Saturday, November 29, 2025
homeاہم خبریںآپ کو کہیں اور تجاوزات نظر نہیں آتیں؟ صرف مزارات اور درگاہوں...

آپ کو کہیں اور تجاوزات نظر نہیں آتیں؟ صرف مزارات اور درگاہوں کے خلاف ہی عرضی کیوں؟

انصاف نیوز آن لائن:

دہلی ہائی کورٹ نے ایک این جی اوکی نیت کو بے نقاب کرتے ہوئے سوال کیا کہ آپ کو صرف مزار اور خانقاہی کیوں نظرآتے ہیں اور کیا صرف مزار اور خانقا ہی غیر قانونی تعمیرات ہوئی ہے۔دہلی ہائی کورٹ نے بدھ کے روزاس معاملے کی سماعت کرتے ہوئے درخواست کو مسترد کر دیا۔عرضی میں جمنا کے سیلابی میدانی علاقے میں واقع مبینہ غیر قانونی تجاوزات جن میں ایک مزار اور تین درگاہیں شامل ہیں کو ہٹانے کی درخواست کی گئی ہے۔

عدالت نے این جی او کے نیک نیتی پر سوال اٹھاتے ہوئے ریمارکس دیے کہ وہ کیوں صرف درگاہوں اور مزارات کو ہٹانے کی درخواست کر رہی ہے۔رجسٹرڈ ٹرسٹ، سیو انڈیا فاؤنڈیشن اپنے بانی پریت سنگھ کے حوالے سے دعویٰ کرتی ہے کہ وہ شہریوں کے حقوق کے نفاذ کے لیے مسائل اٹھانے پر کام کر رہی ہے۔2022 میں این جی او اور پریت سنگھ کے خلاف دہلی پولس نے براری میں منعقدہ ’ہندو مہاپنچایت‘ میں مبینہ طور پر نفرت انگیز تقاریر کے الزام میں مقدمہ درج کیا تھا۔ ایف آئی آر میں ایک کلیدی ملزم داسنا دیوی مندر کے سربراہ پجاری یتی نرسنگھانند کا نام بھی شامل ہے۔ پریت سنگھ نے 2021 میں جنتر منتر پر منعقدہ ایک ایونٹ کا بھی اہتمام کیا تھا، جہاں مبینہ طور پر مسلم مخالف نعرے لگائے گئے تھے۔عدالت نے زور دیا کہ یہ تعمیرات دہلی حکومت کے ایریگیشن اینڈ فلڈ کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کی عوامی زمین پر ہیں۔

پبلک انٹرسٹ لٹیگیشن (PIL) میں خاص طور پر تین درگاہوں (روہتک روڈ، سیلم پور، اور براری میں) اور ایک مزار (بدھ وہار فیز 2 میں) کو غیر مجاز تجاوزات کے طور پر درج کیا گیا ہے، جب کہ یہ الزام لگایا گیا کہ“حکومتی زمین کا ایک بڑا حصہ لینڈ مافیا نے جھوٹی مذہبی ڈھانچوں کے ذریعے قبضہ کر لیا ہے۔”چیف جسٹس ڈی کے اپادھیایا نے شروع میں ہی درخواست گزار کی نیک نیتی پر سوال اٹھایا۔ عدالت نے کہا کہ“آپ چن چن کر یہ درگاہیں کہاں سے لے آتے ہیں؟ کیا آپ کو کہیں اور تجاوزات نظر نہیں آتی ہیں؟ آپ صرف مزارات کیوں نشانہ بنا رہے ہیں؟۔

”فاؤنڈیشن کے وکیل، امیش شرما نے جواب دیاکہ“اس قبضے میں مندر بھی ہیں، (لیکن) میں انہیں نشانہ نہیں بنا رہا…”چیف جسٹس اپادھیایا نے زبانی طور پر جواب دیا،“ہم آپ کی نیک نیتی پر سوال اٹھارہے ہیں … یہ اس بنچ کے سامنے پانچویں یا چھٹی درخواست ہوگی جہاں آپ مزارات ہٹانے کی درخواست کر رہے ہیں۔ براہ کرم اسے اس جہت تک نہ لے جائیں … ہم یہ بھی نہیں کہہ رہے کہ یہ ڈھانچہ قانونی ہے… لیکن خاص طور پر مزارات کیوں؟… اگر آپ واقعی عوام کی خدمت کرنا چاہتے ہیں تو اس کے اور بھی بہت سے طریقے ہیں … (صرف) ایسی ڈھانچوں کو ہٹانے کی درخواست کرکے نہیں … براہ کرم اپنی فاؤنڈیشن کو کچھ بہتر عوامی کام کرنے کی صلاح دیں۔

”چیف جسٹس اپادھیایا اور جسٹس تشار راؤ گیڈیلا کی بنچ نے کیس کے میرٹس میں جائے بغیر، معاملے کو نمٹا دیا اور حکام کو ہدایت دی کہ وہ فاؤنڈیشن کی درخواست پر جلد از جلد فیصلہ کریں۔جولائی میں، ہائی کورٹ نے ٹرسٹ کی ایک اور PIL کو نمٹایا تھا۔ این جی او نے دعویٰ کیا تھا کہ باوانا میں قبرستان اور تدفین/شمشان کے لیے مختص دو پلاٹوں جو 4,000 مربع میٹر پر مشتمل ہیں۔ پر مبینہ تجاوزات ہیں۔ ٹرسٹ نے زمین کے استعمال کو ’سبز علاقہ‘ سے ’قبرستان اور تدفین/شمشان‘ میں تبدیل کرنے کی تجویز کی بھی مخالفت کی تھی۔اپریل میں ایک اور PIL کو نمٹاتے ہوئے، جس میں این جی او نے واگیر پور میں ایم سی ڈی اسکول کی زمین پر مسجد اور دکانوں کے ذریعے مبینہ تجاوزات کا الزام لگایا تھا۔ ہائی کورٹ نے شہری ادارے کو ہدایت دی تھی کہ وہ درخواست کو بطور نمائندگی سمجھیں اور دعوؤں کی صداقت کی جانچ کریں۔اس سال کے دوران، فاؤنڈیشن نے ہائی کورٹ کے سامنے 20 درخواستیں دائر کی ہیں۔جن میں سے زیادہ تر دہلی میں مبینہ تجاوزات سے متعلق ہیں۔ گزشتہ چند سالوں میں دائر کی گئی تقریباً ایک درجن درخواستیں ابھی بھی ہائی کورٹ کے سامنے زیر التوا ہیں۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین