ڈاکٹر محمد فاروق
آئندہ20 دسمبر 2025ہفتہ کے روزدہلی میں ایک ایسا ”تاریخی مناظرہ“(ڈیبیٹ) منعقد ہونے جا رہا ہے جو بقول معلنین الاسلام یعلو ولا یعلیٰ علیہ (اسلام غالب ہوگا اور اس پر غالب نہ ہوا جائے گا)کا نظارہ دکھائے گا۔ ایک طرف مفتی شمائل احمد عبداللہ ندوی ہوں گے اور دوسری طرف بالی ووڈ کے معروف نغمہ نگار اور بظاہر ملحدانہ سوچ کے حامل جاوید اختر ہوں گے۔ مناظرہ کاموضوع وجود باری تعالیٰ ہوگا۔
بظاہر یہ علم و عقل کا ایک سنگین مقابلہ ہے مگرمیری نظر میں یہ ایک اور بڑا ڈرامہ‘ایک مہین تماشہ اور علمی دیوالیہ پن کا ایک افسوسناک اظہار ہے۔کیااس مناظرہ میں کوئی ایسا فکری معرکہ ممکن ہے جوصدیوں سے طے شدہ امور پر کوئی نئی روشنی ڈال دے گا؟ ایک مُسلّم عقیدے کو ایک فلمی نغمہ نگار کے سامنے تختہ مشق بنا دینا کس غیرت مند دانش کا تقاضا ہے؟
اس طرح کی بے نتیجہ فکری موشگافیوں کی ایک تلخ اور پوری تاریخ ہے‘جس کا سبق مسلمان بھلا چکے ہیں۔ مسلمانوں کے زوال کی ایک بڑی وجہ یہی علم کلام کی موشگافیاں‘کائنات کے اسرار کے کھوجنے کی بجائے وجود خدا اورصفات باری کی لایعنی بحثیں تھیں۔ ہم شاید بھول چکے ہیں کہ وہ وقت جب دنیا اختراعات‘ نئی ایجادات‘ ریاضی‘ طب اور فلکیات کی بلندیاں چھو رہی تھی‘ہمارے علما و فقہا اسی علم کلام کی بھول بھلیوں میں کھو کر باہَم ایک دوسرے پرکفر کے فتوے لگاتے رہے۔ معتزلہ‘اشاعرہ‘ ماتریدیہ اور دیگر فرقوں کی فلسفیانہ بحثوں نے امت کے قلب و ذہن کو ایسا منتشر کیا کہ ہم علمی‘سیاسی اور عسکری محاذ پر پسپا ہوتے چلے گئے۔
یہی وہ فکری عیش پرستی تھی جس نے ہمیں ایک عمل پسند قوم سے ایک محض ’مناظرہ باز‘ قوم میں بدل دیا۔آج جب سائنس اور ٹیکنالوجی کی دنیا ایک نئے انقلاب سے گزر رہی ہے‘ ہم پھر ایک ایسے موضوع پر لائیو ڈیبیٹ کا ڈھنڈھورا پیٹ رہے ہیں جس کاآفاقی فیصلہ تو چودہ سو سال پہلے ہو چکاہے۔
میری نظر میں اس پورے عمل کا واحد اور اصل محرک علم و حکمت کی پیاس نہیں‘بلکہ دنیاوی نفع اور مادی چمک ہے۔ یہ محض ایک تماشہ ہے جس کا واحد فائدہ متعلقہ فریقین کے یوٹیوب چینلز‘ ویوز‘ سبسکرائبرز اور اشتہارات کی آمدنی تک محدود ہے۔
یہ مناظرہ مفتی صاحب کے چینل پر براہ راست نشر کیا جائے گا۔ اس سے کیا ہوگا؟ لاکھوں ویوز کا سیلاب جو چینل کی مانیٹائزیشن (Monetization) کیلئے سونے کا نوالہ ہے۔ہزاروں نئے سبسکرائبرزجو آئندہ آنے والی ہر ویڈیو کی آمدنی کا مستقل ذریعہ بنیں گے۔مناظرہ کے بعد ویڈیو کلپس کی بھرمار جن سے بار بار آمدنی میں زبردست اضافہ ہوگا۔ مفتی صاحب کیلئے یہ شہرت کا ایک نیا دھماکہ ثابت ہوگا۔
ادھرجاوید اختر صاحب کویہ مناظرہ ایک بار پھر میڈیا کی ہیڈلائنز میں جگہ دے گا۔ وہ اپنے لبرل اور ملحدانہ نظریات کی وجہ سے ”سیکولر ہیرو“کا ایک اور تمغہ سینے پر سجائیں گے اور ٹیلی ویژن کے ٹاک شوز میں ان کی طلب بڑھ جائے گی۔
نیزانتہائی حساس مذہبی موضوع پر ہونے والے اس ہائی پروفائل ڈیبیٹ کو ماڈریٹ کرنا‘ماڈریٹر ابھیسار شرما کوبھی اپنا نام چمکانے کا ایک نادر موقع فراہم کرے گا۔
اور عام مسلمان؟
سب سے اہم سوال یہ ہے کہ عام مسلمان عوام کو اس تماشے سے کیا ملے گا؟
ایمان والے کا ایمان تو پہلے سے موجود ہے‘اسے کسی مناظرہ کی ضرورت نہیں۔ اس کا ایمان تو وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِیَعْبُدُونِ (الذاریات: 56) کی لازوال سچائی پر قائم ہے۔جوکمزور ایمان والا ہے وہ بھی اس مناظرہ سے کچھ نہیں سیکھے گا بلکہ وہ پہلے سے ڈر رہا ہوگا کہ کہیں جاوید صاحب کی بات دل میں نہ اتر جائے اور جوبے دین ہے وہ تو ویسے بھی ہنستا ہوا نکلے گا کہ دیکھو مولوی ہار گئے یا ملا لاجواب ہوگیا۔
حقیقت یہ ہے کہ اس مناظرہ کا مقصد کسی بھی کمزور ایمان والے کو بچانا نہیں بلکہ یوٹیوب کے ویوز کا اعداد و شمار بڑھانا ہے۔شرائط کی وہ طویل فہرست جو سامنے آئی ہے بذات خود یہ چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ یہ علمی استدلال نہیں ٹی آر پی (TRP) کا کھیل ہے۔ جاوید اختر کی طرف سے جمعیۃ علما کی مذمت کی شرط بظاہر غیر ضروری تھی‘مگرمفتی صاحب کا رد عمل بھی دلچسپ ہے کہ شدت پسندی کی مذمت کی جا سکتی ہے‘مگر کسی پوری تنظیم کو نشانہ بنانا قبول نہیں۔ یہ سیاسی گھاتیں اور شکار کی نیتیں اس مناظرہ کے علمی تقدس کو پہلے ہی پارہ پارہ کر چکی ہیں۔ عام پبلک کو سامعین میں شامل نہ کرنے کی شرط بھی‘دراصل حقیقی احتساب سے فرار اور ایک طے شدہ اسکرپٹ کو کامیابی سے انجام دینے کی چال ہے۔
یہ وقت بحث و مباحثہ کا نہیں‘علم و عمل کو اپنانے کا ہے۔ ضرورت ہے کہ ہماری علمی روش کلامِ قدیم کی فلسفیانہ بحثوں سے نکل کر سائنسی اور ٹیکنالوجیکل استحکام کی طرف مڑے۔ اس سرکس کے شگوفے کو وہ توجہ نہ دیں جس کا یہ حقدار نہیں ہے۔کیا یہ بہتر نہیں کہ ہم ایسے تمام مناظروں کو رد کر دیں اور اپنی توانائیاں حقیقی علمی ترقی میں صرف کریں؟
