Tuesday, January 13, 2026
homeاہم خبریںنتیش کمار کی جانب سے حجاب ہٹانے کی کوشش: خاتون مسلم ڈاکٹر...

نتیش کمار کی جانب سے حجاب ہٹانے کی کوشش: خاتون مسلم ڈاکٹر نے سرکاری ملازمت نہ لینے کا فیصلہ کر لیا

پٹنہ/کلکتہ:
یونانی ڈاکٹر نصرت پروین، جن کے چہرے سے بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے مبینہ طور پر حجاب ہٹانے کی کوشش کی تھی، نے اس واقعے سے دل برداشتہ ہو کر حکومتِ بہار کی ملازمت اختیار نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انگریزی ویب سائٹ ’’ای نیوز روم‘‘ کے ایڈیٹر شاہنواز اختر سے بات کرتے ہوئے نصرت پروین کے بھائی—جو کلکتہ کی ایک سرکاری لا یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں—نے بتایا کہ ’’وہ ملازمت میں شمولیت نہ کرنے کے فیصلے پر قائم ہیں۔ تاہم، پورا خاندان، بشمول میں، انہیں قائل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ہم ان سے کہہ رہے ہیں کہ یہ کسی اور کی غلطی ہے، تو وہ اس کی وجہ سے خود کو برا کیوں محسوس کر رہی ہیں اور نقصان کیوں اٹھائیں۔‘‘

نصرت پروین کو 20 دسمبر تک ملازمت میں شمولیت اختیار کرنی ہے۔ ان کے شوہر ایک کالج میں کلینیکل سائیکالوجسٹ ہیں۔

راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) نے سب سے پہلے اس پورے واقعے کی ویڈیو شیئر کر کے نتیش کمار کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
آر جے ڈی کے سرکاری ایکس (سابق ٹوئٹر) ہینڈل سے ویڈیو کلپ شیئر کیے جانے کے بعد یہ تیزی سے وائرل ہو گئی۔ بڑی تعداد میں سماجی کارکنوں اور بالخصوص خواتین صارفین نے بہار کے وزیر اعلیٰ کے اس عمل کو نامناسب قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کی۔

آر جے ڈی کی پوسٹ میں لکھا گیا تھا:

’’یہ نتیش جی کو کیا ہو گیا ہے؟
کیا ان کی ذہنی حالت انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے،
یا نتیش بابو اب سو فیصد سنگھی ہو گئے ہیں؟‘‘

دو دن سے زائد وقت گزر جانے کے باوجود نہ تو نتیش کمار، نہ ان کی جماعت، اور نہ ہی حکومتِ بہار کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان سامنے آیا ہے۔

سابق بالی ووڈ اداکارہ زائرہ وسیم نے بھی ایکس پر شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سے غیر مشروط معافی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے لکھا:

> ’’ایک عورت کی عزت و حیا کھلونا نہیں ہے—خاص طور پر عوامی اسٹیج پر۔
> ایک مسلم خاتون کی حیثیت سے، کسی دوسری خاتون کا نقاب اس قدر لاپرواہی سے کھینچا جانا، اور وہ بے فکری کی مسکراہٹ، انتہائی اشتعال انگیز ہے۔
> طاقت حدود کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دیتی۔‘‘

تنازع کے دوران، بہار کے محکمۂ صحت نے بدھ کے روز ان دعوؤں کو مسترد کر دیا کہ خاتون ڈاکٹر نے دباؤ کے باعث اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے سے انکار کر دیا ہے۔ محکمۂ صحت کے ایک افسر نے بتایا کہ نہ تو خاتون ڈاکٹر اور نہ ہی ان کے اہلِ خانہ کی جانب سے تقرری سے انکار سے متعلق کوئی تحریری اطلاع دی گئی ہے۔

جے ڈی (یو) کے چیف ترجمان نیرج کمار نے واقعے کو کم اہمیت دیتے ہوئے کہا کہ ایک مختصر لمحے کو غیر ضروری طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق،

’’وزیر اعلیٰ محض آیوش ڈاکٹر کی شناخت جاننے کی کوشش کر رہے تھے۔ اب اس معاملے کو سیاسی اور مذہبی رنگ دیا جا رہا ہے۔ خواتین کے اختیارات اور اقلیتی فلاح و بہبود کے لیے نتیش کمار کے اقدامات کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔‘‘

منگل کے روز ریاست کی اپوزیشن جماعتوں، جن میں راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) اور کانگریس شامل ہیں، نے مبینہ ویڈیو کلپ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر کرتے ہوئے اسے وزیر اعلیٰ کی ’’غیر مستحکم ذہنی حالت‘‘ کا ثبوت قرار دیا۔

جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بدھ کو ایک تقریب کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اپنے بہار کے ہم منصب پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا:
’’ہم یہ سب پہلے بھی دیکھ چکے ہیں۔ کیا آپ کو یاد نہیں کہ کس طرح محبوبہ مفتی نے ایک جائز ووٹر کا برقعہ پولنگ اسٹیشن کے اندر ہٹایا تھا؟ وہ واقعہ بھی افسوسناک تھا اور یہ بھی افسوسناک ہے۔ پہلے نتیش کمار کو ایک سیکولر رہنما سمجھا جاتا تھا، اب ان کا اصل چہرہ سامنے آ رہا ہے۔‘‘

شیو سینا (یو بی ٹی) کے رہنما اور رکن اسمبلی آدتیہ ٹھاکرے نے ایکس پر لکھا:
’’چاہے حجاب ہو، گھونگھٹ ہو، فیس ماسک ہو یا خاتون جو کچھ بھی پہنے ہوئے ہو، کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اسے چھوئے، اتارے یا زبردستی پہنائے۔‘‘

حیدرآباد سے سماجی کارکن لبنیٰ سروتھ، شہری حقوق کی کارکن نکہت فاطمہ اور دو دیگر افراد نے قومی کمیشن برائے خواتین (این سی ڈبلیو) کی چیئرپرسن وجیا کے راحتکر کو خط لکھ کر اس واقعے پر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین