Friday, April 12, 2024
homeتجزیہمودی حکومت کے 9 سال اور ہندوستانی تاریخ مٹانے کی منصوبہ بند...

مودی حکومت کے 9 سال اور ہندوستانی تاریخ مٹانے کی منصوبہ بند کوشش…

یہ ہندوستانی تاریخ مٹانے کی کوشش ہی ہے کہ انقلابی شاعر علامہ اقبال دہلی یونیورسٹی کے نصاب سے خارج کر دیے گئے اور این سی ای آر ٹی کی دسویں سے بارہویں تک کی کتابوں سے مسلم حکمرانوں کے ابواب حذف ہو گئے

عتیق الرحمن

یوں تو جنگ آزادی سے قبل ہی ہندوستان میں فرقہ پرستی فروغ پا رہی تھی مگر آزادی کے بعد تو فرقہ پرست قوتوں کے حوصلے کافی بلند ہو گئے۔ وقتاً فوقتاً ملک کے مختلف شہروں میں فرقہ وارانہ فسادات ہوتے رہے اور اس میں ایک مخصوص طبقہ (مسلمان) خاص طور پر فرقہ پرست قوتوں کا نشانہ بنتے رہے اور تشدد کا شکار ہوتے رہے، لیکن آزادی کے 70 سالوں کے بعد جب پوری طاقت کے ساتھ نریندر مودی ملک کے وزیر اعظم بنے اور ان کی قیادت میں بی جے پی کی حکومت قائم ہوئی تو اپنے 9 سال کی مدت کار میں ترقی کا شور تو خوب کیا لیکن ملک کی ترقی اور عوامی مسائل کے حل پر توجہ دینے کے بجائے مودی حکومت نے فرقہ پرستی کو فروغ دینے میں اپنی ساری توانائی صرف کر دی جس کے نتیجے میں ملک میں نفرت و تشدد کا خوفناک و خطرناک ماحول قائم ہوگیا ہے۔ حکومت کے ذریعہ فرقہ پرست قوتوں کی پشت پناہی تو کسی حد تک قابل برداشت بھی تھی مگر جب حکومت خود ہی فرقہ پرستی میں پوری طرح ملوث اور غرق ہو گئی تو پھر ملک کا خدا حافظ!

اپنے 9 سالہ دور اقتدار میں مودی حکومت نے مسلمانوں کو خاص طور پر نشانہ بناتے ہوئے جنگ آزاد ی سے لے کر ملک کی تعمیر و ترقی کے سبھی مرحلے میں ان کی عظیم خدمات و قربانیوں کو پوری طرح نظر انداز و فراموش کر دینے اور اسے تاریخ کی کتابوں سے ہٹا دینے کا جابرانہ فیصلہ کیا۔ مسلمانوں کی نشانیوں کو ختم کر دینے کی کوششیں تیز ہوئیں اور انہیں احساس کمتری کا شکار بنا کر اور دوسرے درجہ کا شہری بن کر غلامانہ زندگی جینے پر مجبور کر دینے کی ہر ممکن کوششیں جاری ہیں۔ شہروں کے نام کی تبدیلی، ماب لنچنگ، تبدیلیٔ مذہب کے نام پر گرفتاریاں و قتل اور دیگر طرح کے خرافات کا سلسلہ عروج پر ہے۔ دراصل مودی حکومت نے اپنے دوراقتدار میں 9 سال کے اندر سب سے زیادہ حملے تاریخ کے حوالے سے کئے ہیں تاکہ اصل تاریخ مٹ جائے اور نئی و غلط تاریخ رقم کی جائے کیونکہ اصل تاریخ میں فرقہ پرست قوتوں کا منفی کردار درج ہے جبکہ مسلمانوں کا بہت ہی مثبت کردار درج ہے۔ ابھی تازہ ترین معاملہ دہلی یونیورسٹی سے علامہ اقبال کی انقلابی شاعری پر مشتمل ابواب بھی نصاب سے خارج کر دیے جانے کا ہے۔

پوری دنیا اس حقیقت سے واقف ہے کہ ہندوستان کی جنگ آزادی میں اپنی انقلابی شاعری سے جوش و امنگ پیدا کرنے اور صحیح راہ دینے والے عظیم شاعر علامہ اقبال نے کیسی اہم خدمات انجام دی ہیں۔ علامہ اقبال نے ہی ہندوستان کو پوری دنیا سے بہتر، خوبصورت اور قابل فخر قرار دیتے ہوئے ”سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا“ ترانہ لکھا جو آج بھی بڑی شان سے ملک و بیرون ملک میں پڑھا جاتا ہے۔ ان کا یہ ترانہ پورے ملک کے شہریوں کے لیے قابل فخر اور قابل رشک ہے جس سے ہمارے اندر حب الوطنی کا جذبہ بیدار ہوتا ہے اور فخر کا احساس بھی ہوتا ہے۔

این سی ای آرٹی نے دسویں، گیارہویں اور بارہویں درجہ کی تاریخ اور پولیٹکل سائنس کی کتابوں سے ان ابواب کو ہٹا دیا ہے جن میں دنیا اور خاص طور پرہندوستان میں مغلیہ سلطنت اور دیگر مسلم حکمرانوں کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ بارہویں درجہ کے نصاب سے ”تھیمس آف انڈین ہسٹری، پارٹ-2“ سے ”دی مغل کورٹس“ (16ویں اور 17ویں صدی) کو باہر نکال دیا گیا ہے۔ اس میں مغلیہ سلطنت کے مثبت کے ساتھ ساتھ منفی کردار بھی درج تھے مگر یہ بھی حکومت کو گوارہ نہیں۔ این سی ای آرٹی کے ساتھ ہی یوپی بورڈ اور سی بی ایس ای نے بھی مغلیہ سلطنت سے متعلق اوراق نصاب سے خارج کردیے ہیں۔دہلی دربار، اکبرنامہ، بادشاہ نامہ وغیرہ اب طلبا کو پڑھنے کا موقع نہیں ملے گا۔ سی بی ایس ای کے ساتھ ساتھ 23 ریاستوں کے اسکول ایجوکیشن بورڈ نے بھی ان چیزوں کو تعلیمی نصاب سے باہر کردیا ہے جن میں یوپی، ہریانہ، کرناٹک، مدھیہ پردیش، اتراکھنڈ، گوا، تریپورہ، دہلی، گجرات، ہماچل پردیش اور میزورم بھی شامل ہیں۔ کسی مسلم بادشاہ اور ان کی تاریخ کے بارے میں طلباء کو نہیں پڑھایا جائے گا۔ گیارہویں درجہ کی کتاب ”تھیمس اِن ورلڈ ہسٹری“ سے سنٹرل اسلامک لینڈ، سنسکرتیوں کا ٹکراؤ اور صنعتی انقلاب جسے ابواب نکال دیے گئے ہیں۔ مخطوطات نویسی، فن، ماڈل اسٹیٹ، دارالحکومت، دربار، حصولیابیاں، خطابات، تحفے، شاہی خاندان اور نوکرشاہی وغیرہ سے متعلق ابواب بھی نصاب سے خارج کردیے گئے۔ بارہویں درجہ کی پولیٹکل سائنس کی کتاب ”ورلڈس پولیٹکس“ سے ”امریکی جمہوریت“اور ”دی کولڈ وار ایرا“ کو بھی نکال دیا گیا ہے۔

بارہویں درجہ کی ہی کتاب ”پولیٹکس اِن انڈیا سِنس انڈیپنڈنس“ سے ”رائج آف پاپولر موومنٹس“ اور ”ایرا آف ون پارٹی ڈومیننس“ کو بھی خارج کردیا گیا ہے۔کانگریس، سوشلسٹ پارٹی، سی پی آئی، بھارتیہ جن سنگھ اور سوتنتر پارٹی کے غلبہ سے متعلق ابواب بھی نصاب سے نکال دیے گئے۔ دسویں درجہ کی کتاب ”ڈیموکریٹک پولیٹکس-2“اور ”ڈیموکریسی اینڈ اِٹس چیلنجز“ کو بھی نکال دیا گیا ہے۔”ہندی آروہ،پارٹ-2“ سے فراق گورکھپوری کی غزل اور ”اَنترا،پارٹ-2“ سے سوریہ کانت ترپاٹھی نرالہ کے گیت کو بھی نصاب سے خارج کردیا گیا ہے۔ بابائے قوم مہاتما گاندھی کی قربانیوں و خدمات پر مشتمل چیزوں، ہندو-مسلم اتحاد اور آر ایس ایس پر پابندی سے متعلق ابواب بھی نصاب سے خارج کردیے گئے۔ ملک کے فرقہ وارانہ حالات پر گاندھی جی کے قتل نے جو بڑے اثرات مرتب کئے اس کا تذکرہ بھی تاریخ سے غائب کردیا گیا۔ گاندھی جی کی کوششوں سے ملک میں جو ہندو مسلم اتحاد قائم ہوا اس سے ہندو انتہا پسندوں کو شدید جھٹکا لگا۔ یہ حقیقت بھی تاریخ کے اوراق سے نکال دی گئی۔

این سی ای آرٹی کے ڈائرکٹر دنیش ستلانی نے اعتراف کیا ہے کہ ایک سال قبل ہی نصاب میں تبدیلی کی جاچکی ہے۔ امسال نیا کچھ نہیں ہوا ہے۔ یوپی بورڈ کے سکریٹری دِویہ کانت شکلا نے بھی کہا ہے کہ یوپی میں نیا تعلیمی نصاب دسویں، گیارہویں اوربارہویں درجہ میں رواں تعلیمی سال سے شروع کیا جارہا ہے۔ئے تبدیل شدہ نصاب کا نفاذ تعلیمی سال 24-2023 سے ہوگیا ہے۔ قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تحت نیا نصاب نافذ کیا جارہا ہے۔

ایک طرف نصاب سے سنہری تاریخ مٹائی جارہی ہے تو وہیں دوسری طرف شہروں کے نام بڑے پیمانے پر تبدیل کئے جا رہے ہیں۔ الٰہ آباد کا نام پریاگ راج، مغل سرائے اسٹیشن کا نام پنڈت دین دیال اپادھیائے کر دیا گیا۔ دیگر درجنوں شہروں کے نام بھی تبدیل کئے گئے جس کا واحد مقصد ہے کہ مسلمانوں کے نام پر ملک میں کوئی بھی نشان باقی نہ رہے، یہاں تک کہ نام بھی مٹ جانا چاہیے۔

(مضمون نگار بہار کے سینئر صحافی ہیں اور روزنامہ ’پندار‘ سے منسلک ہیں)

متعلقہ خبریں

تازہ ترین