Friday, April 12, 2024
homeتعلیم وکیرئرطب یونانی اور اردو

طب یونانی اور اردو

حکیم محمد رحمت اللہ رحمانی

بعض ہمارے طبّی اور بعض طب کے غیر طبی خیر خواں جذباتی حضرات اس بات پر کافی فکر مند ہیں کہ حکومت نے طب میں داخلے کے لیے اردو کی لازمیت کو ختم کر کے گویا طب کا بیڑا غرق کر دیا، طب اور اردو کا چولی دامن کا ساتھ ہے، اسے جدا نہیں کیا جا سکتا، اردو کے بغیر طب گویا یتیم ہو کر اس دار فانی سے کوچ کر جائیگا، وغیرہ وغیرہ ،

تو ان جذباتی حضرات کو سمجھنا چاہیے کہ جب اُردو نہیں تھی تب بھی طب تھا، اور آج بھی جہاں اُردو نہیں وہاں بھی طب ہے چاہے نام الگ ہو، طب یونانی، اُردو کے مقابلے کافی قدیم ہے، یہ یونان، عرب، فارس کے راستے، یونانی، عربی، فارسی کا لبادہ پہنے ہندوستان کی سرزمین پر آئی اور اردو کے رائیج ہونے سے کافی پہلے ہندوستان میں اپنے قدم جمع چکی تھی، اسلئے ہم دیکھتے ہیں ہندوستان میں لکھی گئی اولین طبی کتب فارسی میں ہیں نہ کہ اُردو میں، چاہے وہ حکیم اکبر ارزانی کتابیں ہوں یا حکیم اعظم خان کی، ہاں جب اُردو کا رواج ہوا، اُردو عوام الناس کے ساتھ حکومتی زبان بنی تو ہمارے اجداد نے عقلمندی اور دور اندیشی کا ثبوت دیتے ہوئے پرانی عربی اور فارسی کتابوں کو اُردو میں ترجمہ کرنا شروع کیا،

آج بھی وقت کافی بدل چکا ہے، اور ہم تاریخ کے اہم موڑ پر کھڑے ہیں، لہٰذا وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اور اپنی دور اندیشی کا ثبوت دیتے ہوئے اب ان اُردو کتب اور ہمارے قیمتی اثاثوں کو ہندی، انگریزی اور دیگر مقامی زبانوں میں منتقل کرنے کی شدید ضرورت ہے، بجائے اسکے کہ ہم یہ وا ویلا مچائے کہ اُردو کے بغیر طب ختم ہو جائے گا ، طب کی پہچان اُردو سے ہے، ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اثاثوں کو حفاظت کے لیے حکومت کی سرپرستی والی زبانوں میں منتقل کریں، دوسری طرف اُردو بچانے کی ذمےداری طب اور طبّی اداروں کو دینے کے بجائے خود پر لیں ، اپنے بچوں اور اپنی نسل کو اُردو پڑھائیں ، یونیورسٹیز کے اُردو کے جو شعبے ہیں انہیں آگے آ کر اُردو بچانے کی ذمےداری لینی چاہیے اور اسکے لیے رہنمائی کرنی چاہئے ۔

یہ بات سمجھنا چاہیے کہ طب الگ ہے اور اردو الگ ہے، اگر طب کو بچانا مقصود ہے تو اسکے لیے الگ منصوبوں اور عمل کی ضروت ہے ، اور اردو کی حفاظت بالکل الگ معاملہ ہے، میں خود ایک محب طب کے ساتھ محب اُردو ہوں، اُردو اگر بچانا ہے تو اپنے بچوں کو اُردو پڑھائیں، اُردو کے فروغ کے لیے الگ ادارے بنائے، لیکن اسکا بوجھ طب اور طبّی اداروں پر مت ڈالیں، طب کی بقاء کے لیے غیر اودو داں حضرات کے لیے بھی طب کے دروازے کھولیں۔

جذبات سے اوپر اٹھ کر حقائق کو سمجھتے ہوئے اپنے حق اختلاف کو استعمال کریں۔
حکیم محمد رحمت اللہ رحمانی۔،
سینئر میڈیکل آفیسر (یونانی), CGHS Kolkata

متعلقہ خبریں

تازہ ترین