Friday, April 12, 2024
homeبنگالناعاقبت اندیش امام اور متولی نے ایک بار پھر ناخدا مسجد کے...

ناعاقبت اندیش امام اور متولی نے ایک بار پھر ناخدا مسجد کے تقدس کو پامال کیا —طاقت کے نشے میں چور نائب امام قاری شفیق پر متولی اور موذن پر حملہ کرنے کا الزام۔۔۔مسجد کی مرمت اور انتظام و انصرام کی ذمہ داری کون انجام دے گا؟متولی کے رہتے ہوئے نائب امام نے کس حق سے اپنے طور پر مستری کو بلایا۔اگر متولی حضرات غلط کررہے تو کیاامام کو غنڈہ گردی کرنے کا حق ہے؟گالی دینے کا آڈیو لیک ہونے کے بعد بھی نائب امام کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہوئی؟

کلکتہ (انصاف نیوز آن لائن)
کلکتہ شہر کی تاریخی مسجد ناخد ا ایک بار پھر میدان جنگ میں تبدیل ہوگیا ہے۔مسجد کے دفترکے مرمت کو لے کر متولی اور اما م کے حامیوں کے درمیان مارپیٹ ہوا ہے۔بلکہ متولی صالح عبد اللہ نے دعویٰ کیا کہ وہ تنہا مسجد میں گئے تھے اور قار ی شفیق نے پہلے سے ہی 30سے40لڑکے کو بلاکر رکھا ہوا تھا۔جب ان سے کہا گیا کہ دفتر کی مرمت کا کام متولی کی نگرانی میں ہوگا۔آپ کو کس نے حق دیا کہ اپنے طور پر کام کرائیں۔صرف یہ پوچھنے پر قاری شفیق نے بذات خود حملہ کردیا اور اس کے بعد ان کے حامیوں نے بھی مارپیٹ کی۔


زخمی موذن حا فظ ریاض الدین

گرچہ جمعہ کی نماز کے بعد قاری شفیق نے پریس کانفرنس کے ذریعہ جو دعویٰ کئے ہیں اس کے مطابق مسجد کے دفتر کو دوحصہ کرکے متولی ایک کمرہ کو کرایہ پر دینے کی کوشش کررہے تھے ہم نے اس کی مخالفت کی۔جب کہ متولی کا دعویٰ ہے کہ بڑے پیمانے پر لوگ مسجد کی مدمیں چندہ دیتے ہیں۔مگر ائمہ حضرات اس کا حساب نہیں دیتے ہیں۔اس لئے متولی کا ایک دفتر بنایا جارہا تھا۔متولی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مسجد میں قاری شفیق کے رشتہ دار غیر قانونی طریقے سے رہتے ہیں۔منع کرنے کے باوجود وہ ماننے کو تیار نہیں ہے۔مسجد کے ایک کمرے پر پہلے سے ہی قاری شفیق نے قبضہ کررکھا ہے۔
خیال رہے کہ 29رمضان کو فجر کی نماز میں نائب امام قاری شفیق نے مبینہ طور پر مسجد کے موذن عبد العزیز پر حملہ کردیا۔مسجد کے سی سی ٹی وی کیمرے کو جان بوجھ کر خراب کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ نکاح پڑھانے کے رقم کو لے کر بھی امام اور موذن کے درمیان تنازع ہے۔قاری شفیق کے بھتیجے نظام الدین اور موذن کے درمیان تنازع ہوچکا ہے اور قاری شفیق کے اشارے پر جوڑا سانکو تھانے میں ایک کیس درج کیا گیا تھا۔اس کی تفصیل انصاف نیوز آن لائن اپنے گزشتہ اسٹوری میں دے چکا ہے۔

اس کو بھی پڑٔھیں

مسجد ناخدا میں نائب ائمہ اورموذنین کے درمیان تنازع کہیں مسجد کی رسوائی کا ذریعہ نہ بن جائے—– فجر کی نماز میں نائب امام اور موذن کے درمیان جھگڑا کے ڈیڑھ مہینے بعد بھی مسجد کے متولیان کارروائی کرنے سے قاصر۔ سیاسی اثر و رسوخ کوحوالہ دے کر مسجد کے متولیان کا اظہار بے بسی۔ آخر مسجد کے متولیان خوف زدہ کیوں ہے؟ مسجد کا بیشتر سی سی ٹی وی کیمرہ خراب۔ نکاح کی فیس کی تقسیم کا مسئلہ گزشتہ ڈیڑھ سالوں سے کیوں الجھا ہوا ہے؟۔ مسجد کے موذنین کے خلاف کیس کس کے اشارے پرکیا گیا؟

گزشتہ ایک سال سے زاید عرصے سے مسجد کے امام اور موذنین کے درمیان تنازع بدترین شکل اختیار کرتا جارہا ہے۔مسجد کا تقدس پامال ہورہا ہے اور شہر کے سرکردہ سماجی شخصیات اور ملی ادارے اس پورے واقعے میں کچھ بھی کرنے سے قاصر ہیں۔علاقے کے کونسلر کھلے عام قاری شفیق کی حمایت کررہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق مسجد کے پہلی منزل پر واقع امام کے دفتر کی مرمت کے کام کو لے کر امام اور متولی کے درمیان تنازع شروع ہوا۔آج صبح معلوم ہوا کہ قاری شفیق نے اپنے طور پر تعمیری کام شروع کردیا ہے تو متولی نے انہیں فون کرکے بات کرنے کی کوشش کی مگر انہوں نے فون نہیں اٹھایا۔اس کے بعد متولی اقبال عبد اللہ نے مسجد کے موذن حافظ ریاض الدین کو فون کیاکہ امام صاحب سے بات کرائیں۔حافظ ریاض جو اس تنازع میں زخمی ہوگئے ہیں نے بتایا کہ وہ صرف امام صاحب سے کہا کہ متولی صاحب فون کررہے ہیں بات کررہے ہیں۔اتنا بولنا ہی تھا کہ قاری شفیق کے لڑکوں نے حملہ کردیا۔اسی اثنا میں متولی بھی آگئے ان کے ساتھ بھی قاری شفیق اور ان کے لڑکوں نے مار پیٹ کی۔

مسجد کے نائب امام قاری شفیق نے الزام لگایا کہ دفترسے ملحق کمرے کو الگ کرکے مسجد کے متولی فروخت کرنے کی کو شش کررہے ہیں۔اس لئے ہم نے مداخلت کی ہے۔

قاری شفیق کے حا میوں میں شمار کئے جانے والے تاج جو مقامی کونسلر کے شوہر ہیں نے موذن ریاض پر سنگین الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے مسجد میں زنا (نعوذ باللہ)کیا ہے۔سوال یہ ہے کہ یہ دعویٰ ابھی کیوں کیاجارہا ہے۔جب یہ واقعہ ہوا اس وقت کیوں نہیں ہوا۔زنا کا الزام کوئی معمولی بات نہیں ہے۔بہر صورت اس کی جانچ ہونی چاہیے۔

تاہم مسجد کے ایک متولی صالح عبد اللہ نے الزام عاید کیا کہ قاری شفیق سراسر جھوٹ بول رہے ہیں، وہ مسجد کے ایک کمرے پر پہلے سے قابض ہیں اور دفتر سے متصل کمرے کو بھی اپنے تصرف میں لینا چاہتے ہیں۔متولیان مسجد کے دفتر کی مرمت کرکے متولی کے دفترکیلئے ایک کمرہ بنارہے ہیں مگر قاری شفیق نے ہماری اجازت کے بغیر اپنے طور پر کام کرانا شروع کردیااور جب ہم نے اس کی مخالفت کی تو ان کے 70غنڈے مسجد کے موذن اور مجھ پر حملہ کردیا۔اقبال عبد اللہ نے کہا کہ اس سے قبل بھی فجر کی نماز میں قاری شفیق نے مسجد کے موذن عبد العزیز پر مائیک پھینک کر حملہ کیا تھا۔اس وقت ہم لوگوں نے مسجد کے تقدس کے پیش نظر معاملے کو رفع دفع کرنے کی کوشش کی تھی مگر وہ طاقت کے زعم میں ہے۔انہیں گمان ہے کہ چوں کہ انہیں حکمراں جماعت کی حماحت حاصل ہے اس لئے ہر غلط کام کرسکتے ہیں۔

خیال رہے کہ مئی2021میں بھی نکاح پڑھانے کو لے کر امام اور موذن کے درمیان تنازع ہوا تھا۔قاری شفیق کے بھتیجے اور رشتہ داروں کی جانب سے مو ذن کے خلاف مارپیٹ کرنے کا کیس درج کیا گیا تھا۔
انصاف نیوز کے چند سوالات۔۔۔
مسجد کے انتظام و انصرام کی ذمہ داری کس کی ہے؟
متولی امام کے ماتحت ہیں یا پھر امام متولی کے ماتحت ہے
قاری شفیق کو کس نے حق دیا کہ وہ اپنے طور پر دفتر کی مرمت کا کام کرائیں۔
فجر کی نماز میں مارپیٹ کے معاملے کی جانچ کیوں نہیں کرائی گئی ہے۔
گالی گلوج کی آڈیو لیک ہونے کے بعد بھی امام کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہوئی

متعلقہ خبریں

تازہ ترین