Friday, April 12, 2024
homeدنیاحرمین شریفین میں غیر مسلموں کے پابندی کے باوجود اسرائیلی یہودی صحافی...

حرمین شریفین میں غیر مسلموں کے پابندی کے باوجود اسرائیلی یہودی صحافی نے حرم مکی کا دورہ کیا اور 10منٹ کی ڈکیومنٹری فلم بنائی۔ جبل رحمت اور دیگر مقامات مقدسہ تک اسرائیلی صحافی کی رسائی۔مسلمانوں میں شدید ناراضگی۔۔سعودی عرب اس پورے معاملے میں خاموش

مکۃ المکرمہ(انصاف نیوز آن لائن/رائٹر/الجزیرہ نیوز)
حرمین شریفین میں غیر مسلموں کی رسائی پر مکمل طور پر پابندی ہے اور یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سے ہی اس پر پابندی نافذ ہے اور گزشتہ 14سوسالوں سے یہ پابندی عائد ہوتی رہی ہے۔اس پابندی کے باوجود جدہ میں امریکی صدر کے دورہ کی خبرکا کوریج کرنے کیلئے موجود اسرائیلی صحافی نے گل تمر نے نہ صرف اس پابندی کی خلاف ورزی کی بلکہ حرمین شریفین اور جبل رحمت کا دورہ کیا اور دس منٹ کی ڈیگومنٹری بنائی اور اس کو اسرائیلی ٹی وی چینل 13پر نشر کیا گیا۔ٹی وی پر پروگرام آنے کے بعد مسلمانوں کے درمیان شدید ناراضگی ہے اور ممکنہ طور پر تل ابیب اور خلیجی ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کو کشیدہ کر دیا ہے۔

اسرائیل کے چینل 13 نیوز کے دس منٹ کی دورانیے کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک یہودی صحافی گِل تمرے مسجد الحرام کی طرف سفر کرتا ہے اور جبل رحمت پر بھی چڑھتا ہے۔ سعودی قوانین کے تحت کسی غیر مسلم کا اس جگہ داخلہ ممنوع ہے۔اسرائیلی صحافی کے ساتھ بظاہر ایک مقامی گائیڈ موجود تھا، جس کا چہرہ ویڈیو میں دھندلا دیا گیا ہے تاکہ اس کی شناخت ظاہر نہ ہو۔ گل تمرے کیمرے کے سامنے ہیبرو زبان میں آہستہ آواز کے ساتھ بولتے ہیں اور بعض اوقات وہ اپنی اسرائیلی شناخت چھپانے کے لیے فورا انگریزی زبان بولنا شروع کر دیتے ہیں۔
اسرائیلی وزیر کے مطابق صحافی کی اس حرکت کے اسرائیل کے خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔ اسرائیلی وزیر ایساوی فریج کا سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ”مجھے افسوس ہے (لیکن) ایسا کرنا اور پھر اس پر فخر کرنا ایک احمقانہ چیز تھی۔“ انہوں نے مزید کہا، ”صرف ریٹنگ کی خاطر اس رپورٹ کو نشر کرنا غیر ذمہ دارانہ اور نقصان دہ تھا۔“سعودی حکومت نے ابھی تک اسرائیل کو سرکاری سطح پر تسلیم نہیں کیا۔ ریاض حکومت اسرائیل کو تسلیم کرنے سے پہلے ایک الگ فلسطینی ریاست کا قیام چاہتی ہے۔اس رپورٹ کے نشر ہونے کے بعد ہی ٹویٹر پر ”اے جیو اِن مکاز گرینڈ ماسک“ ٹرینڈ کرنے لگا تھا۔
اسرائیل کے حامی سعودی کارکن محمد سعود نے ٹویٹر پر کہاکہ ”اسرائیل میں میرے پیارے دوستو! آپ کا ایک صحافی اسلام کے مقدس شہر مکہ میں داخل ہوا اور وہاں اس نے بے شرمی سے فلم بنائی۔“ انہوں نے مزید لکھاکہ ”چینل 13 دین اسلام کو اس طرح ٹھیس پہنچانے پر تم کو شرم آنی چاہیے، تم بدتمیز ہو۔“
سعودی میڈیا پر حکومت کی گرفت سخت ہے اور اس نے اس سٹوری کو کوئی کوریج نہیں دی اور نہ ہی سعودی حکام نے اس حوالے سے کوئی تبصرہ کیا ہے۔تمرے گزشتہ جمعے کے روز امریکی صدر جو بائیڈن کے دورے کی کوریج کے لیے جدہ میں موجود تھے۔ ابھی تک یہ بھی واضح نہیں ہے کہ آیا انہوں نے سعودی حکام سے اس کی اجازت طلب کی تھی؟ یا نہیں تاہم آن لائن شدید احتجاج کے بعد مذکورہ صحافی نے بھی اس معاملے پر معافی مانگ لی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچانا چاہتے تھے۔
تمرے نے ٹویٹر پر لکھا ہے کہ ”اگر کسی کو یہ ویڈیو بری لگی ہو تو میں دل کی گہرائیوں سے معذرت خواہ ہوں۔ اس پوری کوشش کا مقصد مکہ کی اہمیت اور دین اسلام کی خوبصورتی کو ظاہر کرنا تھا اور ایسا کرتے ہوئے مذہبی رواداری اور شمولیت کو فروغ دینا تھا۔“
رپورٹ کو ایک سکوپ کے طور پر بل کیا گیا تھا اور یہ صحافی پہلا یہودی اسرائیلی رپورٹر تھا جس نے مسلمانوں کے سالانہ حج کی دستاویز کی تھی۔رپورٹ کے نشر ہونے کے بعد اس فوٹیج کو شدید آن لائن ردعمل ملا، جس میں ٹوئٹر ہیش ٹیگ ”A Jew in Mecca’s Grand Mosque” ٹرینڈ کر رہا ہے۔

اسرائیلی صحافی نے ”اس پوری کوشش کا مقصد مکہ کی اہمیت اور مذہب کی خوبصورتی کو ظاہر کرنا تھا، اور ایسا کرتے ہوئے، مزید مذہبی رواداری اور شمولیت کو فروغ دینا تھا“۔صحافی نے دعویٰ کیا کہ ”تحقیق صحافت کا مرکز ہے” اور یہ کہ اس کی رپورٹنگ لوگوں کو ”پہلی بار، ایک ایسی جگہ دیکھنے کی اجازت دینے کی خواہش سے رہنمائی کی گئی ہے جو ہمارے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کے لیے بہت اہم ہے۔
جبل رحمت میدانِ عرفات میں واقع ہے، جہاں 14 صدیاں قبل پیغمبر اسلامؐ نے اپنا آخری خطبہ دیا تھا۔مکہ دنیا میں مسلمانوں کے لیے سب سے مقدس عبادت گاہ ہے، اس کے بعد مدینہ میں مسجد نبوی اور یروشلم میں مسجد اقصیٰ ہے۔
سعودی عرب نے گرچہ اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا مگر پردے کے پیچھے، دونوں فریق اپنے مشترکہ دشمن ایران کے خطے میں بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر مشترکہ تشویش کے ساتھ کچھ عرصے سے سیکیورٹی کے معاملات پر مل کر کام کر رہے ہیں۔سعودی عرب نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ وہ اپنی فضائی حدود تمام ہوائی جہازوں کے لیے کھول دے گا، جس سے اسرائیل کے لیے اور وہاں سے زیادہ پروازوں کی راہ ہموار ہو جائے گی، اس بات کی مزید علامت ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات گرم ہو رہے ہیں۔بائیڈن انتظامیہ چاہتی ہے کہ سعودی عرب کو معمول پر لانے والے معاہدوں میں اپنا اضافہ ہو جسے ”ابراہام ایکارڈز” کہا جاتا ہے، سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں ایک ایسا عمل جس میں اسرائیل نے متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لایا تھا۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین