انصاف نیوز آن لائن
بہار میںذات کی بنیادپرشناخت آج بھی سب سے اہم ہے اور زندگی کے بیشتر شعبوں پر ذات کی بنیادپر تفریق نظرآتا ہے۔آئی آئی ایم بنگلور کی حالیہ ایک مطالعہ میںانکشاف کیا ہے کہ اسکولوں میںزیر تعلیم طلبا کو بھی ذات کی بنیاد پراساتذ ہ کے ذریعہ سلوک کا سامنا کرنا پڑتاہے۔
نئی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بہار کے سرکاری اسکولوں کے اساتذہ اکثر اپنے طلباء کی کارکردگی کا غلط اندازہ لگاتے ہیں۔ یہ غلط اندازے ذات کے لحاظ سے نمایاں طور پر مختلف ہوتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق جب مختلف ذاتوں کے طلباء معیاری ٹسٹوںمیں یکساں نمبر لاتے ہیں۔ اساتذہ کے تاثرات اصل کارکردگی سے مطابقت نہیں رکھتے ہیں۔ پسماندہ ذاتوں کے طلباء صلاحیت و قابلیت کی بنیاد پر اساتذہ کے ذریعہ نمبر نہیںملتےہی۔
انگریزی اخبار دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق ’’ذات کی شناخت اور اساتذہ کے تعصب پر مبنی توقعات: بہار، انڈیا سے شواہد‘‘(Cast identity and teachers baised expectations :Evidence From India)کے عنوان سےیہ تحقیقاتی رپورٹ تیار کی گئی ہے۔ ہونے والا یہ مطالعہ، پبلک پالیسی کے چیئرپرسن سوہم ساہو اور اکنامکس کے چیئرپرسن رتویک بنرجی نے اس رپورٹ کو مرتب کیا ہے۔ رپورٹ میں بہار کے 105 سرکاری اسکولوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیاہے ۔ طلباء، اساتذہ، گھرانوں اور اسکولوں کے تفصیلی سروے سے جمع کیا گیا تھا۔
طلباء نے ریاضی، ہندی اور انگریزی کے معیاری مضمون وار ٹیسٹ دیے جن سے کلاس میں ان کی اصل تعلیمی رینکنگ کا تعین ہوا۔ اساتذہ سے الگ طور پر صرف اپنے تاثر کی بنیاد پر طلباء کو ٹاپ، مڈل یا باٹم گروپ میں رکھنے کو کہا گیا۔ ٹیسٹ پر مبنی رینکنگ اور استاد کی طرف سے دی گئی رینکنگ کے فرق کو محققین نے ’’ایویلیوایشن بائیس‘‘ (Evaluation Bias’)(تشخیصی تعصب) کا نام دیاگیا ہے۔
مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ اساتذہ کے تاثرات عموماً غلط ہوتے ہیں، لیکن جب ذات کا معاملہ آتا ہے تو یہ غلطیاں منظم اور یکطرفہ کی جاتی ہیں۔ خاص طور پر عام ذات (فارورڈ کاسٹ) کے اساتذہ پسماندہ ذات کے طلباء کو ان کی اصل کارکردگی سے کم نمبر دیتے ہیں، چاہے وہ ایک ہی کلاس روم میں پڑھ رہے ہوں اور ٹیسٹ میں یکساں نمبر لائے ہوں۔
پسماندہ ذات کے طلباء، بالخصوص ایس سی اور ایس ٹی گروپ کے طلباء کو جب عام ذات کا استاد پڑھاتے ہیں تو انہیں اصل رینکنگ سے0 .22سے 0.43کم نمبر ملتے ہیں۔ تینوں مضامین میں پسماندہ ذات کے طلباء کو 17 سے 27 فیصد زیادہ امکان ہوتا ہے کہ ان کی صلاحیت سے کم نمبر دیا جائے۔پسماندہ ذات کو او بی سی اور ایس سی/ایس ٹی میں تقسیم کیا گیا تو پتہ چلا کہ یہ فرق بنیادی طور پر ایس سی/ایس ٹی طلباء کے مقابلے عام ذات کے طلباء کے ساتھ زیادہ ہے۔
محققین زور دیتے ہیں کہ یہ ذات پر مبنی تشخیصی فرق اصل تعلیمی کارکردگی کی وجہ سے نہیں ہے۔ تمام ذاتوں کے طلباء معیاری ٹیسٹوں میں تقریباً یکساں نمبر لاتے ہیں۔ فرق اساتذہ کے غلط سوچ اور تاثرات کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے، نہ کہ صلاحیت کے حقیقی فرق کی وجہ سے۔
مطالعہ نے دیگر ممکنہ وجوہات جیسے کلاس کا سائز، پسماندہ ذات کے طلباء کی کم حاضری (جب عام ذات کا استاد ہو)، یا استاد کی عمر اور تجربہ وغیرہ کا بھی جائزہ لیا اور پایا کہ یہ عوامل اس فرق کی وضاحت نہیں کرتے۔
مصنفین کہتے ہیں کہ ایسے غلط اندازے طویل مدتی نتائج دے سکتے ہیں۔ اگر اساتذہ مسلسل پسماندہ ذات کے طلباء سے کم توقعات رکھیں گے تو یہ کلاس روم کے تعاملات، طلباء کے اعتماد اور حوصلے پر اثر انداز ہوگا اور بالآخر تعلیمی خلیج کو مزید وسیع کر دے گا۔ یہ پیگمیلیئن ایفیکٹ سے مطابقت رکھتا ہے جس کے مطابق اساتذہ کی توقعات طلباء کی کارکردگی کو تشکیل دیتی ہیں۔
یہ مطالعہ گریڈنگ میں امتیازی سلوک پر ہونے والی پچھلی تحقیق کو آگے بڑھاتا ہے لیکن توجہ گریڈ دینے سے پہلے اساتذہ کی سوچ پر مرکوز کرتا ہے۔ محققین کہتے ہیں کہ تعصب پر مبنی توقعات کو درست کرنے کے لیے ذات سے متعلق حساسیت بڑھانے کے پروگرام اور سادہ فیڈبیک میکانزم ضروری ہیں جو اساتذہ کو بتائیں کہ ان کا تاثر طالب علم کی اصل کارکردگی سے مطابقت نہیں رکھتے ہیں۔
