مستقیم صدیقی

جب کوئی تحریک اپنے ماضی کو بھول جائے، اور اپنے اصل ہیروز کی قربانیوں کو نظرانداز کر دے، تو وہ تحریک نہیں، بلکہ صرف ایک دکھاوا رہ جاتی ہے۔
وقف تحریک کی حالیہ صورت بھی کچھ ایسی ہی نظر آئی۔
جب وقف تحریک کی شروعات ہوئی، تو جنتار منتر سے ایک ہنکار گونجی —
“اگر وقف بل واپس نہیں ہوا تو شاہین باغ کے انداز میں پورے ملک میں احتجاج ہوگا” — یہ ایک ہمت بھری تنبیہ تھی۔
رمضان کے مہینے میں، گردنی باغ پٹنہ میں امام بارگاہ کے اسٹیج سے یہ آواز دوبارہ دہرائی گئی۔
میرے جیسے لاکھوں لوگ اس ہنکار کو لے کر سنجیدہ تھے۔ انہوں نے اسے ایک عوامی تحریک کی شروعات سمجھا۔
جب تحریک گاندھی میدان پہنچی، تو سب کچھ بدل گیا۔ لاکھوں لوگوں کا ہجوم تھا، اسٹیج تھا، نعرے تھے — لیکن سچ غائب تھا۔
جن چہروں نے شاہین باغ کو دنیا بھر میں پہچان دلائی، جن لوگوں نے اپنی آزادی کی قیمت جیلوں میں کاٹ کر چکائی — ان کا نام تک اسٹیج پر نہیں تھا۔
شرجیل امام (بہار کا بیٹا)، عمر خالد، میران حیدر (تیجسوی یادو کی پارٹی کا سابقہ نمائندہ)، خالد سیفی، شفاالرحمان، گل فشان فاطمہ اور بہت سے دوسرے ہیرو۔
ان کی تصویر تک ایک بھی پوسٹر پر نہیں تھی۔ جن کی قربانیوں کے بغیر شاہین باغ ناممکن تھا، ان کی تصویر تک اسٹیج پر غائب تھی۔
کیوں ان چہروں سے پرہیز کیا گیا؟
کیوں ان کا نام لینے میں ڈر لگ رہا ہے؟
کیوں گاندھی میدان کے ہر کونے میں صرف انتخابی چہروں کی ہورڈنگ تھی؟
کیونکہ ساری تحریک کسی سیاسی فائدے کا حصہ بن چکی تھی۔
ایک طبقہ اس تحریک کو اپنی پہچان، اپنا چہرہ اور اپنی سیٹ پکا کرنے کا اسٹیج بنا بیٹھا۔
جب گاندھی میدان کو بھرنے کی بات آئی، تو دیکھا کہ شاہین باغ کی اصل پہچان، اس کے اصل ہیروز کو پوری طرح نظرانداز کر دیا گیا۔
شاہین باغ کو پہچان دلانے والے کون تھے؟
شرجیل امام (بہار کا بیٹا)، عمر خالد، خالد سیفی، میران حیدر، شفاالرحمان، گل فشان فاطمہ جیسے ہمارے ہیرو۔
ان سب کی قربانیوں کو بھلایا نہیں گیا، بلکہ جان بوجھ کر نظرانداز کیا گیا۔
گاندھی میدان میں لاکھوں کا ہجوم تھا، لیکن ایک بھی پوسٹر، ایک بھی تصویر ان ناموں کی نظر نہیں آئی۔
یہ نظرانداز نہیں، بلکہ سیاسی حکمتِ عملی ہے —
وقف تحریک کو انتخابی اسٹیج میں تبدیل کرنے کی سازش۔
شاہین باغ کا نام، لیکن ہیرو غائب!
شرجیل امام، جس نے سب سے پہلے شاہین باغ کی تحریک کو کھڑا کیا، اسی بہار میں اس کے نام سے پرہیز؟
کیا یہ تحریک واقعی وقف کے لیے ہے، یا پھر کچھ لوگوں کے سیاسی مستقبل کی بنیاد؟
اگر ای ایم آئی ایم کا جھنڈا تیجسوی یادو کے سامنے گاندھی میدان میں لہرانے کی بجائے،
میران حیدر یا شرجیل امام کا پوسٹر تیجسوی یادو کو دکھا دیا جاتا،
تو آر جے ڈی پر دباؤ بنتا، جس کی سیاسی قیمت ضرور چکانی پڑتی۔
سوال یہی ہے:
کیا شاہین باغ کا نام صرف ایک جذباتی نعرے تک محدود ہے؟
کیا ہیروز کی قربانی صرف بولنے کے لیے ہے، پہچان دلانے کے لیے نہیں؟
کیا ہم واقعی اپنی قوم کے لیے لڑ رہے ہیں یا صرف اپنی پہچان بنانے کے لیے؟
اگر اس تحریک کے اسٹیج پر شرجیل امام کی ماں، میران حیدر کا بھائی یا عمر خالد سیفی کی بیوی کو جگہ دے کر صرف اتنا کہلوا دیا جاتا کہ “ہم سب ایک ہیں”، تو وہ ایک جملہ، نعتاؤں کی پوری تقریر پر بھاری پڑ جاتا۔
اگر اسٹیج پر ان کے خاندان کا کوئی فرد ہوتا تو شاید یہ تحریک تاریخ میں درج ہو جاتی۔
لیکن آج یہ تحریک صرف کچھ فوٹو شوٹ، تقریروں اور سیاسی ایجنڈے میں سکڑ کر رہ گئی۔
اصل سوال:
کیا یہ جدوجہد وقف کی تھی یا موقع پرستی کی؟
اور سچ تو یہ ہے کہ اس نظرانداز کے پیچھے ڈر نہیں، چالاکی تھی۔
ایک سوچ سمجھ کر رچا گیا اسٹیج، جس میں صرف وہ چہرے تھے جو اقتدار سے ‘مینیج’ ہو سکتے تھے۔
اور جو ظلم سے لڑتے ہیں، جو سچائی کی آواز ہیں، وہ اسٹیج کے باہر تھے۔
شاہین باغ ایک تحریک تھی — دلوں سے اٹھی ہوئی۔
وقف تحریک اگر اسی انداز پر چلتی، تو شاید تبدیلی لا سکتی تھی۔
لیکن جس دن سچے ہیروز کو نظرانداز کر دیا گیا، اسی دن یہ تحریک حصول سے زیادہ، حیثیت کی لڑائی بن گئی۔
آخر میں…
جب کوئی قوم اپنے ہی ہیروز کو نظرانداز کرتی ہے،
تو وہ نہ صرف غلام بن جاتی ہے، بلکہ اپنی پہچان بھی کھو دیتی ہے
