگریزی داں حضرات کے علم میں ہوں یا نہ ہوں لیکن اغیار کے علم میں تو ہیں اور وہ اس پر ریسرچ کرتے جارہے ہیں۔لیکن ہمارے علمأ‘ دانشور اور اسکالرز ان باتوںسے واقف نہیں ہیں اور نہ ہی واقف ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔خیال آیا کہ اس سے ہمارے مسلم علمأ و دانشوروں اور اسکالرز کو بھی واقف کروایا جائے ۔وہ لوگ اور وہ ادارے جن کے تعلق سے انکشافات کئے گئے ہیں‘ وہ اپنا موقف واضح کرسکیں گے ۔ یہ مغربی مفکرین و اسکالرز کی رائے ہے۔ ہم ان کی باتوں کی تصدیق نہیں کرسکتے اور نہ کرنا چاہتے ہیں۔ میرا مقصد تو صرف یہ بتانا ہے کہ ہمارے خلاف جو سازشیں ہورہی ہیں اور جس کا تذکرہ خود اغیار نے کیا ہے وہ ہمارے اپنے لوگوں کے علم میں لائی جائیں۔ میں سجھتا ہوں کہ اس سے مسلم سماج کے ایک بہت بڑے طبقہ کو بے حد تکلیف ہوگی۔ میرا مقصدان کے عقائید کا رد کرنا نہیں ہے۔ بلکہ اس پروپگنڈا کا ذکرکرنا ہے جو مغربی دنیا کرتی ہے ۔
آخری زمانہ میں فتنے تیزی سے ظاہر ہوں گے
رسول اللہ ﷺ نے آخری زمانہ کے تعلق سے ارشاد فرمایا ہے کہ اس زمانہ میں فتنے اس تیزی سے ظاہر ہوں گے جیسے کہ بارش کے قطرے۔ یا یہ کہ جیسے کسی مالے ( تسبیح) کی ڈور ی ٹوٹ جانے کے بعد اس کے منکے نیچے گرنے لگتے ہیں۔ میں یہاں ان فتنوں کی بات نہیں کررہا ہوں بلکہ ان لوگوں کی بات کررہا ہوں جو یہ فتنے پھیلا رہے ہیں اورہمارے ہی لوگوں میں سے چند دنیا پرست اور ہوس پرست لوگوں کو اپنا شکار اور آلہ کار بنا کر امت میں اختلافات کو ہوا دے رہے ہیں اور امت ختم رسل کو گمراہیوں سے دوچار کررہے ہیں۔
ہم سے صرف ہمارا حساب لیا جائے گا
امت مسلمہ میں جو اختلافات اور جو فتنے ہیں ان کو حضرت عثمان ؓ کے دور سے تقویت حاصل ہونی شروع ہوئی‘ اور ان فتنوں کو اس وقت موجود صحابہ کرام خصوصاً حضرت علی ابن ابی طالب ‘ حضرت حسین و حضرت حسین و دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین جیسی ہستیاں دور نہیں کرسکیں تو موجودہ دور کے علمأ و قائیدین کس طرح دور کرسکتے ہیں۔ ہم جس بات کو صحیح اور درست سمجھتے ہیں اس پر کاربند رہتے ہوئے دیگر ان تمام فرقو ںکا احترام کریں جو لاَ اِلٰہ َ اِلَّا اللہ مُحَمَدُ رَسُوْلُ اللہ کا اقرار کرتے ہیں۔ ان کے دل کی بات ہم نہیں جانتے۔ اس لئے ان کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دینا چاہئے‘ جو مرنے کے بعد ہم کو دوبارہ زندہ کرنے والا ہے اور ہم میں سے ہر ایک کا حساب لے کر اس کے عقیدہ اور عمل کے مطابق اس کا بدلہ دینے والا ہے۔ جب اللہ حساب لینے والا ہے تو ہم کون ہوتے ہیں؟ قرأنی تعلیمات کے مطابق دوسروں کے عقائد اوراعمال کا حساب ہم سے نہیںلیا جائے گا۔ ہم سے ہمارے ہی اعمال کی پوچھ ہوگی۔
میرا یہ بھی ماننا ہے کہ تمام تر گمراہیوں اور بدعات کے باوجود مسلمان جب تک اپنے عقیدہ پر مستحکم رہے تو اللہ نے ان کو حکومت بھی دی‘ عزت بھی دی اور دولت و شہرت بھی دی۔ جب بنیادی عقیدے سے ہٹنے لگے اور جب سے ایمان و عقیدہ کو عقل کی کسوٹی پر پرکھنے لگے‘ اور اپنے عقیدہ کو ہی صحیح اور دوسرے فرقہ کو یکسر غلط ماننے لگے اور ان کے خاتمے و صفائے کے درپے ہوگئے تو ذلت و خواری ہم پر مسلط کردی گئی۔ اگرچہ آج مسلمانوںکے پاس بے انتہا دولت ہے‘ تعلیم ہے ‘ تہذیب ہے‘ انتہائی اعلیٰ لائف اسٹائل ہے‘ ہمارے 57ممالک ہیں‘ تیل کے کنویں ‘ صنعیتں‘ یونیورسٹیاں‘ اعلیٰ تعلیم کے ادارے ‘ معدنیات قدرتی وسائیل سب کچھ ہے۔ لیکن نہیں ہے توپختہ ایمان اور سلف صالحین والا عمل ۔ ہمارے بے شمار ادارے اور تنظیمیں ہیں‘ جو مسلمانوں کی ترقی و خوشحالی کی جدو جہد میں مصروف ہیں۔ہر شخص اور ہر ادارہ مسلمانوں کی ترقی کے لئے اپنی اپنی سمجھ کے مطابق مختلف اسباب کا ذکر کرتا ہے۔ میں یہاں ان کا ذکر نہیں کروں گا۔
اندھوں نے ہاتھی دیکھا!
اس موقعہ پر مجھے ایک کہانی یاد آرہی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ اندھے جمع ہوئے۔ وہاں ایک ہاتھی آیا۔ سب ہاتھی دیکھنے لگے‘ ان کو بھی خواہش ہوئی۔ مگر دیکھتے تو دیکھتے کس طرح ؟ مہاوت سے پوچھا‘ ا س نے سمجھایا‘ سمجھ میں نہیں آیا تب کہا چھو کر دیکھ لو‘ چنانچہ یہ قریب گئے۔ ایک نے اس کو پاؤں کو چھو کر دیکھا اور کہا کہ ہاتھی تو موٹے ستون کی طرح ہے۔ ایک کے ہاتھ میں دم آئی‘ ا س نے کہا یہ تو کوڑے جیسا ہے‘ ایک کے ہاتھ اس کے دانتوں پر پڑے اس نے کہا یہ تو موسّل mortarجیسا ہے ‘ ایک نے سونڈکو چھو کر دیکھا ‘بولا یہ تو سانپ جیسا ہے۔ ایک نے اس کے پیٹ کو چھو کر کہا کہ یہ تو دیوار جیسا ہے۔ جس کی جتنی پہنچ اس کی اتنی بات‘ سب اپنی اپنی جگہ درست اور مجموعی طور پر غلط‘ ہاتھی ان باتوںکا مجموعہ ہونے کے باوجود ایک بالکل الگ چیز ہے ۔ یہی حال آج ہم مسلمانوں نے اسلام کا بنا رکھا ہے ۔
میرا یقین ہے کہ مسلمان اپنا کھویا ہوا مقام اس وقت تک نہیں پاسکتے جب تک کہ وہ اصل تعلیمات اور چھوڑے ہوئے انداز زندگی کو نہ اپنا لیں۔ ان میں وہ جذبہ نہ پیدا ہو کہ جب اللہ کے رسول ﷺ چٹائی پر سویا کرتے تو بدن مبارک پر اس کے نشانات پڑ جاتے‘ دو دو دن کا فاقہ ہوتا‘ پیٹ پر پتھر باندھا کرتے۔ کئی کئی دن گھر میں چولہا نہیں جلتا۔ حضرت ابو بکر خلیفہ تھے۔ ان کی اہلیہ محترمہ نے میٹھے کی خواہش کی تو آپ نے عذر کیا کہ ان کو جو تنخواہ ملتی ہے اس میں اس کی گنجائش نہیں ہے۔ ایک دن میٹھا بنایا ‘ پوچھا کہاں سے آیا‘ بی بی نے کہا کہ روز کے خرچہ میں سے تھوڑا تھوڑا بچا کر پیسے جمع کئے تھے۔ انہوں نے فوری حساب لگایااور بیت المال سے اتنی رقم کم کردی ۔ جب فاتح اعظم حضرت عمر فاروق ؓ بیت المقدس کا قبضہ لینے جارہے تھے تو اس حالت میں شہر میں داخل ہوئے کہ غلام اونٹ پر سوار تھا اور اس کی مہار اپنے وقت کے سب سے بڑے حکمران کے ہاتھ میں تھی۔ جب حضرت علی روٹی کو پانی میں بھگو کو کھارہے ہوتے تھے۔ جب حضرت عمر بن عبدالعزیز نے خلیفہ بن جانے کے بعد اپنی ساری دولت بیت المال میں جمع کروادی‘ جب رسول اللہ ﷺ کا نامہ مبارک لے کر ایک صحابی فارس کے حکمران کسریٰ پرویز کے دربار میں پپہنچے تو نیزہ قالین میں چبھاتے ہوئے اندر داخل ہوئے۔ سلطان شمس الدین التمش اور اورنگ زیب عالمگیر اپنے ہاتھ سے قرأن کی کتابت کرکے اس سے ذاتی خرچ چلایا کرتے تھے۔
اس قدر عظیم عمل کرنے کی ہمارے اندر قوت نہیں ہے‘ لیکن جذبہ اور خواہش تو ہونی چاہئے۔ ہمارے پاس کامیابی اور سرخ روئی کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہے قرأن و سنت ‘ سیرت اور ہمارے سلف صالحین و بزرگوںکا عمل ۔ ا سکی روشنی میں ہی ہم کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔ اس سے ہٹ کر ہمارے عقل مند اور دانشور لوگوں نے کئی راستے اپنا لئے ہیں۔ اللہ کے احکام و رسول کی سیرت عمل کرنے والوں کو بے وقوف‘ بد تہذیب‘ گنوار اور نہ جانے کیا کیا کہتے ہیں۔ خیر سب کا اپنا پنا طریقہ ہے اور اپنی اپنی سمجھ ہے۔ میرے دل میں جو بات تھی وہ میں نے بیان کردی۔
غیروں کی تہذیب اور تعلیم سے مرعوب و متاثر قوم
میرا یہ ماننا ہے کہ اگر ہم غیروں کے طرز تعلیم ‘ طرز رہائش ‘ تہذیب اور طرز جہانبانی سے مرعوب و متاثر اور مستفید ہو کر زندگی گزاریں گے ‘ او ر اس طریقہ کو فراموش کردیں گے جس پر چل کر ہمارے اسلاف نے دنیاپر حکومت کی تھی توہمارا حال تو وہی ہوگا جو دوسو سال سے ہورہا ہے۔ اس میں اور بھی پستی آتی جا رہی ہے ۔ ہم اپنے غرور و فخر میں ہر اس مسلمان کو کافر ‘ گمراہ اور مشرک سمجھتے رہیں گے جس کا عقیدہ یا عمل ہماری فکر اور ہمارے عقیدہ سے نہیں ملتا۔یہ سیریز انگریزی میں لکھنا میرے لئے بہت آسان تھا لیکن جان بوجھ کر اردو زبان میں تحریر کررہا ہو ں تاکہ ہمارا اردو داں طبقہ ان حقایق سے آگاہ ہوسکے جو ہم سے پوشیدہ ہیں۔ اس کی تیاری اور ترجمہ میں مجھے کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ جو اصطلاحات اور جو الفاظ میرے علم و فہم کے مطابق تھے وہ میں نے اردو میں لکھ دیئے ‘ لیکن ساتھ ہی کہیں کہیں اس کا انگریزی لفظ بھی نقل کردیا ‘ تاکہ اہل علم و انش طبقہ اس کی مزید کھوج کرسکے اور مزید معلومات حاصل کرسکیں ‘ جو میرے احاطہ علم سے باہر ہیں۔ یہ سب لکھنے کا بنیادی مقصد یہ کہ برادران اسلام کو ان سازشوں سے واقف کروایا جائے جن کے نتیجہ میں موجود ہ حالات پیدا ہورہے ہیں۔ اس طرح قارئین موجودہ زمانہ میں پیش آنے والے حالات و واقعات کا باریک بینی سے جائزہ لے کر اس نتیجہ پر پہنچ سکیں گے کہ ایسا کیوں ہورہا ہے’ پھر اس کے بعد ان کا رد عمل بھی اس رد عمل سے مختلف ہوگا جو وہ عام طور پر کرتے ہیں۔
( جاری ہے )

متعلقہ خبریں

تازہ ترین