Friday, April 12, 2024
homeہندوستاندہلی کے سینکڑوں امام اور موذن آخر سڑک پر احتجاج کیوں کررہے...

دہلی کے سینکڑوں امام اور موذن آخر سڑک پر احتجاج کیوں کررہے ہیں؟

دہلی کے قدیم اور تاریخی مساجد کے سینکڑوں امام اور مؤذن منبر و محراب سے نکل کر سڑکوں پر اتر آئے ہیں۔ دہلی کے دریا گنج میں بڑی تعداد میں آئمہ مصلیٰ بچھا کر احتجاج کر رہے ہیں کیونکہ دہلی حکومت نے 14 مہینوں سے ان کی تنخواہ ادا نہیں کی ہے۔

اس وقت اروند کیجریوال دہلی کے وزیر اعلیٰ ہیں، جن کے تحت دہلی وقف بورڈ کام کرتا ہے اور یہی بورڈ وقف کی مساجد کے 270 اماموں اور موذنوں کی تنخواہ ادا کرتا ہے۔

لیکن گذشتہ 14 ماہ سے بورڈ نے ان کی تنخواہیں ادا نہیں کی ہیں، جس سے آئمہ اور موذنین کئی ماہ سے قرض پر گزارا کر رہے ہیں۔

ان کا الزام ہے کہ دہلی کے گورنر ونے کمار سکسینہ نریندر مودی حکومت کے نامزد ہیں اس لیے اتنی بڑی تعداد میں آئمہ اور مؤذن کی تنخواہ روک دی گئی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اروند کیجریوال جب سے وزیر اعلیٰ بن کر آئے ہیں ’تب سے ان پر مصیبتوں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے‘۔

انہوں نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ دہلی میں سینکڑوں مسجدیں بغیر امام کے پہلے سے ہی ویران ہیں۔ حکومت نے ان مساجد پر قبضہ کر رکھا ہے۔ وقف کی یہ مساجد جن کے آئمہ کو دہلی حکومت تنخواہ دیتی ہے، کافی تاریخی اور پرانی ہیں۔ یہ مساجد زیادہ تر غیر مسلم آبادی میں ہیں۔

اب ان کی تنخواہیں ادا نہ کرنے سے یہ اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حکومت جان بوجھ کر اماموں کی تنخواہ جاری نہیں کررہی تاکہ امام مسجد چھوڑ کر چلے جائیں۔

احتجاج میں شامل مساجد کے آئمہ نے بتایا کہ یہ پہلی بار ایسا نہیں ہوا ہے کہ تنخواہوں میں تاخیر ہوئی ہے، اس سے پہلے بھی تنخواہ وقت پر نہیں ملتی تھی۔ ’مہینوں مہینوں تک تنخواہیں روک دی جاتی ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ دہلی وقف بورڈ کے تحت آنے والی مساجد میں تقریباً 270 آئمہ کرام اور موذنین مستقل ہیں۔ امام کو 18 ہزار اور موذن کو 16 ہزار تنخواہ دی جاتی ہے۔

فتح مسجد پرانی سبزی منڈی دہلی میں امام و مؤذن مولانا مسعود عالم بتاتے ہیں کہ ’میرے گھر میں چھ بچے ہیں۔ دو میاں بیوی ہم ہیں۔ دو بچوں کی پہلے سے شادی ہوگئی ہے، جو اپنے اخراجات خود اٹھاتے ہیں۔ لیکن چار بچے جو ابھی زیر تعلیم ہیں، ان کی ذمہ داری میرے اوپر ہے۔‘

’ہم میاں بیوی ہیں، یعنی ہم کل ملا کر چھ افراد ہیں۔ ان کے اخراجات، جیسے کھانے، پینے کا، تعلیم، دوا اور بیماری، کپڑے، جو بھی اخراجات ہیں، سب کے سب میری آمدنی پر منحصر ہیں۔‘

انہوں نے قرضوں میں ڈوپنے کی کہانی سناتے ہوئے کہا کہ ’پہلے مہینے جب تنخواہ نہیں ملی تو بھائی سے قرضہ لے لیا، کہ بعد میں دے دیں گے۔ دوسرے ماہ پھر نہیں ملی، تو بھائی سے پھر قرض لے لیا۔ تیسرے مہینے بھی بھائی سے قرض لیا۔ جب چوتھے مہینے بھی تنخواہ نہیں ملی تو کسی اور سے لیا۔ بھائی سے کتنی بار قرض مانگتا، کہتے کہتے شرم آنے لگی۔‘

’اب 14 ماہ ہوگئے قرض لیتے لیتے۔ اب حالات یہ ہیں کہ مجھے بچے کی فیس جمع کرنی ہے۔ آج جب میں احتجاج میں تھا، تو بڑے بچے کا فون آیا کہ پیسے نہیں بھجوائے۔ تو میں نے کہا کہ کوشش کرتا ہوں۔ یہاں سے کوئی امید نہیں تو میں کسی سے قرض لے کر انتظام کرتا ہوں۔ قرض لے کر ہی کام چلایا جارہا ہے۔‘

مولانا مسعود کا کہنا ہے کہ بورڈ کی زیادہ مساجد قدیم اور تاریخی ہیں اور غیر مسلم علاقوں میں واقع ہیں۔ ’امام اور موذن ان مساجد کو نہ صرف زندہ رکھتے ہیں بلکہ حفاظت بھی کرتے ہیں۔ خود ان کی مسجد ایک غیر مسلم علاقہ میں ہے۔ ہم خطرہ کے سائے میں رہتے ہیں۔‘

پرانی دہلی میں واقع کٹرہ والی مسجد کےامام محفوظ الرحمان بتاتے ہیں کہ ’تنخواہیں وقت پر نہیں ملتیں، جس سے زندگی دوبھر ہو گئی ہے، اسکولوں کی فیس بھرنا، بچوں کا تعلیمی نظام، کرایہ پر رہائش۔ زندگی شدید طور پر متاثر ہے۔‘

انہوں نے دہلی میں بر سراقتدار عام آدمی پارٹی کی حکومت کو براہ راست ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب سے پہلے جتنے بھی بورڈ تھے، چاہے وہ کانگریس کے زیراقتدار بورڈ ہو یا بی جے پی کے اور ان میں جو بھی چیئرمین ہو، ان سب نے بہ بخوبی نبھایا۔

’اماموں کو کسی نے پریشان نہیں کیا لیکن جب سے عام آدمی پارٹی کی حکومت آئی ہے اور اس پارٹی کے چیئرمین اور ارکان آئے ہیں، انہیں اماموں کی فکر نہیں۔ حالانکہ مسجدوں سے کرایہ وصول کرتے ہیں۔ وقف پراپرٹی سے آمدنی بھی کرتے ہیں لیکن اماموں کو تنخواہ نہیں دیتے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ وقف بورڈ کی پراپرٹی بھی بہت زیادہ ہے اور اگر بورڈ وقف اراضی سے آمدن حاصل کر کے امام کو لاکھوں روپے دے سکتا ہے۔ ’لیکن وقف بورڈ کی حالت یہ ہے کہ جو چیئرمین آتا ہے وہ اپنے لیے آمدن کرتا ہے اور لکھ پتی سے کروڑ پتی بلکہ ارب پتی بن جاتا ہے۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ’بورڈ حکومت سے امداد نہ ملنے کا عذر پیش کرتا ہے لیکن یہ نہیں بتاتے کہ گرانٹ کیوں نہیں مل رہی ہے۔ ’کیا بورڈ نے کوئی حساب نہیں دیا یا خورد برد کی؟ جہاں سے یہ پیسے آتے ہیں ان سے پوچھتے ہیں تو یہ بتایا جاتا ہے کہ بورڈ نے حساب نہیں دیا۔‘

ایڈشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور دہلی وقف بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو افسر ریحان رضا نے کہا کہ اس سوال کا جواب وقف بورڈ کے چیئرمین اور رکن اسمبلی امانت اللہ خان دیں گے جبکہ بورڈ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ اس سوال کا جواب ریحان رضا دیں گے کیونکہ ان کے دستخط سے ہی گرانٹ آنے کے راستے ہموار ہوتے ہیں۔

ایسا لگتا ہے کہ جواب دینے سے سب گریز کررہے ہیں۔ اس متعلق محکمہ مال گزاری کے ایک سینیئر اہلکار نے بتایا کہ وقف بورڈ کے معاملات صاف نہیں ہیں اور اسی لیے گرانٹ جاری نہیں کی گئی۔

اس معاملے میں عدالت جانے کی تیاری کرنے والے ایڈوکیٹ محمود پراچہ نے بتایا کہ امام اور موذن بی جے پی اور عام آدمی پارٹی کی سیاست میں پھنس گئے ہیں۔

’دہلی میں منتخب حکومت اروند کیجریوال کے پاس ہے اور لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ بی جے پی کے ذریعے نامزد ہیں۔ دونوں کے درمیان کشمکش چلتی ہے، تو بے چاروں مسلمانوں کے معاملات کون دیکھے گا کیونکہ نیت تو دونوں کی خراب ہے

متعلقہ خبریں

تازہ ترین