Friday, April 12, 2024
homeدنیابھارت بطور ملک زیادہ قوم پرست ہو گیا ہے : جم کوسٹ

بھارت بطور ملک زیادہ قوم پرست ہو گیا ہے : جم کوسٹ

واشنگٹن —
ریاست کیلی فورنیا سے امریکی ایوان نمائندگان کے رکن جم کوسٹا نے کہا ہے کہ ہم وزیراعظم مودی کا خیر مقدم کرتے ہیں۔لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ہم میں سے بہت سوں کو اس بارے تشویش رہی ہے کہ بھارت بطور ملک زیادہ قوم پرست ہو گیا ہے اور اس نے جمہوری اصولوں، آزادی اظہار، مذہبی آزادیوں کے حوالے سے پیچھے کی طرف سفر کیا ہے۔

وی او اے اردو کی صبا شاہ خان سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں لوگوں کو اپنے نظریات کی شناخت پر کسی سزا کے خوف سے آزادی، اور کسی حد تک میڈیاکی آزادی کو چیلنجز کا سامنا ہے۔ اسی وجہ سے دونوں جماعتوں (ری پبلکن و ڈیموکریٹس) میں اس بارے میں تشویش پائی جاتی ہے۔


واضح رہے کہ جم کوسٹا کہتے ہیں کہ وہ ان 75 ڈیمو کریٹک امریکی اراکین کانگریس میں شامل نہیں ہیں، جنہوں نے رواں ہفتے صدر جو بائیڈن کے نام ایک خط میں زور دیا تھا کہ وہ واشنگٹن کا سرکاری دورہ کرنے والے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ انسانی حقوق کے معاملات پر بات کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں کئی بار بھارت جا چکا ہوں۔ میں جاننا چاہوں گا کہ وہ کس طرح ہمارے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔

اس سے قبل ، امریکی ریاست میری لینڈ سے ممتاز ڈیمو کریٹک سینیٹر بن کارڈین نے بھی بھارت کے انسانی حقوق کے ریکارڈ پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔وہ ان 75 سینیٹرز میں شامل ہیں جنہوں نے ایک خط میں صدر بائیڈن سے نریندر مودی سے بھارت میں انسانی حقوق کے مسٔئلے پر بات کرنے کی درخواست کی ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئےبن کارڈین نےبھارت میں انسانی حقوق کی صورتِ حال پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔

https://twitter.com/i/status/1671964530291916800https://twitter.com/i/status/1671964530291916800
انہوں نے وی او اے اردو کی صبا شاہ خان سے بات کرتے ہوئے کہا،”ہم نے یہ مسئلہ اٹھایا ہے اور میں نے بھی بہت سے کولیگز کی طرح صدر بائیڈن کے نام خط میں درخواست کی تھی کہ وہ (نریندر مودی کے ساتھ) دو طرفہ گفتگو میں یہ معاملہ اٹھائیں۔

بھارت کے ساتھ امریکہ کے تعلقات کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے بن کارڈین نے کہا،”بھارت ہمارے سٹریٹجک شراکت داروں میں سے ایک ہے۔ہم ’کوارڈ‘ اور ایشیا پیسفک سیاست کا حصہ ہیں۔امریکہ کے لیے بھارت کے ساتھ تعلقات بہت اہمیت رکھتے ہیں۔”

لیکن امریکی سینیٹر نے کہا کہ ہمیں اپنی اقدار کا بھی خیال رکھنا ہے۔اور بھارت کو ضرورت ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے حقوق کا مزید تحفظ کرے۔

ڈیموکریٹک پارٹی کے 75 ارکان نے رواں ہفتے صدر جو بائیڈن کے نام ایک خط میں زور دیا تھا کہ وہ واشنگٹن کا سرکاری دورہ کرنے والے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ انسانی حقوق کے معاملات پر بات کریں۔

امریکی قانون سازوں کا کہنا تھا کہ وہ بھارت میں مذہبی عدم رواداری، پریس کی آزادی، انٹرنیٹ تک رسائی اور سول سوسائٹی کے گروہوں کو ہدف بنانے کے بارے میں فکر مند ہیں۔

امریکی ایوان نمائندگان کی تین خواتین اراکین کا کانگریس میں مودی کے خطاب کابائیکاٹ

بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی کے چار روزہ اسٹیٹ وزٹ پر جہاں وائٹ ہاؤس میں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا ہے وہیں انسانی حقوق کے کارکنان اور بعض قانون سازوں نے بھارت میں جمہوریت کو درپیش مسائل سے متعلق سنجیدہ سوالات بھی اٹھائے ہیں۔

وزیرِ اعظم مودی کے دورے کے شیڈول میں امریکی کانگریس کے اجلاس سے خطاب بھی شامل تھا جو کہ وہ کرچکے ہیں اور صدر بائیڈن کی ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والی تین خواتین ارکان نے جمعرات کی شب بھارتی وزیرِ اعظم کے خطاب کے بائیکاٹ کا اعلان کیا بھی کیا تھا۔

بھارتی وزیرِ اعظم کے کانگریس سے خطاب کا بائیکاٹ کرنے والوں میں ایوانِ نمائندگان کی رکن الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز، الہان عمر اور رشیدہ طلیب شامل ہیں۔

اپنے بیان میں اوکاسیو کورٹیز نے کہا کہ وہ کانگریس سے وزیرِ اعظم مودی کے خطاب کا بائیکاٹ کر رہی ہیں اوربرداشت اور آزادیٔ صحافت کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے ایساکرنے والے اپنے ساتھیوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 2015 میں مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں اور ایک ہزار سے زائد مسلمانوں کی ہلاکت کا باعث بننے والے فسادات کی وجہ سے نریندر مودی کو امریکہ کا ویزا جاری نہیں کیا گیا تھا۔

اوکاسیو کورٹیز نے کہا کہ بھارت اس وقت آزادیٔ صحافت کی درجہ بندی میں 180 ممالک میں 161 ویں نمبر پر ہے۔ ان کے بقول بھارتی وزیرِ اعظم مودی سے متعلق برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی ڈاکیومینٹری کے بعد بھارت میں اس کے دفاتر پر چھاپے بھی اس تنزلی کا باعث تھے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یو ایس ہولوکاسٹ میوزیم کے مطابق قتل عام کے خطرات کے اعتبار سے 162 ممالک میں بھارت 162 ویں نمبر پر ہے۔

اوکاسیو کورٹیز کے بیان سے قبل دو مسلمان ارکان الہان عمر اور رشیدہ طلیب نے بھی کانگریس سے وزیرِ اعظم مودی کے خطاب کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

رشیدہ طلیب نےاپنے ایک ٹویٹ میں بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ انسانی حقوق اور مذہبی آزادیوں سے متعلق مودی کے ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے انہیں پلیٹ فام فراہم کرنا باعث ندامت ہے۔


الہان عمر نے بھی اپنے بیان میں بھارت میں انسانی حقوق کی صورتِ حال، مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک اور آزادیٔ صحافت سے متعلق وزیرِ اعظم مودی کے طرزِ عمل پر سوال اٹھائے تھے۔

وائٹ ہاؤس حکام پہلے ہی واضح کرچکےتھے کہ صدر بائیڈن بھارتی وزیرِ اعظم سے ملاقاتوں میں انہیں ’کسی تلخی کے بغیر‘ احترام کے ساتھ آزادیٔ صحافت، مذہبی آزادیوں اور دیگر امور پر تحفظات سے آگاہ کریں گے۔

واضح رہے کہ بھارتی حکومت ملک میں انسانی حقوق، میڈیا اور مذہبی آزادیوں سے متعلق تنقید کو مسترد کرتی آئی ہے۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین