Friday, April 12, 2024
homeادب و ثقافتحماس-اسرائیل تنازع کی تاریخ کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو یہ...

حماس-اسرائیل تنازع کی تاریخ کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو یہ 5 فلمیں دیکھیں

ڈیسک

1948 کی عرب-اسرائیل جنگ سے لے کر فلسطین پر اسرائیلی قبضے تک، اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازع کی تاریخ پر بننے والی ایسی 5 فلمیں ہیں جو اسرائیل-حماس تنازع کی حالیہ صورتحال کو سمجھنے میں آپ کی مدد کرسکتی ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ 10 دنوں کے دوران اسرائیل کے جنگی طیارے غزہ کی پٹی پر مسلسل بمباری کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ڈھائی ہزار سے زائد فلسطینی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جن میں سے ایک چوتھائی تعداد بچوں کی ہے، اس کے علاوہ اسرائیل کی جانب سے فضائی حملوں میں 10 ہزار سے زائد فلسطینی افراد زخمی بھی ہوئے ہیں، رپورٹ کے مطابق بم دھماکوں سے تباہ ہونے والی عمارتوں کے ملبے تلے ایک ہزار سے زائد فلسطینی اب بھی دبے ہوئے ہیں۔

اسرائیل کی جانب سے یہ کارروائیاں 7 اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر اچانک حملے کے بعد سامنے آئی تھیں، اس حملے کے نتیجے میں کم از کم ایک ہزار سے زائد اسرائیلی ہلاک ہوگئے تھے۔

اس وقت پوری دنیا کی توجہ اسی تنازع کی طرف ہے، اگر آپ اس تنازع کی تاریخ کو سمجھنا چاہتے ہیں تو غیر ملکی نشرایاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کی جانب سے شیئر کی گئی نیچے دی ہوئی 5 فلمیں دیکھ سکتے ہیں۔

1۔ النکبہ

فلسطینیوں کے مطابق 1950 کی دہائی کے اوائل میں 49-1948 کی جنگ کے دوران کم از کم 7 لاکھ 50 ہزار افراد کو اپنے گھروں سے جان بچا کر بھاگنا پڑا جسے فلسطینی ’نکبہ‘ یا ’تباہی‘ کے نام سے جانتے ہیں۔

اس کے برعکس اسرائیلیوں کا ماننا ہے کہ 1948 کی جنگ کے بعد ان کی ریاست قائم ہوئی، دستاویزی فلم ’النکبہ‘ چار حصوں پر مشتمل سیریز ہے جس میں اس دور کے تاریخی واقعات کے بارے تفصیلات بتائی گئی ہیں جس کے اثرات آج بھی نمایاں ہیں۔

2۔ دی وار – جون 1967
جون 1967 کی جنگ صرف 6 دن جاری رہی لیکن اس جنگ نے خطے پر دیرپا اثرات مرتب کیے ہیں، جس کی وجہ سے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تنازع میں مزید شدت آئی۔


’جون 1967 کی جنگ‘ نامی فلم میں جنگ کے اسباب پر روشنی ڈالی گئی ہے اور 6 دنوں کے تنازعات اور اس کے بعد کے حالات کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔

3۔ یروشلم: ڈیوائڈنگ الاقصیٰ
اس فلم میں مسجد اقصیٰ کے احاطے کی تاریخ اور مسلمانوں اور یہودیوں دونوں کے لیے اس کی اہمیت کا جائزہ لیا گیا ہے۔

اس میں الخلیل کی ابراہیمی مسجد کی اہمیت کا بھی جائزہ لیا گیا ہے جہاں اسرائیل نے فلسطینیوں کی آمد اور نماز پڑھنے پر پابندی عائد کی ہوئی ہے۔

4۔ غزہ، سینائی اینڈ دی وال
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق 1948 سے 1967 تک مصری سینائی شہری اور غزہ کے باشندے اس علاقے کو ایک ہی علاقہ سمجھتے تھے لیکن 1967 کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد اسرائیل نے سینائی اور غزہ کی پٹی پر قبضہ کر لیا تھا۔

12 سال بعد اسرائیل اور مصر نے ایک امن معاہدے پر دستخط کیے جس کے تحت سینا کا کنٹرول مصر کو واپس کر دیا گیا لیکن غزہ پر اسرائیلی قبضہ جاری رہا، 1982 میں دونوں علاقوں کو الگ کرنے کے لیے ایک دیوار بنائی گئی تھی جو آج بھی کھڑی ہے۔

الجزیرہ کی جانب سے یہ دستاویزی فلم ان فلسطینیوں کی کہانی پر مبنی ہے جن کی زندگی اس دیوار کی تعمیر کے بعد تبدیل ہوگئی۔

5۔ Weapon sing Water in Palestine
غزہ میں میٹھے پانی کا بنیادی ذریعہ کوسٹل ایکویفر ہے جو اب علاقے کی پانی کی ضروریات کو پورا کرنے سے قاصر ہے، کوسٹل ایکویفر سے پانی کی بہت زیادہ نکاسی کرنے کے باعث پانی سیوریج سے آلودہ ہوگیا ہے، اس کے علاوہ بڑھتا ہوا درجہ حرارت مزید مشکلات پیدا کر رہا ہے۔

اس فلم میں اس مسئلے پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ کس طرح اسرائیل کے قبضے اور ماحولیاتی مسائل کے نتیجے میں فلسطینیوں کو پانی کی کمی کے سب سے شدید مسائل کا سامنا ہے۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین