Friday, April 12, 2024
homeبنگالانصاف نیوز آن لائن کی خبر کا اثر: ملی الامین کالج کے...

انصاف نیوز آن لائن کی خبر کا اثر: ملی الامین کالج کے آڈیٹوریم کی بقایا فیس’’ جشن اردو ‘‘والوں نے مکمل ادا کردیا —–چند نام نہاد اردو دانشوروں کی انصاف نیوز آن لائن کے خلاف مہم چلانے کی ناکام کوشش۔ملی آرگنائزیشن کی تحریک سے وا بستہ اور شہر کے کئی سرکردہ افراد نے انصاف نیوز کی تصدیق کی۔۔۔آئینہ دکھایا

کلکتہ (انصاف نیوز آن لائن)

15-16-17جنوری کو ملی الامین کالج آڈیٹوریم میں جشن اردو منعقد کیا گیا تھا۔یہ پروگرام دو این جی اوز کے اشتراک منعقد کیا جارہا ہے۔اس پروگرام کےلئے ملی الامین کالج کے وسائل کے ناجائز استعمال سے متعلق انصاف نیوز آن لائن نے ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی تھی کہ آڈیٹوریم بک کرانے میں قانون اور اصول کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں ۔اب اس خبر کی وجہ سے ملی الامین کالج کے آڈیٹوریم کو بہت ہی معمولی کرایہ پر حاصل کرنے والوں نے بقایا کرایہ ادا کر دیا ہے۔

دراصل انصاف نیوز آن لائن کو مختلف ذرائع سے خبر ملی تھی کہ ملی الامین کالج کے وسائل کو ایک گروپ مسلسل بے جا استعمال کررہا ہے۔محض دو ہفتے قبل ہی ’’ایک کتاب کا رسم اجرا ‘‘کےلئے آڈیٹوریم کی فیس کی ادائیگی سے بچنے کےلئے ملی آرگنائزیشن کی ایگزیکٹیو کمیٹی سے پاس کرائے بغیرمن مانے طریقے سے ملی آڈیٹوریم کو ’’وینو پارٹنر‘‘بناکر آڈیٹوریم کے کرایہ کو ہڑپ لیا گیا ۔اسی طرح اس مخصوص لابی نے کالج کے آڈیٹوریم میںکئی پروگرام اسی طرح سے کئے ہیں ۔جس میں اپنے ایک عزیز کی شادی کےلئے بھی آڈیٹوریم کا مفت میں استعمال بھی شامل ہے۔’’جشن اردو ‘‘ کےلئےبھی اس مخصوص لابی نے پہلے کالج کے آڈیٹوریم کی فیس مکمل معاف کرانے کی کوشش کی۔ مگرجب کالج کے چند ممبران نے شدید مخالفت کی تو عہدہ کا اثرو رسوخ استعمال کرتے ہوئے دو دن کےلئے ملی آرگنائزیشن کے آڈیٹوریم کی فس 12ہزار روپیہ جمع کرایا گیا۔۔اس میں بھی دھوکہ دہی شامل تھی ۔۔پہلے دودن کےلئے آڈیٹوریم بک کرایا گیا مگر بعد میں کہا گیا کہ نہیں ہم نے تین دن کےلئے کرایا ہے۔اور اسی 12ہزار تین دن کی فیس شامل تھی۔۔

انصاف نیوز آن لائن کی یہ رپورٹ اس مخصوص لابی پر گراں گزرا اور نیوز پورٹل کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائی گئی ۔۔مگر چوں کہ خبر میں لفظ بہ لفظ سچ تھا اور اسی وجہ سے اس خبر نے اپنا اثر دیکھا یا۔ویسٹ بنگال اسٹیٹ یونیورسٹی کے ’’پروفیسر تسلیم عارف ‘‘نے سوشل میڈیا پر اطلاع دی ہے کہ انصاف نیوز آن لائن کی خبر سامنے آنے کے بعد’’جشن اردو ‘‘ کے نام پر ہنگامہ بپاکرنے والوں نے پروگرام ختم ہونے کے بعد 18جنوری کو ملی آرگنائزیشن کی میٹنگ میں ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے بقیہ فیس ادا کردیا ہے۔۔انصاف نیوز آن لائن نے معلوم کرنے کی کوشش کی کہ بقایا رقم کتنی ہے مگر ذمہ داروں نے واضح کرنے سے معذرت کرلی ۔۔تاہم انہوں نے اس خبر کی تصدیق کہ بقایا کرایہ ادا کردیا گیا ہے ۔۔تاہم کئی سوالات ابھی قائم ہیں کہ آڈیٹوریم کی بکنگ میزبان ادارہ کے لیٹر پیڈپر کرانے کے بجائے کالج انتظامیہ کے ایک ممبر نے سادہ کاغذ پر اپنے نام پر کیوں کرایا ۔۔دوسرے یہ کہ ہال بکنگ کی درخواست پر 13جنوری کے ہال بکنگ کا ذکر کیوں نہیں ہے۔ تیسرے یہ کہ عام طور پر جب آڈیٹوریم بک کیا جاتا ہے تو صرف آڈیٹوریم کے استعمال کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔یا پھر آڈیٹوریم کے باہر والے لابی کو استعمال کرسکتے ہیں ۔مگر مہمانوں کے طعام کےلئے فرسٹ فلور کو بک کرنے کےلئے الگ سے درخواست دینا لازمی ہے۔اس درخواست میں اس کی اجازت کیوں نہیں لی گئی؟

انصاف نیوز آن لائن نے اس خبر کو تمام صحافتی اقدار و معروضیت کو برقرار رکھتے ہوئے خبر شائع کی تھی۔چوں کہ خبر کے متن سے انکار نہیں کیا جاسکتا تھا ۔۔۔۔چناں چہ بھڑاس نکالنے کےلئے انصاف نیوز آن لائن اوراس سے وابستہ افراد کے ساتھ گالی گلوج اور لعن و طعن و تشنیع کا سلسلہ سوشل میڈیا پر کچھ نام نہاد پڑھے لکھے نما افراد کے ذریعہ شروع کردیا گیا۔یہ پڑھے لکھے افراد انصاف نیوز آن لائن کی خبر کے متن کو پڑھے بغیر الزام لگاناشروع کردیا کہ انصاف نیوز آن لائن نے ملی الامین کالج کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے۔جب کہ یہ معاملہ کالج کا تھا ہی نہیں۔۔ بلکہ ملی ایجوکیشن آرگنائزیشن کا تھا۔۔۔۔ یہ پڑھے لکھے نما افراد یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ ’’اردو کے پروگرام ‘‘ کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی ہے ۔بادی النظر میں ان کے پروپیگنڈہ سے یہ تاثر سامنے آیا کہ ’’جشن اردو‘‘ کا پروگرام کی ترویح و اشاعت کیلئے سنگ میل تھا۔۔۔جسے انصاف نیوز نے نقصان پہنچایا۔۔مگر سوال یہ ہے کہ ’’جشن اردو‘‘ کس چیز کا تھا۔۔ بنگال میں یا پھر ہندوستان میں موجودہ حالات میں اردو نے کونسی ترقی کی منزل طے کی ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ جب خبر میں ’’جشن اردو ‘‘ کے انعقاد سے متعلق ایک لفظ بھی نہیں تھا تو پھر اس مخصوص لابی نے جھوٹ کیوں بولا؟۔۔۔

انصاف نیوز آن لائن کا موقف واضح ہے کہ کوئی بھی ادارہ قانون و اصول کے مطابق چلتے ہیں اور اس کی پاسداری ہرایک کو کرنا لازمی ہے اور اس کے قوانین سے کوئی مستثنی نہیں ہوسکتا ہے۔اگر ادارے قانون و اصول سے مبرا یا پھر بعض لوگوں کو استثنی کردیا جائے تو اس ادارے کو تباہی سے بچانے سے کوئی نہیں روک سکتا ہے۔

انصاف نیوز آن لائن کو صفائی دینے کی چنداں ضرورت نہیں ہے ۔تاہم قارئین کی یاددہانی کےلئے اس کا ذکر لازمی ہے انصاف نیوز نے ملی الامین کے کالج کے اقلیتی کردار کی بحالی میںمثبت کردار ادا کیا ۔۔۔انصاف نیوز آن لائن سے وابستہ افراد کو سچائی لکھنے کی وجہ سے دھمکیاں بھی دی گئی ہیں ۔۔۔ مگر صحافتی اقدارو معروضیت سے ذرہ برابر معاہدہ نہیں کیا گیا۔کالج کے بقا اور اس کے وجود کو خطرے میں ڈالنے والوں کی سخت سرزنش کی ۔۔۔جب کالج کی زمین کو فروخت کرنے کی کوشش کی گئی تو بھی انصاف نیوز آن لائن نے پورے معاملے کو عوام کے سامنے لایا۔انصاف نیوز نے یہ سوال بھی کھڑا کیا کہ کالج چلانے کےلئے ماہرین تعلیم اور تعلیم و تعلم سے وابستہ افراد کو آگے کیوں نہیں لایا جارہا ہے۔سیاسی طالع آزمائوں کا اڈہ کیوں بن گیا ہے۔سیاسی وفاداری سے اوپر اٹھ کر کام کیا جائے یہ ادارہ کلکتہ کے مسلمانوں کا ہے اور ہندوستان کی آزادی بعد کلکتہ کے مسلمانوں کے ذریعہ قائم کئے جانے والا واحد ادارہ ہے۔۔۔انصاف نیوز نے اس وقت بھی احتجاج کیا جب کالج میں ایک مسلم وزیر کے حق میں نعرے بازی کی گئی ۔

سوشل میڈیا پر جو مہم چلائی گئی اس میں جہاںمشاعروں اور ادبی محفلوں میں سوقیانہ کلام کے ذریعہ وا ہ وادہ کی داد و تحسین کی آواز میں خود کو غالب و اقبال اور فیض کے ہمسری کے زعم میں مبتلا ہوجانے والے یہ نام نہاد ادبا و دانشوروں کو چھوڑکر بڑی تعداد میں لوگوں نے ہماری خبر کی تائید کی اور کالج کے وسائل کی حفاظت کےلئے داد و تحسین پیش کیا۔۔ملی آرگنائزیشن سے وابستہ رہ چکے محمد جہانگیز کا تبصرہ جو انگریزی میں ہے کا اردو ترجمہ ہم قارئین کےلئے پیش کررہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اس کے پورے متن سے ہمارا اتفاق نہیں ہے)اس تبصرے سے پروپیگنڈہ عناصر کے بہت سارے سوالوں کا جواب مل جائے گا۔۔۔۔۔۔

ملی ایجوکیشنل آرگنائزیشن کا چار دہائیوں سے زائد عرصے سے ممبر کی حیثیت سے میں زیر بحث موضوع پر کچھ معلومات اور اپنے مشاہدات شامل کرنا چاہتا ہوں۔ ملی ایجوکیشن آرگنائزیشن ایک غیر سرکاری تنظیم ہے جو عطیات، رکنیت کی فیس، شادیوں، سیمینارز، مختلف تعلیمی یا سماجی مقاصد کے لیے دئیے گئے آڈیٹوریم کے کرایہ سے حاصل ہونے والی آمدنی کی مدد سے چلتی ہے۔ جہاں تک میں جانتا ہوں کہ آڈیٹوریم کے کرایہ/چارجز کو معاف کرنے یا پھر کم کرنے یا دینے کا کوئی قانونی بندوبست نہیں ہے، ’’انصاف نیوز‘‘ نے بجا طور پر ایگزیکٹو کمیٹی میں اعلیٰ ترین کرسی پر براجمان شخص کی طرف سے کی گئی غلطیوں کی نشاندہی کی ہے۔ یہ ظاہر ہے کہ مختلف تنظیموں کے معروف ’’خزانچی‘‘ نے (جیسا کہ تسلیم عارف نے اپنے دفاعی عرضی میں ذکر کیا ہے) نے اپنے دفاع کے لیے منظر امام صاحب کے بعد ایک اور وکیل کی خدمات حاصل کی ہیں۔

معذرت کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ تسلیم عارف صاحب آپ کے کلائنٹ کو ہم 45 سال سے زائد عرصے سے جانتے ہیں، اور میری عمر یا مجھ سے بڑے سماجی کارکنان کی ایک اچھی خاصی تعداد اسلامیہ ہسپتال جیسی فلاحی تنظیم میں ان کے کردار کو جانتی ہے، اس لیے بھائی آپ بہت ہی کمزور کیس کی جذبات اور لاعلمی میں دفاع کررہے ہیں ۔

اس کے ساتھ ہی میں آپ کی معلومات کا خیرمقدم کرنا چاہتا ہوں کہ MEO کے “متعلقہ” اعلیٰ عہدیدار نے اپنے غلط اور ناپسندیدہ اقدامات کی وجہ سے ہونے والے مالی نقصان کی تلافی کی ہے۔ براہ کرم نوٹ کریں کہ ملی تنظیم کے اس مالی نقصان کے ازالے کا سارا کریڈٹ ’’انصاف نیوز‘‘کو جاتا ہے۔

بھائی آپ تعلیمی میدان کے آنے والے ستارے ہیں، اس لیے میں آپ کو یہ مشورہ دینا چاہتا ہوں کہ سماجی یا ملی تنظیموں کے اس طرح کے غیر معیاری بریف کو قبول کرنے سے گریز کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ اگر آپ کو اس طرح کے مسائل میں بہت گہری دلچسپی ہے تو براہ کرم اس موضوع اور اس میں ملوث افراد یا افراد پر ایک مکمل تحقیق شروع کریں۔ منصفانہ، غیر جانبدارانہ رپورٹ لکھیں۔۔
بہت بہت شکریہ

متعلقہ خبریں

تازہ ترین