بھوپال: انصاف نیوز آن لائن
جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نےعدالتوںکے فیصلے اور طریقے کارپر سوالات کھڑے کرتے ہوئے کہا کہ اگر سپریم کورٹ انصاف فراہم نہیںکرتی ہے تو اسے اخلاقی طور پر سپریم کورٹ کہلائے جانے کا حق نہیںہے ۔انہوںنے کہا ملک کی موجودہ صورت حال انتہائی حساس اور فکر انگیز ہے۔مولانا مدنی نے اس موقع پر عدلیہ کے کردارپر بھی سوال اٹھا یا اور کہا کہ سپریم کورٹ اس وقت تک ہی سپریم کہلانے کا مستحق ہے جب تک آئین کی پابندی کرے ،قانون کے حقوق کا خیال رکھے ، اگر ایسا نہ کرے تو وہ اخلاقی طور پر سپریم کہلانے کا حق دار نہیں ۔
مولانامدنی نے واضح کیا کہ اس وقت ملک میںایک خاص طبقے کی بالادستی اور دوسرے طبقوں کوقانونی طور پر بے بس ، سماجی طور پر علاحدہ اور معاشی طور پر بے عزت ، رسوااورمحروم بنانے کےلیے معاشی بائیکاٹ،بلڈوزرایکشن،ماب لنچنگ،مسلم اوقاف کی سبوتاژی، دینی مدارس اور اسلامی شعائر کے خلاف منفی مہم کی باقاعدہ اور منظم کوششیں کی جا رہی ہیں۔
مولانا مدنی نے تبدیلی مذہب مخالف قانون کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے آئین نے ہمیں اپنے مذہب پر چلنے اور اس کی تبلیغ کی اجازت دی ہے ۔لیکن اس قانون میں ترمیم کے ذریعہ اس بنیادی حق کو ختم کیا جارہا ہے ۔اس قانون کو اس طرح استعمال کیا جارہا ہے کہ مذہب کی تبلیغ کا عمل جرم اور سزا کا سبب بن جائے۔دوسری طرف’ گھر واپسی کے نام پر‘ ہندو دھرم میں شامل کرنے والوں کو کھلی چھوٹ حاصل ہے۔ان پر کوئی سوال نہیں اٹھایا جاتا، نہ قانونی کارروائی ہوتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ایک خاص مذہبی سمت کی طرف سماج کو دھکیلا جارہا ہے۔
مولانا مدنی نے ’’لو جہاد‘‘ جیسے من گھڑت فتنے پر شدید ناراضی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اسلام دشمن عناصر نے جہاد جیسی مقدس دینی اصطلاح کو گالی اور تشدد کا ہم معنی بنا دیا ہے، اور لو جہاد، لینڈ جہاد، تعلیم جہاد، تھوک جہاد جیسے جملوں کے ذریعے مسلمانوں کو بدنام اور ان کے مذہب کی توہین کی جارہی ہے۔ افسوس کہ حکومت اور میڈیا کے بعض ذمہ دار بھی ایسے الفاظ کے استعمال سے گریز نہیں کرتے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلام میں جہاد ایک مقدس فریضہ ہے، جس کا مقصد ظلم کا خاتمہ، انسانیت کی حفاظت اور امن کا قیام ہے، اور قتال کی صورت بھی ظلم و فساد روکنے کے لیے ہی مشروع ہے۔ مگر یہ بات ہمیشہ پیش نظر رہنی چاہیے کہ جہاد کوئی انفرادی یا نجی اقدام نہیں، بلکہ صرف ایک بااختیار اور منظم ریاست ہی شرعی اصولوں کے مطابق اس کا فیصلہ کرسکتی ہے۔
ہندوستان ایک جمہوری و سیکولر ملک ہے جہاں اسلامی ریاست کا تصور موجود نہیں، اس لیے یہاں جہاد کے نام پر کوئی بحث ہی نہیں۔ مسلمان آئینی طور پر پابند ہیں اور حکومت شہری حقوق کے تحفظ کی ذمہ دار ہے۔ مولانا مدنی نے واضح کیا کہ اسلام کے نزدیک ’’جہادِ اکبر‘‘ انسان کے اندر کی برائی، حرص، لالچ، غصے اور نفس کی بغاوت سے لڑنے کا نام ہے، جو ہر زمانے میں سب سے بڑی جدوجہد ہے۔
مولانا مدنی نے گرو تیغ بہادر کی ۳۵۰ ویں شہادت دیوس کے موقع پر یک جہتی کا اظہار کیا اور کہا کہمغل دور میں گرو صاحب کے کم سن صاحبزادگان کا قتل ظلم و ناانصافی پر مبنی تھا۔ یہ سانحہ ہماری اجتماعی اخلاقی قدروں اور انصاف کے اصولوں سے کسی طرح میل نہیں کھاتا۔اسی کے ساتھ یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ مغلوں کی حکومت کو اسلامی حکومت قرار دینا تاریخی حقائق کے منافی ہے۔ مغل دورِ حکومت میں جو جنگیں ہوئیں، وہ مذہبی بنیادوں پر نہیں بلکہ زیادہ تر سیاسی اقتدار سے متعلق تھیں۔ انہوں نے جہاں غیر مسلموں، سکھوں اور مختلف مقامی طاقتوں کے ساتھ لڑائیاں لڑیں، وہیں خود مسلم حکمرانوں کے ساتھ بھی سخت معرکے کیے اور انہیں سزائیں بھی دیں۔
مولا مدنی نے نوجوانوں کے بارے میں کہا کہ نوجوان کسی بھی قوم کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں، اس لیے ان کی سوچ اور طرزِ عمل قوم کے مستقبل کی سمت متعین کرتے ہیں۔ اگر واقعی ہمیں اپنے مستقبل کی مضبوط تعمیر کرنی ہے، تو نوجوانوں کو انفرادیت کے دائرے سے نکال کر اجتماعیت اور ٹیم ورک کے میدان میں لانا ہوگا۔
