Friday, April 12, 2024
homeاہم خبریں2020دہلی فسادات مرکزی وزارت داخلہ کی ناکامی کانتیجہ۔۔فسادات کی سازش سے متعلق...

2020دہلی فسادات مرکزی وزارت داخلہ کی ناکامی کانتیجہ۔۔فسادات کی سازش سے متعلق دہلی پولس کے دعوے تضادات پر مبنی۔۔ سابق سینئر ججوں اور سابق بیورو کریٹ پر مشتمل سٹیزن کمیٹی کی رپورٹ میں دہلی پولس کے کردار پر سوال کھڑا کیا گیا۔

نی دہلی: انصاف نیوز آن لاین

ملک کے سابق چار سینئر ججوں اور سابق بیورو کریٹ پر مشتمل ایک سٹیزن کمیٹی نے فروری 2020میں ہوئے دہلی فرقہ وارانہ فسادات سے نمٹنے کےلئے مرکزی وزارت داخلہ جس کی قیادت امیت شاہ کررہے ہیں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔
’’غیر یقینی انصاف‘‘ کے عنوان سے یہ رپورٹ سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج مدن بی لوکر کی سربراہی میں سول سوسائٹی کمیٹی نے تیار کی ہے۔ کمیٹی کے دیگر ارکان میں سابق جج اے پی شاہ، آر ایس سوڈھی اور انجنا پرکاش اور سابق مرکزی داخلہ سکریٹری جی کے پلئی شامل تھے۔
رپورٹ میں فرقہ وارانہ تشدد پر توجہ مرکوز کی گئی ہے جو 23 فروری سے 26 فروری 2020 کے درمیان شمال مشرقی دہلی میں ہوئے تھے۔شہریت ترمیمی ایکٹ کے حامی اور مخالفین کے درمیان تصادم کی وجہ سے یہ فرقہ وارانہ فسادات ہوئے ہیں ۔ تشدد میں 53 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔
دہلی پولیس کا دعویٰ ہے کہ تشدد وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کو بدنام کرنے کی ایک بڑی سازش کا حصہ تھا ۔اس فسادات کے پیچھے وہ طاقتیں تھیں جنہوں نے شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف احتجاج کا اہتمام کیا تھا۔دہلی پولس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مظاہرین کے علاحدگی پسندانہ مقاصد تھے اور وہ حکومت کو غیر مستحکم کرنے کے لیے ’’سول نافرمانی کا چہرہ‘‘ استعمال کر رہے تھے۔ پولیس نے ان سازشی الزامات کی بنیاد پر کئی کارکنوں اور طلباء کو گرفتار کیا ہے۔

کمیٹی نے رپورٹ میں یہ بھی کہا کہ دہلی حکومت نے تشدد کے اس عرصے میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان ثالثی کرنے کے لیے’’ثالثی کردار ‘‘ ادا نہیں کیا ہے ۔ تاہم اس نے تسلیم کیا کہ دہلی حکومت کے پاس تشدد پر قابو پانے کی محدود صلاحیت ہے، کیونکہ دہلی پولیس مرکز کے کنٹرول میں ہے۔

کمیٹی نے کہا کہ بڑے سازشی کیس میں دہلی پولیس نے اپنی چارج شیٹ میں جو ثبوت پیش کیے ہیں وہ دہشت گردی کے الزامات کو درست ثابت کرنے کی قانونی حد پر پورا نہیں اترتے ہیں ۔

رپورٹ کہا گیا کہ فروری 2020 میں دہلی تشدد ’’جمہوری اقدار کو خوفناک طور پر پامال کرنے‘‘کا نتیجہ ہے ۔

کمیٹی نے کہا کہ مرکزی وزارت داخلہ فرقہ وارانہ تشدد پر قابو پانے کے لیے موثر اقدامات کرنے میں ناکام رہی حالانکہ وہ دہلی پولیس کے ساتھ ساتھ مرکزی نیم فوجی دستوں کو بھی کنٹرول کرتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 24 اور 25 فروری کو پولس کے اعلیٰ افسران اور حکومتی اہلکاروں کی طرف سے بار بار کی گئی یقین دہانی کہ حالات قابو میں ہیں۔مگر حالات ان کے دعوئوں کے برعکس تھے۔گرچہ دہلی پولس کو حالات خراب ہونے کی خفیہ رپورٹیں مل چکی تھی ۔ شمال مشرقی دہلی میں پولیس کی تعیناتی میں اضافہ کرنے کا مشورہ دیا گیا تھا، تاہم اس کے باوجود سرکاری اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ پولس اہلکاروں کو اضافی طور پر تعینات نہیں کیا گیا۔حالات خراب ہونے اور بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کے نقصانات کے بعد 26فروری کوپولس اہلکاروںکو اضافی تعینات کیا گیا۔

کمیٹی نے کہا کہ پولیس کو 24 فروری اور 25 فروری کو فسادات سے متعلق سب سے زیادہ کالیں موصول ہوئیں لیکن پولیس اہلکاروں کی تعیناتی میں اضافہ نہیں کیا گیا۔

پینل نے کہا کہ دہلی پولیس کا فسادات کو انجام دینے کے لئے ایک سوچی سمجھی سازش کا الزام ’’غیر وضاحتی، تاخیر سے بیانات پر مبنی ہے جو کہ قانون میں فطری طور پر ناقابل اعتبار ہیں‘‘

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مبینہ بڑی سازش سے متعلق کیس اور تشدد کے بارے میں پہلی معلومات کی رپورٹوں کے درمیان کئی تضادات اور تضادات تھے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تشدد کے دنوں میں،بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنماؤں نے ایک تفرقہ انگیز بیانیہ کی حمایت کی جس میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو ملک دشمن اور پرتشدد قرار دیا گیا۔

کمیٹی نے نوٹ کیا کہ بی جے پی قائدین کپل مشرا اور انوراگ سنگھ ٹھاکر کے نعرے’’غداروں‘‘ کے خلاف تشدد اور بھڑکائو بیانات کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی اور نہ ان کے خلاف کوئی سرزنش کی گئی ۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین