Saturday, November 29, 2025
homeاہم خبریں’’گجرات کا ڈسٹربڈ ایریاز ایکٹ‘‘۔۔ مسلمانوں کو رہائش سے محروم کرنے والاقانون

’’گجرات کا ڈسٹربڈ ایریاز ایکٹ‘‘۔۔ مسلمانوں کو رہائش سے محروم کرنے والاقانون

ہندو مالک مکان سے گھر خریدنے والےمسلم خاندان کی بیٹی کو ہراساں کرکے خودکشی پر مجبور کیا گیا۔ خط میں نامزد پڑوسیوں کی گرفتاری نہیں ہوئی

غزالہ احمد

گجرات میںپندرہ سالہ مسلم لڑکی کی خودکشی کو 40دن گزر جانے کے باوجود اس کے خاندان کو نہ انصاف ملا ہے اور نہ ہی وہ اس گھر پر قبضہ لے سکے ہیں جو انہوں نے اپنی زندگی کی جمع پونجی سے خریدا تھا۔

احمد آباد کے گومتی پور علاقے کے رہائشی اس خاندان کا کہنا ہے کہ کرائے کے مکان کے سامنے نیا گھر خریدنے کا خواب ان کے لیے ڈراؤنا خواب بن گیا، جو ہراسانی، تشدد اور گجرات کے ڈسٹربڈ ایریاز ایکٹ جیسی بیوروکریٹک رکاوٹوں میں بدل گیا۔ ان کا الزام ہے کہ یہ قانون ان کے خلاف صرف اس لیے ہتھیار بنایا گیا کیوں کہ وہ مسلمان ہیں۔

تقریباً دس ماہ قبل اس خاندان نے اپنے ہندو پڑوسی سمن سوناوڈے سے مکان خریدا تھا۔ دسمبر 2024 تک پوری ادائیگی مکمل ہوگئی تھی۔ لیکن مکان حوالگی سے قبل ہی سوناوڈے کی موت ہوگئی۔ ان کے بیٹے دنیش، جو اسی مکان کی بالائی منزل پر رہتے ہیں، نے ڈسٹربڈ ایریاز ایکٹ کا حوالہ دے کر مکان دینے سے انکار کردیا، جو مخصوص علاقوں میں جائیداد کی خریدوفروخت کو محدود کرتا ہے۔

ایک سادہ ساسودا بہت جلد ایک تلخ تنازع میں بدل گیا، جس میں مقامی ہندوتوا گروپ بھی کود پڑے۔ خاندان کے مطابق معاملہ فرقہ وارانہ رنگ اختیار کرتا گیا اور انہیں مہینوں تک ہراسانی جھیلنی پڑی۔

7 اگست کو دنیش اور اس کے رشتہ داروں نے مبینہ طور پر ثانیہ اور اس کے چھوٹے بھائی پر حملہ کیا۔ دو دن بعد ثانیہ نے خودکشی کرلی اور ایک خط میں دنیش اور اس کے ساتھیوں کو نامزد کیا۔

اس نے اپنے نوٹ میں لکھا:
ان کی وجہ سے میرے گھر میں پچھلے دس ماہ سے کوئی خوشی نہیں ہے، صرف آنسو اور جھگڑے ہیں۔

بہن نے بتایا کہ ثانیہ کو مسلسل ذلیل کیا جاتا رہا۔ انہوں نے اس کے بال پکڑ کر گھسیٹا، مارا پیٹا اور میرے بھائی کو بھی ٹھوکر ماری۔ وہ کسی کے بچانے کا انتظار کرتی رہی، لیکن آخرکار خودکشی کرلی۔

اہل خانہ نے الزام لگایا کہ دنیش پانی پھینک کر، فحش اشارے کر کے اور چھوٹی بہن کا اسکول تک پیچھا کر کے ہراسانی کرتا تھا۔ ہم نے کھڑکیاں تک نہیں کھولیں، چاہے گھٹن ہی کیوں نہ ہو۔

ہر بار جب خاندان پولیس کے پاس شکایت لے کر گیا، تو انہیں اینٹی سوشیل ایکٹیویٹیز ایکٹ کے تحت مقدمے کی دھمکی دی گئی اور بتایا گیا کہ ڈسٹربڈ ایریاز ایکٹ کے تحت مکان کی خریدوفروخت کالعدم قرار دی جاسکتی ہے۔

ثانیہ کی موت کے بعد کئی ہفتوں تک پولیس نے ایف آئی آر درج کرنے میں ٹال مٹول کیا، حالانکہ خاندان نے سی سی ٹی وی فوٹیج اور خودکشی نوٹ پیش کیا۔ اب ایف آئی آر میں چھ افراد کے نام شامل ہیں جن پر کمسن کی خودکشی پر اکسانے اور ہراسانی کے الزامات ہیں۔ لیکن ابھی تک کوئی گرفتاری نہیں ہوئی۔

اس سانحے کے بیچ گجرات ڈسٹربڈ ایریاز ایکٹ 1991 ہے، جو خریدار اور فروخت کنندہ دونوں کو جائیداد کی خریدوفروخت سے پہلے کلکٹر کی پیشگی اجازت لینے کا پابند بناتا ہے۔ یہ قانون دراصل مسلمانوں کو فسادات کے دوران زبردستی کم قیمت پر گھر فروخت کرنے سے بچانے کے لیے بنایا گیا تھا، لیکن ناقدین کے مطابق اب یہ گھیٹوائزیشن (گھٹ بندی) کا آلہ بن گیا ہے۔

احمد آباد، وڈودرا اور سورت کے بڑے حصے دہائیوں سے ’’ڈسٹربڈ‘‘ نوٹیفکیشن کے تحت ہیں، حتیٰ کہ امن کے دنوں میں بھی۔ 2020 میں اس قانون میں ترمیم کر کے پراکسی سیلز کو جرم قرار دیا گیا اور حکومت کو مزید اختیارات دے دیے گئے۔

اقلیتی رابطہ کمیٹی کے کنوینر مجاہد نفیس کے مطابق’’خاندان اگر باہر جانا چاہے تو کلکٹر کی اجازت حاصل کرنا مہینوں لگاتا ہے اور اکثر بغیر وجہ بتائے انکار کردیا جاتا ہے۔یہ قانون مسلمانوں کو ہندو اکثریتی علاقوں میں مکان خریدنے سے روکتا ہے اور مذہبی علیحدگی کو مزید پختہ کرتا ہے۔ “یہ قانون غیر جانبداری کا بھرم پیدا کرتا ہے، لیکن اس کا اثر متعصبانہ ہے۔ یہ مسلمانوں سے کہتا ہے کہ اپنی جگہ پر ہی رہو۔

گومتی پور، جہاں یہ خاندان رہتا ہے، احمد آباد کا مسلم اکثریتی علاقہ ہے، جہاں تقریباً چار لاکھ مسلمان رہتے ہیں، لیکن یہ علاقہ بھیڑ بھاڑ، خراب نکاسی آب، ناکافی اسکولوں اور کمزور ڈھانچے سے دوچار ہے۔یہاں تک کہ جب مسلمان قانونی اجازت نامہ حاصل کر بھی لیتے ہیں، تو ہندوتوا گروپ دباؤ ڈال کر سودا منسوخ کروا دیتے ہیں۔

گجرات حکومت اس قانون کا دفاع کرتی ہے اور کہتی ہے کہ یہ امن و امان برقرار رکھنے اور آبادیاتی تبدیلی کو روکنے کے لیے ضروری ہے۔ لیکن انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ جواز دراصل علاحدگی کو جواز فراہم کرتا ہے اور انتہا پسند گروپوں کو محلوں کی نگرانی کا حوصلہ دیتا ہے۔

ایک مقامی کارکن نے کہاکہ ’’پندرہ سالہ بچی کی خودکشی کا یہ سانحہ اس قانون کے غلط استعمال پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے‘‘۔

اس نے الزام لگایا کہ کلکٹر سے این او سی (اجازت نامہ) حاصل کرنے کے عمل میں کرپشن عام ہوچکی ہے۔ این او سی دینے کے ریٹ طے ہیں، سب کو پتا ہے۔”

اس موت نے ہاؤسنگ رائٹس کارکنوں میں غصہ بھڑکا دیا ہے، جو اسے ادارہ جاتی علیحدگی کی انسانی قیمت قرار دے رہے ہیں۔

مجاہد نفیس نے کہاکہ قانون اقلیتوں کی حفاظت کے لیے ہوتے ہیں۔ لیکن گجرات میں اس قانون نے ایک نوجوان لڑکی کا خواب چھین لیا — اور آخرکار اس کی زندگی بھی۔انصارری خاندان اب بھی اپنے کرائے کے مکان میں رہ رہا ہے، بالکل سامنے وہ جائیداد کھڑی ہے جو انہوں نے خریدی لیکن کبھی داخل نہ ہو سکے۔

بہن نے روتے ہوئے کہا کہ ثانیہ اس نئے گھر میں جانے کے لیے بہت پرجوش تھی۔ وہ اپنے کمرے کو سجانے کے خواب دیکھتی تھی۔ لیکن اب وہ نہیں رہی۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین