Friday, April 12, 2024
homeہندوستانہلدوانی میں 4ہزار مکانات کو اجاڑنے کے فیصلے سپریم کورٹ نے روک...

ہلدوانی میں 4ہزار مکانات کو اجاڑنے کے فیصلے سپریم کورٹ نے روک لگائی۔۔’’یہ انسانی المیہ‘‘ ہے

نئی دہلی (انصاف نیوز آن لائن)
سپریم کورٹ نے اتراکھنڈ کے ہلدوانی میں 4ہزار خاندانوںکو مبینہ طور پرریلوے کی زمین سے ہٹانے کی اتراکھنڈ کے فیصلے پر روک لگاتے ہوئے کہاکہ راتوںرات 50ہزار افراد کو اجاڑا نہیں جاسکتا ہے۔یہ انسانی مسئلہ اور اس کو اسی تناطر میں دیکھنا چاہیے۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ ایسے لوگوں کو الگ کرنا ہوگا جن کا زمین پر کوئی حق نہیں ہے اور ریلوے کی ضرورت کو تسلیم کرتے ہوئے بحالی کی ضرورت ہے۔جسٹس ایس کے کول اور اے ایس اوکا کی بنچ نے مشاہدہ کیا کہ یہ ایک ’’انسانی مسئلہ‘‘ ہے اور کچھ قابل عمل حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے کی مزید سماعت 7 فروری تک ملتوی کر دی ہے۔
گزشتہ سال 20 دسمبر کو ہائی کورٹ کے جسٹس آر سی کھلبے اور جسٹس شرد کمار شرما کی بنچ نے ریلوے کو ہدایت دی تھی کہ ضرورت کے مطابق کسی بھی حد تک فورسز کا استعمال کرکے غیر مجاز قابضین کو فوری طور پر بے دخل کرنے کے لیے انہیں ایک ہفتے کا وقت دینے کے بعد زمین خالی کرالیا جائے۔176 صفحات پر مشتمل ہائی کورٹ کے فیصلے میں لکھاگیا ہے کہ ووٹ کے فائدے کی خاطر ان لوگوں کو یہاں آباد کرایا گیا تھا ۔
اس فیصلے میں عرضی گزاروں کے اس دلیل کو بھی خارج کردیا گیا کہ 1907کے ریکارڈ کے مطابق نازول اراضی کے طور پر شناحت کی گئی گئی تھی۔مگر عدالت نے کہا کہ سرکاری مواصلات کے علاوہ یہ کچھ بھی نہیں ہے۔
2022 میں، درخواست گزار نے ایک نئی درخواست دائر کی کہ ریلوے ایکٹ کے سیکشن 147 کے تحت غیر قانونی قابضین کو بے دخل کیا جائے۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین