Wednesday, February 21, 2024
homeاہم خبریںاسرائیل اپنی سب سے قدیم اور مضبوط فوج کی گولانی بریگیڈ کو...

اسرائیل اپنی سب سے قدیم اور مضبوط فوج کی گولانی بریگیڈ کو غزہ سے واپس بلانے پر مجبور

اسرائیلی فوج کی ایلیٹ کمانڈو فورس گولانی بریگیڈ 1948 میں قائم ہوئی تھی اور اس نے اب تک اسرائیل کی ہر جنگ میں حصہ لیا ہے، تاہم اسے غزہ میں زبردست جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

غزہ

اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے اپنی مشہور کمانڈو فورس گولانی بریگیڈ کو غزہ کی پٹی سے واپس لیا ہے۔

12 دسمبر کو غزہ شہر کے مشرق میں واقع شجاعیہ نامی قصبے میں حماس کے جنگجوؤں نے قابض افواج پر شب خون مارا تھا جس کے نتیجے میں گولانی بریگیڈ کے دو اعلیٰ افسران سمیت سات فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

ہلاک ہونے والوں میں 13 ویں بٹالین کے کمانڈر کرنل ٹومر گرنبرگ اور گولانی بریگیڈ کے سربراہ کی فارورڈ کمانڈ ٹیم کے سربراہ کرنل اسحٰق بن باسط شامل ہیں۔

گولانی بریگیڈ کے دو افسران اور فوجی ایک عمارت کے اندر داخل ہوتے وقت قاسم بریگیڈ کے جنگجوؤں کی جانب سے لگائے جال میں پھنس گئے۔ کئی فوجی دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد (آئی ای ڈی) کا نشانہ بنے، جب کہ ان کی مدد کے لیے آنے والی ایک اور اسرائیلی ٹیم بھی دیسی ساختہ بموں کی زد میں آ گئی۔ اس کے علاوہ ان پر آس پاس کی اونچی عمارتوں سے فائرنگ بھی ہوئی جس کی وجہ سے کئی فوجی مارے گئے۔

گذشتہ ہفتے اسرائیلی فوج نے تسلیم کیا تھا کہ گولانی بریگیڈ کے کمانڈر اور سپاہی شجاعیہ کے القصبہ کے علاقے میں فلسطینی جنگجوؤں کے ساتھ دوبدو لڑائی کے دوران مارے گئے ہیں۔

فوج نے ایک بیان میں کہا کہ گولانی بریگیڈ کے فوجیوں نے شجاعیہ کالونی میں سخت جنگ لڑی ہے جس میں علاقے میں جنگجوؤں اور ان کے ارکان کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ فلسطینی جنگجو شہری عمارتوں اور زیر زمین سرنگوں کے نیٹ ورک کے اندر سے لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے حملہ آور اسرائیلی فورسز کو ایک رہائشی عمارت کے اندر سے دھماکہ خیز مواد اور گولیوں سے نشانہ بنایا۔

غزہ میں اسرائیلی فوج کی زمینی کارروائی کے آغاز سے اب تک ہلاک ہونے والے اسرائیلی فوجیوں کی تعداد 115 ہو گئی ہے۔

اسرائیلی فوج زبردست افرادی، ٹیکنالوجیکل، عسکری اور مالی برتری حاصل ہونے کے باوجود غزہ میں بنیادی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

ابھی تک سات اکتوبر کو حماس کے ہاتھوں قیدی بننے والوں کا سراغ لگایا جا سکا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ان قیدیوں کی تعداد 130 کے قریب ہے۔ اس کے علاوہ حماس کے کسی سینیئر رہنما کو گرفتار نہیں کیا جا سکا۔

اسرائیل نے دعویٰ کیا تھا کہ شفا ہسپتال میں حماس کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر ہے، مگر وہ ابھی تک اس دعوے کی تصدیق کے ٹھوس شواہد نہیں پیش کر سکا۔

ایک اور معاملہ جس کی وجہ سے اسرائیلی فوج کی اہلیت پر شدید تنقید ہوئی ہے، وہ گذشتہ ہفتے شجاعیہ ہی میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں تین اسرائیلی قیدیوں کی ہلاکت کا معاملہ ہے۔

اسرائیل کو مزید اسلحہ اور گولہ بارود دیں گے: امریکہ
اسرائیلی فوج نے 16 دسمبر کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ حماس کی قید میں موجود یوتم ہیم، ایلون شمریز اور سمر الطلقا نامی اسرائیلی شہریوں کو غزہ کے ایک علاقے میں آپریشن کے دوران گولی مار دی گئی۔

اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی فوج نے کہا ’غلطی سے قتل‘ کیے جانے والے قیدیوں نے سفید جھنڈے اٹھا رکھے تھے اور عبرانی زبان میں مدد کے لیے پکار رہے تھے۔‘

اس واقعے پر اسرائیل میں سخت غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ گذشتہ ہفتے قیدیوں کے خاندانوں نے تل ابیب میں جلوس نکالے جس میں لوگوں نے ’اب ان سب کو (رہا کروایا جائے)‘ اور ’آپ انہیں بچا سکتے تھے‘ کے نعرے لگائے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ شہر میں اسرائیلی فوج کے مرکزی ہیڈ کوارٹر کے باہر غیر معینہ مدت تک احتجاج کریں گے ’جب تک کہ کابینہ قیدیوں کی رہائی کے لیے اسرائیلی منصوبہ پیش نہیں کرتی۔‘

اس کے علاوہ بظاہر اسرائیلی فوجیوں کا مورال بھی خاصا گرا ہوا ہے۔ غزہ کے محاذ سے واپس آنے والے ایک اسرائیلی فوجی افیخائی لیفی نے گذشتہ روز میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر میں دن کو عرق شراب نہ پیوں تو رات سو نہیں سکتا۔

انہوں نے تقریباً چیختے ہوئے کہا، ’میں اب بھی تصور کر رہا ہوں کہ آر پی جی کے گولے میرے سر کے اوپر سے گزر رہے ہیں۔ میں تصور کر رہا ہوں کہ میں بلڈوزر کے اندر جنگ لڑ رہا ہوں، لاشوں کی بو میری ناک میں آ رہی ہے اور میں مارے جانے والے سپاہیوں کے جسموں کے ٹکڑے اکٹھے کر رہا ہوں۔‘

گولانی بریگیڈ کیا ہے؟

گولانی بریگیڈ کی ویب سائٹ کے مطابق یہ ایلیٹ یونٹ 1948 میں قائم کیا گیا تھا۔ اس بریگیڈ کے فوجی بھورے رنگ کی ٹوپیوں اور چوکور یونٹ ٹیگز کی مدد سے پہچانے جاتے ہیں۔

ویب سائٹ کے مطابق گولانی بریگیڈ نے اسرائیل کے قیام کی جنگ، یوم کپور کی جنگ، لبنان کے ساتھ جنگوں اور ایسے ہی متعدد معرکوں میں حصہ لیا ہے۔

اس بریگیڈ کا نام اسرائیلی شہر الجلیل کے نام پر رکھا گیا ہے جسے عبرانی میں گلیل کہا جاتا ہے۔

گولانی بریگیڈ پانچ بٹالین پر مشتمل ہے، جن میں سے دو 1948 کے بعد سے اب تک قائم ہیں۔

اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ کے مطابق سات اکتوبر کو جب حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا تو اس کی زد میں گولانی بریگیڈ کی بٹالین 51 اور 13 بھی آئیں اور لڑائی کے پہلے دن ہلاک ہونے والے 300 سے زیادہ فوجیوں میں بڑی تعداد گولانی بریگیڈ کے سپاہیوں کی تھی۔

18 دسمبر کو گولانی بریگیڈ کے سپاہیوں نے شجاعیہ کے ایک چوک میں نصب ایک مجسمہ تباہ کر دیا۔ یہ مجسمہ 2014 میں ایک آپریشن کی یاد میں قائم کیا گیا تھا جس کے دوران فلسطینی جنگجوؤں نے کئی اسرائیلی سپاہیوں کو مار ڈالا تھا۔

گولانی بریگیڈ کی 13ویں بٹالین کے کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل یوول مازوز نے اس موقعے پر کہا تھا کہ ’13 ویں بٹالین اس مقام پر موجود ہے جہاں حماس نے مجسمہ نصب کیا تھا۔ ہم حماس کو واضح پیغام دے رہے ہیں کہ جہاں کہیں بھی ایسا مجسمہ نصب کیا جائے گا ہم آئیں گے اور اسے تباہ کر دیں گے۔‘

اسرائیلی فوج کو غزہ میں سخت مشکلات کا سامنا

ترک خبررساں ادارے انادولو کے مطابق سات اکتوبر کے بعد سے اب تک اسرائیل کے 469 فوجی مارے جا چکے ہیں، جب کہ زخمی اس کے علاوہ۔ تاہم دوسرے ذرائع کے مطابق یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ حماس نے اب تک سینکڑوں اسرائیلی ٹینکوں کو دوسری بکتربند گاڑیوں کی تباہی کی ویڈیوز پوسٹ کی ہیں۔

الجزیرہ نے ایک امریکی جنرل کے حوالے سے لکھا ہے کہ شہروں میں لڑی جانے والی لڑائی میں سب سے اہم عنصر تجربہ ہوتا ہے اور کسی بھی قسم کی تربیت اصل جنگ کا متبادل نہیں ہو سکتی۔

گنجان آباد شہری علاقوں میں اسرائیلی فوجیوں کو نہ صرف اپنے اردگرد چار طرف سے، بلکہ اوپر اور نیچے سے بھی حملوں کا سامنا ہے۔

اس لیے اسرائیلی فوجیوں کو شہری علاقوں میں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ دوسری جانب اندھادھند بمباری کی وجہ سے اسرائیل کی بین الاقوامی حمایت میں تیزی سے کمی آتی جا رہی ہے اور حالیہ دنوں میں امریکہ، کینیڈا اور برطانیہ کئی عالمی رہنماؤں نے غزہ میں عام شہریوں کی اموات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اس صورتِ حال میں گولانی بریگیڈ کا غزہ سے نکلنا بےحد اہمیت کا حامل ہے اور اس سے اسرائیلی فوج کی غزہ میں مشکلات کا اندازہ ہوتا ہے

متعلقہ خبریں

تازہ ترین