Wednesday, February 21, 2024
homeاہم خبریںرام مندر کے افتتاح سے قبل ایودھیا کے مسلمان خوف کا شکار

رام مندر کے افتتاح سے قبل ایودھیا کے مسلمان خوف کا شکار

دسمبر 1992 میں ہونے والے مذہبی فسادات کے دوران خاندان میں جانی نقصان اٹھانے والے صفی محمد نے بتایا: ’میرے خاندان نے پہلے ہی بہت کچھ برداشت کیا ہے۔ کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔‘

ایودھیا : رائٹرز

بہت سے دوسرے مسلمانوں کی طرح انڈیا میں بطور درزی کام کرنے والے صفی محمد بھی اپنی بیوی اور دو بیٹوں کو اگلے ماہ ایودھیا میں رام مندر کے افتتاح کے لیے ہزاروں یاتریوں کی آمد سے قبل گھر سے دور بھیجنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

یہ مندر اس مقام پر تعمیر کیا گیا ہے، جسے ہندو بھگوان رام کی جائے پیدائش مانتے ہیں اور جہاں ایک زمانے میں مغل دور کی مسجد موجود تھی۔ اس سب سے صفی محمد کی تلخ یادیں تازہ ہو جاتی ہیں۔

38 سالہ صفی محمد نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ انہیں یاد ہے جب دسمبر 1992 میں ہندوؤں نے بابری مسجد کو مسمار کر دیا تھا، جس سے ملک بھر میں مذہبی فسادات پھوٹ پڑے تھے، جن کے دوران تقریباً دو ہزار اموات ہوئیں، جن میں زیادہ تر مسلمان تھے۔ مرنے والوں میں ان کے چچا بھی شامل تھے۔

مندر سے چند میٹر کے فاصلے پر واقع اپنے گھر میں کپڑوں کی سلائی میں مصروف صفی محمد نے بتایا: ’میرے خاندان نے پہلے ہی بہت کچھ برداشت کیا ہے۔ کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔‘

انڈیا کی شمالی ریاست اتر پردیش میں واقع شہر ایودھیا کی آبادی تقریباً 30 لاکھ ہے، جن میں سے پانچ لاکھ مسلمان ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ ان مسلمانوں کی تعداد کا کم از کم دسواں حصہ نئے تعمیر شدہ رام مندر کے قریبی علاقے میں رہائش پذیر ہے اور ان میں سے کچھ رہائشیوں نے کہا ہے کہ وہ اب بھی ہندوؤں، خاص طور پر یاتریوں سے خوفزدہ ہیں، کیونکہ کوئی بھی واقعہ ممکنہ طور پر کسی بڑے واقعے میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

کم از کم ایک درجن مسلمان مردوں نے کہا کہ انہوں نے مندر کی افتتاحی تقریب سے قبل اپنے اہل خانہ کو شہر سے باہر رشتہ داروں کے پاس بھیجنے کا منصوبہ بنایا ہے، جو 22 جنوری 2024 کو ہونے والی ہے۔

ایودھیا میں ایک اسلامی سکول چلانے والے پرویز احمد قاسمی، تین دہائیوں قبل ہونے والے فسادات میں اپنے سسر کو کھو چکے ہیں۔ انہوں نے روئٹرز کو بتایا: ’ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ افتتاح کے دوران کیا ہوگا، کمیونٹی کے لوگ قدرے خوفزدہ ہیں۔‘

حکام کا کہنا ہے کہ ان مسلمانوں کی تعداد کا کم از کم دسواں حصہ نئے تعمیر شدہ رام مندر کے قریبی علاقے میں رہائش پذیر ہے اور ان میں سے کچھ رہائشیوں نے کہا ہے کہ وہ اب بھی ہندوؤں، خاص طور پر یاتریوں سے خوفزدہ ہیں، کیونکہ کوئی بھی واقعہ ممکنہ طور پر کسی بڑے واقعے میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

کم از کم ایک درجن مسلمان مردوں نے کہا کہ انہوں نے مندر کی افتتاحی تقریب سے قبل اپنے اہل خانہ کو شہر سے باہر رشتہ داروں کے پاس بھیجنے کا منصوبہ بنایا ہے، جو 22 جنوری 2024 کو ہونے والی ہے۔

ایودھیا میں ایک اسلامی سکول چلانے والے پرویز احمد قاسمی، تین دہائیوں قبل ہونے والے فسادات میں اپنے سسر کو کھو چکے ہیں۔ انہوں نے روئٹرز کو بتایا: ’ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ افتتاح کے دوران کیا ہوگا، کمیونٹی کے لوگ قدرے خوفزدہ ہیں۔‘

ایک طرف جہاں مندر کے آس پاس کے رہائشیوں میں سے کچھ نے اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے، وہیں ایودھیا کے کئی مسلمانوں نے کہا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت کے دوران تشدد کا کوئی بڑا واقعہ نہیں ہوا ہے، جو اتر پردیش کی بھی حکمران جماعت ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ افتتاح کے موقعے پر یاتریوں کی آمد سے مقامی معیشت بھی پھلے پھولے گی۔

توقع ہے کہ رام مندر کا افتتاح اگلے سال ہونے والے عام انتخابات میں ہندو قوم پرست بی جے پی کی کامیابی کے امکانات کو بڑھا دے گا، کیونکہ اس نے اپنی مہم کے دوران کیے گئے اہم وعدوں میں سے ایک کو پورا کیا ہے۔

انڈین سپریم کورٹ کی جانب سے اس مقام پر تنازعے کے خاتمے اور اسے ہندو گروپوں کو دینے کے چار سال بعد وزیراعظم نریندر مودی خود اس مندر کا افتتاح کریں گے۔

یاتریوں کی بڑی تعداد کی آمد متوقع

شرد شرما نامی ایک ہندو کہتے ہیں کہ ایودھیا میں ہر ایک کو مندر آنے والے یاتریوں سے فائدہ ہوگا۔

شرد شرما نے روئٹرز کو بتایا: ’ایودھیا اب ایک نیا شہر ہے جو فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی مثال بنے گا۔ گذشتہ دہائی میں یہاں تشدد کا کوئی واقعہ نہیں ہوا۔‘

متعلقہ خبریں

تازہ ترین