Wednesday, February 21, 2024
homeاہم خبریںاپریل 2022سے جون 2022تک 128مقامات تعزیری انہدامی کارروائی کے زیادہ تر شکار...

اپریل 2022سے جون 2022تک 128مقامات تعزیری انہدامی کارروائی کے زیادہ تر شکار مسلمان : ایمنسٹی

بین الاقوامی حقوق انسانی کی تنظیم ’’ایمنسٹی انٹرنیشنل ‘‘ کی دو رپورٹ ’’اگر آپ بولیں گے تو آپ کا گھر گرا دیا جائے گا:بھارت میں بلڈوزرس کی ناانصافی اور ’’بے حساب احتساب: ہندوستان میں بلڈوزرکی ناانصافی میں جے سی بی کا کردار اور ذمہ داری‘‘ کا اجرا۔بی جے پی کے زیر اقتدار مدھیہ پردیش میں سب سے زیاد ہ مسلمانوں کے مکانات گرائے گئے

نئی دہلی (انصاف نیوز آن لائن )

بین الاقوامی حقوق انسانی کی تنظیم ’’ایمنسٹی انٹرنیشنل ‘‘نے بدھ کو شائع ہونے والی اپنی دو رپورٹوں میں کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت والی چار ریاستوں اور ایک عام آدمی پارٹی کے زیر انتظام ریاست میں اپریل2022سے جون 2022 کے درمیان 128 مقامات انہدامی کارروائی کی گئی جس میں زیادہ تر مسلمانوں کے مکانات تھے۔

بین الاقوامی حقوق انسانی کی تنظیم ’’ایمنسٹی انٹرنیشنل ‘‘نےآج دورپورٹیں’’اگر آپ بولیں گے تو آپ کا گھر گرا دیا جائے گا:بھارت میں بلڈوزرس کی ناانصافی اور ’’بے حساب احتساب: ہندوستان میں بلڈوزرکی ناانصافی میں جے سی بی کا کردار اور ذمہ داری‘‘ جاری کی ہیں ۔رپورٹ کے مطابق بی جے پی کی حکومت والی مدھیہ پردیش میں سب سے زیادہ انہدامی کارروائی 56مقامات پر کی گئی ہے ۔اس کے بعد گجرات میں 36 اور عام آدمی پارٹی کی حکومت والی دہلی میں 25 مقامات پرانہدامی کارروائی ہوئیں ہیں۔ اس مدت کے دوران آسام میں آٹھ اور اتر پردیش میں تین جائیدادیں مسمار کی گئیں ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نےاپنی رپورٹ میں کہا کہ پانچوں ریاستوں میں انتظامیہ نے ’’ٹارگٹڈ انہدامی کارروائی اور ’’جبری بے دخلی‘‘ غیر عدالتی اور اجتماعی اور من مانی سزا دراصل ناانصافی اور امتیازی سلوک کے خلاف مسلمانوں کے بولنے کی وجہ سے کی ہے۔تنظیم نے کہا کہ اس طرح کی مسماری بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون اور اقتصادی، سماجی اور ثقافتی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم نے ڈھانچے کے رہائشیوں، قانونی ماہرین اور صحافیوں سے انٹرویو کرکے 128 میں سے 63 انہدامی کارروائی کی گہرائی سے چھان بین کی گئی ہے۔ محققین نے پایا کہ مسلمانوں کے مظاہروں اور مظاہرین اور پولیس کے درمیان پرتشدد جھڑپوں کی اطلاعات کے بعد اکثر انہدامی کارروائی کی گئی ہے۔

تنظیم نے پایا کہ ان ریاستوں میں اعلیٰ سیاسی اور انتظامی عہدیداروں نے انہدام سے ایک دن قبل احتجاج اور تشدد میں حصہ لینے والے مشتبہ افراد کی املاک کو بلڈوز کردیا۔

مثال کے طور پر جون 2022 میںاتر پردیش کے وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ نے مبینہ طور پر دھمکی دی تھی کہ پریاگ راج میں بی جے پی کے ترجمان کے ذریعہ پیغمبر اسلام کے خلاف اہانت آمیز تبصروں کے خلاف احتجاج کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور ان کے مکانات کو بلڈوز کردیا جائے گا۔

اسی دن ریاستی انتظامیہ نے سماجی کارکن جاوید محمد کے گھر کو مسمار کر دیا ۔انہوں نے مظاہروں میں شرکت کی تھی ۔ان کو گرفتار بھی کرلیا گیا ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے یہ بھی پایا کہ مسماری بغیر کسی مناسب عمل کے حفاظتی اقدامات پر عمل کئے بغیر کیا گیا ہے۔اس میں کہا گیا کہ ریاستی حکومتوں نے انہدامی کارروائی سے قبل متاثرہ خاندان کو کوئی پیشگی نوٹس یا پھر قانونی کارروائی کئے بغیر کیا گیا ہے۔مسلمانوں کو بے گھر کرنے کے علاوہ جب مسلمانوں نے اس کے خلاف احتجاج کیا توپولیس اہلکاروں نے حملہ بھی کیا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ آئین میں درج ان کے انسانی حقوق کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کی خلاف ورزی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے سکریٹری جنرل،اگنیس کالمارڈ نے کہاکہ بھارتی حکومت کی طرف سے مسلمانوں کی جائیدادوں کی غیر قانونی مسماری جس کو بی جے پی کے لیڈران اور ان کے حامی میڈیا بلڈوزر جسٹس کے طور پر پیش کرتی ہے ’’ظالمانہ اور خوفناک ہے‘‘ ۔اس طرح کی نقل مکانی اور بے دخلی انتہائی غیر منصفانہ، غیر قانونی اور امتیازی سلوک ہے۔ وہ خاندانوں کو تباہ کر رہے ہیں اور انہیں فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔‘‘

بین الاقوامی تنظیم نے اپنی رپورٹ میں 21 جنوری کو رام مندر کے افتتاح کے موقع پر نکالی جانے والی ریلی پرتشدد ہو جانے کے بعد مہاراشٹر کے میرا روڈ میں 15 ڈھانچوں کو بلڈوز کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مسماری قانونی عمل کے بغیر انجام دی گئی ہے ۔

23 جنوری کو ممبئی کے قریب میونسپلٹی میرابھیندر میں میونسپلٹی نے میرا روڈ کے نیا نگر علاقے میں ’’غیر قانونی‘‘ ڈھانچوں کو بلڈوز کر دیا۔اس کارروائی کے ایک دن بعد ایمنسٹی نے ہندوستانی انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے لیے انہدامی کارروائی کرنے کی امتیازی پالیسی کو فوری بند کریں ۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین