Wednesday, November 29, 2023
homeتجزیہمصالحہ سے ماس مووی تک: کیا بالی وڈ اب جذباتی فلمیں دکھائے...

مصالحہ سے ماس مووی تک: کیا بالی وڈ اب جذباتی فلمیں دکھائے گا؟

مصالحہ فلم میں کہانی کا جذباتی پہلو ہوتا ہے، آپ کسی کردار سے خود کو جوڑ لیتے ہیں، لیکن ماس مووی میں آپ ٹکڑوں میں چیزیں دیکھتے، لطف لیتے اور آگے چل پڑتے ہیں۔

فاروق اعظم

گذشتہ ہفتے ریلیز ہونے والی شاہ رخ خان کی فلم ’جوان‘ تیز ترین ٹرپل سنچری کرنے والی فلم بن چکی ہے۔ ’پٹھان‘ اور ’غدر ٹو‘ کے بعد یہ بالی وڈ کی تیسری فلم ہے جس نے رواں برس تین سو کروڑ انڈین روپے کا ہندسہ عبور کیا۔

رواں سال کے آغاز میں شاہ رخ خان کی فلم ’پٹھان‘ نے ریکارڈ کامیابی سمیٹی تھی۔ تب سے ہی لوگ ’جوان‘ کا بے چینی سے انتظار کر رہے تھے۔

جولائی کے شروع میں فلم کا ابتدائی ٹریلر ریلیز ہوا، جس نے انتظار کی آگ مزید تیز کر دی۔ لوگ مسلسل فلم کی کہانی، شاہ رخ کے کردار اور ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں کر رہے تھے۔

فلمی پنڈتوں کے نزدیک ’جوان‘ روایتی مصالحہ فلم نہیں بلکہ ’ماس مووی‘ ہے۔ اگرچہ تمل اور تیلگو سینیما میں ایسی فلمیں معمول کا حصہ ہیں مگر بالی وڈ میں یہ تجربہ ابتدائی مراحل میں ہے جس کی کامیابی کا تازہ ترین ثبوت جوان ہے۔

بالی وڈ میں مصالحہ فلم کی اصطلاح 1970 کی دہائی میں مشہور ہوئی۔ ناصر حسین اور من موہن ڈیسائی کی ’یادوں کی بارات‘ (1973) اور ’امر، اکبر، انتھونی‘ (1977) اس کی بہترین مثالیں ہیں۔

ایسی فلم جس میں ایکشن، کامیڈی، میوزک، رومانس اور ڈراما سمیت ہر طرح کا مصالحہ مکس کر کے سینیما میں پیش کر دیا جائے۔

آج بھی سب سے زیادہ فلمیں اسی قبیل کی بنتی ہیں۔ مصالحہ مووی سے ’ماس مووی‘ کی طرف آتے ہوئے راستے میں کئی پڑاؤ قدم روک لیتے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ اہم انڈیا میں سینیما کو ’انڈسٹری‘ کا درجہ ملنا تھا۔

1998 میں نیشنل ڈیموکریٹک الائنس نے سینیما کو انڈسٹری کا درجہ دے دیا۔ یہاں سے فلموں میں سرمایہ کاری کی شکل اور اس کے نتیجے میں فلموں کے موضوعات سمیت سب کچھ بدل کر رہ گیا۔

اس سے پہلے ذاتی سطح پر لوگوں کا گروپ فلم کو فائنانس کرتا تھا۔ 15 سے 20 لوگوں پر مشتمل یہ کاروباری لوگ بالعموم چار سے پانچ فیصد ماہانہ سود کے بدلے سرمایہ فراہم کرتے۔ چوںکہ سینیما کو انڈسٹری کا درجہ حاصل نہ تھا، اس لیے آزادانہ سرمایہ کاری میں کئی رکاوٹیں حائل تھیں۔

1998 کے بعد سرمایہ کاری بڑے بڑے اداروں سے آنے لگی، جیسا کہ انڈسٹریل بینک آف انڈیا، جس نے ’کبھی الوداع نہ کہنا‘ سمیت کئی فلموں کے لیے پیسہ ادھار دیا۔

گویا وہ دور ماضی کا حصہ بن گیا، جب شیلندر جیسے لوگ زندگی کی کل کمائی ایک فلم بنانے میں جھونک دیا کرتے تھے۔

آپ کو یاد ہو گا راج کپور نے ’بوبی‘ (1973) کیوں بنائی تھی؟ اس کے بعد اگلا قدم سانجھے داری کی بنیاد پر سرمایہ کاری تھی یعنی پارٹنر شپ۔ کوئی سود نہیں لیکن کل کمائی کا 50 فیصد سرمایہ دار کے حصے میں جائے گا۔

سرمایہ کار کمپنیوں کی آمد سے فلموں کے موضوعات بھی تبدیل ہوئے۔ عام آدمی کی کہانی سناتی، بائیں بازو کے نظریات سے وابستہ اور نظام کے خلاف غصے سے بھرپور اینگری ینگ مین فلمیں قصہ پارینہ ہو گئیں۔

مشہور فلم ’امر، اکبر انتھونی‘ کا پوسٹر (آئی ایم ڈی بی/ ایم کے ڈی فلمز)

مڈل کلاس ہیرو بھی لش پش گاڑیوں میں گھومنے لگا۔ سرمایہ دار کی نظر میں مقامی لوگوں سے زیادہ اہمیت بیرون ملک بیٹھے شناخت کے بحران سے دوچار انڈینز کی تھی، جو انتہائی ماڈرن سٹائل میں روایتی ہندوستانی دیکھنے کو بے چین تھے۔ بڑی مارکیٹ کو دیکھتے ہوئے ہالی وڈ فلم سٹوڈیوز بھی بالی وڈ کی طرف متوجہ ہوئے۔

رنبیر کپور اور سونم کپور ہماری نسل کے نمائندہ ترین نوجوان اداکاروں میں شامل ہیں۔ ان دونوں کو پہلا بریک ’سانوریا‘ (2007) سے ملا۔ جانتے ہیں یہ کس پروڈکشن ہاؤس کی فلم تھی؟ سونی پکچرز کی، جو انڈیا میں قدم رکھنے والا پہلا ہالی وڈ سٹوڈیو تھا۔

2015 تک انڈین فلم انڈسٹری 13 کروڑ روپے کی مارکیٹ تھی، جو 2022 میں 172 ارب انڈین روپے تک پہنچ چکی ہے۔

عمومی اندازوں کے مطابق یہ انڈسٹری 2025 تک 230 ارب روپے کی حد عبور کر جائے گی۔ اس کی کل مالیت میں ہندی سینیما کا حصہ تقریباً 45 فیصد ہے۔

ماہرین کے مطابق کاروبار کے نقطہ نظر سے پھولتی پھیلتی انڈسٹری کو اسی رفتار سے آگے بڑھنے کے لیے ’ماس مووی‘ کی ضرورت ہے، جو سلمان اور شاہ رخ کی فلمیں پوری کر رہی ہیں۔

مصالحہ فلم اپنی تمام تر مضحکہ خیزی کے باوجود ایک منطقی ترتیب رکھتی ہے۔ مثال کے طور پر دلیپ کمار اور امیتابھ بچن کی فلم ’شکتی‘ میں بیٹا قانون کے ایک طرف ہے تو باپ دوسری طرف۔ درمیان میں ماں ہے جو بیوی بھی ہے۔

غیر حقیقی انداز میں سہی لیکن ہر چیز آپس میں جڑی ہے، ایک ترتیب ہے، کرداروں کا آپس میں جذباتی رشتہ ہے جس کی دھڑکن سینیما ہال میں بیٹھے شائقین کے دلوں میں سنی جا سکتی ہے۔

ماس مووی ایسی تمام ’خرافات‘ سے پاک ہے جس کی تازہ ترین مثال ’جوان‘ ہے۔ ایک منظر میں ایک شخص انڈر ویئر پہنے جیل سے باہر نکلتا ہے۔ اچانک دیپیکا پڈوکون نمودار ہوتی ہیں اور کسی وجہ کے بغیر جوان کی محبت میں گرفتار ہو جاتی ہیں۔ کیوں؟

دونوں کے درمیان کیا رشتہ تھا اور اب ایسا کیا ہوا؟ کوئی نہیں جانتا۔ گانا بجنے لگتا ہے اور ہم اسی لمحے گانے میں کھو جاتے ہیں۔

مصالحہ فلم میں کہانی کا جذباتی پہلو ہوتا ہے۔ آپ کسی کردار سے خود کو جوڑ لیتے ہیں۔ آپ کسی کو مرتے ہوئے دیکھنا نہیں چاہتے، لیکن ماس مووی کی کوئی جذباتی بنیاد نہیں۔ آپ ٹکڑوں میں چیزیں دیکھتے، لطف لیتے اور آگے چل پڑتے ہیں۔

27 جون، 2018 کی اس تصویر میں رنبیر کپور ممبئی میں اپنی فلم ’سنجو‘ کی پروموشن کے دوران (اے ایف پی/ سجیت جیسوال)
آج کل وہ فلم ہٹ تصور کی جاتی ہے جو تھیٹر میں 50 سے 60 فیصد کاروبار کر لے، باقی کمائی آن لائن پلیٹ فارمز سے آ جاتی ہے۔

ماضی میں سٹارڈم اور فلم دونوں کا انحصار لوگوں کی تھیٹر میں آمد سے ہوتا تھا۔ جب فلم کی کہانی میں ایسا کچھ نہیں تو لوگ کس لیے سینیما کا ٹکٹ خریدیں گے؟ اپنے پسندیدہ ستارے کو دیکھنے کے لیے۔

اس لیے کسی بڑے ستارے کی موجودگی ہی ماس مووی کو ہٹ کروا سکتی ہے۔ ماس مووی کراؤڈ پلر ہے، یہ کاروبار کر رہی ہے۔

سرمایہ دار کا مسئلہ بس یہیں تک ہے۔ تو کیا ہم روایتی سینما سے محروم ہو جائیں گے؟’مسان‘ جیسی بالی وڈ کی تاریخ کی بہترین فلموں کا فلاپ ہونا کیا معمولی بات ہے؟

شاید بہت سے سوالوں کے جواب کے لیے ہمیں شاہ رخ کی اگلی فلم کا انتظار کرنا ہو گا۔ ’ڈنکی‘ کے ہدایت کار راج کمار ہیرانی ہیں۔ ان کا سٹائل ایٹلی کمار سے بالکل مختلف ہے۔

وہ کہانی اور کرداروں کی جذباتی کشمکش کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ کیا لوگ بھی جذباتی کشمکش کو اہمیت دیں گے؟

متعلقہ خبریں

تازہ ترین