ووٹر کے نام کے ہجے میں معمولی فرق ہونے پر بھی نام خارج کر دیا جا رہا ہے، ممتا کا الزام
الیکشن کمیشن کے دفتر میں بی جے پی کے ایجنٹ بٹھائے جانے کا بھی دعویٰ۔
کلکتہ : انصاف نیوز آن لائن
مغربی بنگال میں ووٹر لسٹ کی مسودہ فہرست کو لے کر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے الیکشن کمیشن پر ایک بار پھرسخت حملہ کیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کمیشن کے دفتر سے بی جے پی کے ایجنٹ من مانی طور پر ووٹروں کے نام خارج کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال کے ذریعے ووٹر لسٹ میں ہیرا پھیری کی جا سکتی ہے۔
ریاست میں ووٹر لسٹ کی مسودہ اشاعت کے بعد خصوصی جامع نظرثانی (SIR) کے دوسرے مرحلے کا آغاز ہو چکا ہے۔ الیکشن کمیشن نے سماعت کے لیے ووٹروں کو نوٹس بھیجنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ اسی پس منظر میں پیر کو کلکتہ کے نیتا جی انڈور اسٹیڈیم میں ممتا بنرجی نے پارٹی کے بی ایل ایز کے ساتھ میٹنگ کی اور وہیں سے بی جے پی اور الیکشن کمیشن کی مبینہ ملی بھگت پر شدید تنقید کی۔
وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے کہاکہ’’ہر روز صبح بی جے پی کے دفتر سے جو ہدایات آتی ہیں، اسی کے مطابق تبدیلیاں کی جا رہی ہیں۔ میں نے سنا ہے کہ الیکشن کمیشن کے دفتر میں بی جے پی نے ایک ایجنٹ بٹھا رکھا ہے، جو آن لائن جس کا دل چاہتا ہے، اس کا نام خارج کر دیتا ہے۔ پوری فہرست بی جے پی کے لوگ تیار کر رہے ہیں۔ ایسا بے شرم کمیشن میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا ہے اور نہ دیکھنا چاہتی ہوں۔
اس سال ریاست میں ایس آئی آر کے کام کے لیے الیکشن کمیشن مصنوعی ذہانت کا سہارا لے رہا ہے۔ مگر ممتا بنرجی نے اندیشہ ظاہر کیا کہ اسی ٹیکنالوجی کے ذریعے ووٹر لسٹ میں گڑبڑی کی جا سکتی ہے۔ پارٹی کے بی ایل ایز کو ہدایات دیتے ہوئے ممتا نے کہاکہ فرض کریں میرا نام ممتا بنرجی ہے۔ جب میں ووٹ دینے گئی تو دیکھا کہ اے آئی میں ایک اور ممتا بنرجی کا نام ڈال دیا گیا ہے۔ یعنی میں ووٹ نہیں دے سکی اور ووٹ کسی اور کے نام پر چلا گیا۔ ذرا سوچ سمجھ کر کام کیجیے۔
ممتا بنرجی نے پہلے بھی الزام لگایا تھا کہ ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی عجلت اور بغیر منصوبہ بندی کے کی جا رہی ہے۔ پیر کو ایک بار پھر انہوں نے کہا کہ یہ پورا عمل صرف بی جے پی کے کہنے پر کیا جا رہا ہے۔ بی جے پی اور الیکشن کمیشن کو ایک ہی خانے میں رکھتے ہوئے ممتا نے کہاکہ ’تم چاہے جتنی سازشیں کر لو، کچھ نہیں بگاڑ سکو گے۔”
حالیہ مسودہ فہرست میں پہلے ہی بڑی تعداد میں ووٹروں کے نام خارج ہو چکے ہیں۔ ممتا نے بی جے پی کو نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ “اب کہا جا رہا ہے کہ مزید ڈیڑھ کروڑ نام خارج کیے جائیں گے، یہ بی جے پی کے لوگوں کی فرمائش ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ ووٹروں کے نام کے ہجے میں معمولی فرق، حلقہ بندی کی وجہ سے پتے میں تبدیلی، شادی کے بعد خواتین کے نام یا کنیت بدلنے جیسے معاملات کو نظرانداز کر کے نام خارج کیے جا رہے ہیں۔ بنگلہ اور انگریزی میں نام کے ہجوں کے فرق کی وجہ سے بھی ووٹروں کے نام کاٹے جا رہے ہیں۔ ممتا کا دعویٰ ہے کہ اس طرح کی غلطیوں کی وجہ سے ایک شخص نے خودکشی بھی کر لی ہے۔
الیکشن کمیشن کو بی جے پی کا “کٹھ پتلی” قرار دیتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا کہ کمیشن کے کام میں ہم آہنگی کا شدید فقدان ہے اور بی ایل او ایپ میں بار بار ہدایات بدلنے سے کام میں خلل پڑ رہا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ 22 سے 24 مرتبہ ہدایات بدلی جا چکی ہیں۔
مرکزی سرکاری افسران کی تعیناتی پر بھی ممتا نے سوال اٹھائے اور کہا کہ ریاستی حکومت سے اجازت لیے بغیر یہ سب کیا جا رہا ہے، جو غیر قانونی ہے۔
انہوں نے سی پی آئی ایم پر بھی الزام لگایا کہ 2002 میں بائیں محاذ کی حکومت کے دوران بڑی تعداد میں ووٹروں کے نام خارج کیے گئے تھے اور اب وہ بی جے پی کی مدد کر رہی ہے۔
ممتا نے پارٹی کے بی ایل ایز کو ہدایت دی کہ وہ گھر گھر جا کر مردہ، منتقل شدہ یا غائب ووٹروں کی فہرست کی جانچ کریں، اور اگر کوئی ووٹر حقیقت میں موجود ہو تو اس کا نام دوبارہ درج کرانے کے لیے فارم 6 اور اینکسچر 4 جمع کروائیں۔جن ووٹروں کو “ان میپڈ” قرار دیا گیا ہے، انہیں نوٹس ملا یا نہیں، اس کی بھی جانچ کی ہدایت دی گئی۔
جلسے کے دوران اچانک مائک میں خرابی پیدا ہو گئی، جس پر ممتا نے سازش کا شبہ ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ بار بار مائک کا خراب ہونا معمولی بات نہیں اور اس پر وہ کارروائی کریں گی۔
