Wednesday, February 21, 2024
homeاہم خبریںپارلیمنٹ پر حملے کے 22سال بعد سموگ حملہ۔سیکورٹی میں ناکامی

پارلیمنٹ پر حملے کے 22سال بعد سموگ حملہ۔سیکورٹی میں ناکامی

پارلیمنٹ پر حملے کے 22سال بعد سموگ حملہ۔سیکورٹی میں ناکامی

لوک سبھا میں بدھ کو اس وقت سکیورٹی سقم دیکھا گیا جب دو نامعلوم افراد نے ارکان پارلیمان کے چیمبرز میں داخل کر سموک بم پھینک دیے۔

واضح طور سکیورٹی میں سقم کا یہ واقعہ پارلیمنٹ پر’دہشت گردانہ‘ حملے کے 22 سال مکمل پر پیش آیا۔ 2001 میں ہونے والے اس حملے میں سکیورٹی افسران اور پانچ حملہ آوروں سمیت ایک درجن افراد مارے گئے تھے۔

دو افراد مہمانوں کی گیلری سے وقفے کے دوران ایوان میں چھلانگ لگا کر داخل ہوئے جہاں ارکان پارلیمان بیٹھے تھے۔ ان افراد کی جانب سے کھولے گئے سموک کنستر سے یہ جگہ زرد دھوئیں سے بھر گئی۔

وزیر اعظم نریندر مودی واقعے کے وقت پارلیمنٹ میں موجود نہیں تھے۔

کارروائی کی براہ راست ٹیلی ویژن فوٹیج میں قانون سازوں کو اس واقعے سے دنگ دیکھا جا سکتا ہے جس کے بعد انہیں ایک میز سے دوسری میز پر چڑھنے والے مشکوک افراد کو پکڑنے کی کوشش کرتے دکھایا گیا۔

واقعے کے بعد دونوں ایوانوں کی کارروائی کچھ دیر بعد ملتوی کر دی گئی۔

پولیس نے بتایا کہ سکیورٹی کی خلاف ورزی کے بعد دو مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

مزید دو افراد جن میں مہاراشٹر سے تعلق رکھنے والے انمول نامی ایک شخص اور ہریانہ سے تعلق رکھنے والی نیلم نامی ایک خاتون کو پارلیمنٹ کمپلیکس کے باہر احتجاج کرنے اور سموک بم کھولنے پر حراست میں لیا گیا۔

پولیس نے کہا کہ وہ یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا دونوں واقعات آپس میں جڑے ہوئے ہیں یا نہیں۔

ایوان زیریں یعنی لوک سبھا کے سپیکر اوم برلا نے کہا: ’ان دونوں مشکوک افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور ان کے پاس موجود ’سامان‘ بھی ضبط کر لیا گیا ہے۔ پارلیمنٹ کے باہر سے بھی دو لوگوں کو پولیس نے گرفتار کیا گیا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ واقعہ کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور دہلی پولیس کو اس حوالے سے ہدایات دے دی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’ابتدائی تحقیقات میں یہ پتہ چلا ہے کہ یہ صرف دھواں تھا اور دھوئیں کے بارے میں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ گرجیت سنگھ اوجلا، جنہوں نے گھسنے والے دونوں افراد کو قابو میں کیا تھا، نے کہا کہ انہوں نے وقفے کے آخری لمحات میں ہنگامہ آرائی کی آواز سنی۔

ان کے بقول: ’اس کے ہاتھ میں کچھ تھا جس سے پیلے رنگ کا دھواں نکل رہا تھا۔ میں نے اسے چھین لیا اور اسے باہر پھینکنا جاری رکھا۔ یہ سکیورٹی میں ایک بڑا سقم ہے۔‘

بی جے پی سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمان راجیندر اگروال، جو سپیکر کی جگہ ایوان کی صدارت کر رہے تھے، نے صحافیوں کو بتایا: ’یقینی طور پر یہ ایک سقم ہے۔ جب پہلا شخص نیچے آیا تو ہم نے سوچا کہ شاید وہ گر گیا ہے لیکن جب دوسرا شخص نیچے آنے لگا تو ہم سب محتاط ہو گئے۔‘

ان کے بقول: ’اس شخص نے اپنے جوتے کھولنے کی کوشش کی اور کچھ نکالا جس کے بعد دھواں نکلنے لگا۔ ان افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ اس کا فیصلہ سپیکر اور ذمہ دار لوگ کریں گے۔‘

ایک اور رکن پارلیمان کارتی چدمبرم نے پارلیمنٹ کے باہر نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’’اس دن انڈیا کی پارلیمنٹ پر دوبارہ حملہ کیا گیا ہے۔‘

لوک سبھا میں ممبران نے کہا کہ مشتبہ افراد نے ’تانا شاہی نہیں چلے گی‘ کے نعرے لگائے تھے۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین