Saturday, November 29, 2025
homeاہم خبریں’’چار لاچار اور کھوئی ہوئی کھٹیا‘‘

’’چار لاچار اور کھوئی ہوئی کھٹیا‘‘

عامر کاظمی
خضرپور – کلکتہ

بہار کی سیاست کا تماشہ ایسا ہے کہ جو اسے دیکھ لے وہ یا تو سیاست سے تائب ہو جائے یا مزاح لکھنے لگے۔ متھلا آنچل کے چار بڑے نام—اشرف علی فاطمی، عبدالباری صدیقی، ڈاکٹر شکیل احمد اور فیاض احمد—وہ ستون تھے جن پر اگر کبھی کوئی ڈھنگ کی عمارت کھڑی ہوتی تو کم از کم بارش میں ٹپکتی نہ۔ مگر ہوا یہ کہ یہ چاروں اپنی اپنی دکان میں چراغ جلائے بیٹھے رہے اور نتیجہ یہ نکلا کہ آج یہ لوگ تیجسوی جیسے کل کے لونڈے کی تقریر پر تالیاں بجانے پر مجبور ہیں۔

یقین سے کہتا ہوں کہ اگر یہ چار لاچار کبھی اپنی انا کو لپیٹ کر ایک پلیٹ فارم پر آ کھڑے ہوتے اور ایک پارٹی بنا ڈالتے، تو متھلا آنچل کی سیاست کا نقشہ ہی بدل جاتا۔ غیر مسلم ہر ذات کے ووٹر اور لیڈر ان کے ساتھ جُڑتے، کیوں کہ سچ پوچھیے تو بہار کا ووٹر ذات برادری کے جال میں ضرور پھنسا رہتا ہے، مگر جب اُسے ایک مضبوط قیادت دکھائی دیتی ہے تو وہ اس کے پیچھے دوڑتا بھی ہے۔ یہ چاروں اگر یکجا ہو جاتے تو کم از کم دو ممبر پارلیمنٹ اور آٹھ سے دس اسمبلی ممبران اُن کی جھولی میں ہوتے۔ مسلمانوں کے ووٹ کو بھی ایک خضرِ راہ ملتا، جو برسوں سے بے سمت ہو کر کبھی کانگریس، کبھی آرجے ڈی اور کبھی جے ڈی یو کے کٹورے میں گر رہا ہے۔

مگر افسوس یہ ہے کہ یہ خواب حقیقت نہ بن سکا۔ چاروں حضرات اپنی اپنی سیاسی جماعت کے ساتھ ایسے چمٹے رہے جیسے بوڑھا شخص پرانی لحاف سے۔ اور نتیجہ؟ آج یہ حضرات نہ اقتدار میں ہیں، نہ مرکز میں، بس ایک کھٹیا پر آلتی پالتی مارے بیٹھے ہیں۔ کھٹیا بھی کوئی نئی نہیں، وہی صدیوں پرانی، جس کی رسیاں ڈھیلی اور پائے ٹیڑھے۔ اور اوپر سے یہ چاروں اپنے سر پر ہریانہ کی کھاپ پنچایت کے پردھانوں کا رعب سجائے بیٹھے ہیں، ایک ہاتھ ہمیشہ حقہ پر رکھے ہوئے۔ یوں لگتا ہے جیسے سیاست کا سب سے بڑا ہتھیار اب تقریر یا منشور نہیں بلکہ وہی دھوئیں سے بھرا حقہ ہے۔

دیکھنے والوں کو یہ منظر کسی مزاحیہ ڈرامے سے کم نہیں لگتا۔ وہ چاروں جن کی صلاحیتیں اپنی جگہ پر مسلّم تھیں—فاطمی کی خوش گفتاری، صدیقی کی خطابت، شکیل کی انگریزی اور فیاض کی نرمی—یہ سب مل کر ایک ایسا قافلہ بنا سکتے تھے جس کے پیچھے متھلا کا ہر قبیلہ اور ہر ذات چل پڑتا۔ مگر وہ سب قافلہ بنانے کے بجائے ایک ہی کھٹیا پر بیٹھ کر ایسے اشارے کرتے ہیں جیسے دنیا کی قسمت کا فیصلہ وہی سنانے والے ہوں۔

اس دوران مکیش سہنی جیسے دو فیصد آبادی والے لیڈر جلسوں میں گلابی واسکٹ پہن کر اسٹیج پر جگہ پاتے ہیں اور تیجسوی کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے رہتے ہیں۔ دوسری طرف یہ چار ستون جلسے میں سامنے کی قطار میں بیٹھ کر تالیاں بجاتے ہیں۔ اگر یہ طنز نہیں تو پھر کیا ہے کہ متھلا کے اصل بادشاہ سامعین بن گئے اور تالی بجانے کا فن ان کی سیاست کی معراج بن گیا۔

تصور کیجیے کہ اگر یہ چاروں واقعی ایک جماعت بنا لیتے تو کیا صورت ہوتی۔ جلسوں میں بینر اور پوسٹر کے بجائے کھٹیا بطور علامت رکھی جاتی۔ امیدوار اس پر بیٹھ کر تقریر کرتا اور مجمعے کے لوگ یہی سمجھتے کہ یہ لیڈر عوام کی سطح پر اتر آیا ہے۔ منشور کی گھن گرج نہیں، بلکہ کھٹیا کی سادگی ہی عوام کے دل جیت لیتی۔ اور حقہ؟ وہ تو پارٹی کا انتخابی نشان ہوتا—گڑگڑاتا ہوا دھواں، جو اس بات کی علامت بنتا کہ یہ قیادت نہ بکنے والی ہے، نہ جھکنے والی۔

اب کے حالات دیکھ لیجیے: یہ چاروں اپنی اپنی کرسی سے الگ ہو کر تیجسوی کی کرسی کو مضبوط کر رہے ہیں۔ اور ووٹر؟ وہ اب بھی بکھرا ہوا ہے، کبھی کسی کے وعدوں میں، کبھی کسی کی تقریر میں۔ حالانکہ اگر یہ چاروں ایک ہو کر کھڑے ہوتے تو آج بہار کی سیاست میں تیجسوی کا ذکر بھی ویسا ہوتا جیسے کسی اردو کے پرائمری اسکول میں انگریزی کے ٹیچر کا: بس کاغذی ضرورت کے لیے، ورنہ سب کام اردو سے چل جاتا۔

اصل المیہ یہ ہے کہ بہار میں لیڈر شپ کا معیار بلند نظری یا وژن نہیں، بلکہ شور ہے۔ جو جتنا زور سے چیخے، وہ اتنا ہی بڑا نیتا۔ مگر متھلا کا ووٹر ابھی بھی دل ہی دل میں جانتا ہے کہ لیڈر وہ ہے جو کھٹیا پر بیٹھ کر اس کے دکھ سنے، نہ کہ اسٹیج پر کھڑے ہو کر نعرے لگائے۔ اس پیمانے پر فاطمی، صدیقی، شکیل اور فیاض زیادہ موزوں تھے۔ کاش یہ بات ان کے اپنے دماغ میں بھی اتر جاتی۔

یقین جانیے، اگر یہ چاروں ایک ہو جاتے تو متھلا آنچل میں سیاست کا محور بدل جاتا۔ مسلمانوں کے ووٹ کو صحیح سمت ملتی، غیر مسلم ذاتیں بھی ساتھ آ جاتیں اور یہ چاروں آج بے چارے نہ ہوتے۔ یہ نہ تالیاں بجاتے، نہ جلسے کے کونے میں دبکے بیٹھے ہوتے۔ بلکہ ایک کھٹیا پر آلتی پالتی مارے بیٹھے، سر پر کھاپ پنچایت کے پردھان کی پگڑی سجائے، ایک ہاتھ حقہ پر رکھے، دوسرا ہاتھ عوام کے دکھوں کی طرف بڑھائے—یہی ان کی اصل تصویر ہوتی۔
مگر سیاست میں “کاش” کا مطلب وہی ہے جو بہار میں “ترقی” کا ہے: تقریر کے علاوہ کچھ نہیں۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین