کلکتہ : انصاف نیوز آن لائن
مرشدآباد میں بابری مسجد کی طرز پر ایک مسجد کی بنیاد رکھنے کے چند دن بعد ترنمول کانگریس کے معطل ممبر اسمبلی ہمایوں کبیرنے آجاپنی نئی سیاسی جماعت ’’جنتا اُننّین پارٹی‘‘ کے قیام کا اعلان کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اگلے سال ہونے والے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں ان کی پارٹی ریاست کی 294 میں سے تقریباً 200 اسمبلی نشستوں پر امیدوار کھڑا کرے گی۔
مرشدآباد میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ہمایوںکبیر نے اعلان کیا کہ وہ ضلع مرشدآباد کے بیل ڈانگا اور ریجن نگر اسمبلی نشستوں سے خود الیکشن لڑیں گے۔ انہوں نے مزید کئی حلقوں کے امیدواروں کے نام بھی اعلان کیے
، جن میں بھگوان گولا (مرشدآباد)بشن ناب نگر (مالدہ)ہری رام پور (جنوبی دیناج پور)، مرشدآباد (مرشدآباد)، بالی گنج (کولکاتا) اور رام پورہاٹ (بیر بھوم) شامل ہیں۔
ہمایوںکبیر نے کہاکہ میں بیل ڈانگا اور ریجن نگر دونوں نشستوں سے الیکشن لڑوں گا اور دونوں پر جیت حاصل کروں گا۔ مرشدآباد میں کل 22 اسمبلی نشستیں ہیں۔ میں مرشدآباد میں ترنمول کانگریس کو صفر کر دوں گا۔ اس ضلع میں ترنمول کانگریس ایک بھی سیٹ نہیں جیت پائے گی۔ بی جے پی شاید اپنی دولت کی طاقت کے زور پر ایک یا دو نشستیں جیت لے۔
ہمایوں کبیر اس وقت بھرت پوراسمبلی حلقے سےممبر اسمبلی ہیں۔
انہوں نے مزید کہاکہ ہم مغربی بنگال میں بی جے پی اور ترنمول کانگریس دونوں کے خلاف لڑیں گے۔ اسمبلی انتخابات میں ترنمول کانگریس کو زبردست جھٹکا دیں گے۔ ہم اکیلے لڑنے کے لیے بھی تیار ہیں، لیکن ریاست میں ہم خیال جماعتوں کے ساتھ اتحاد کے لیے بھی دروازے کھلے ہیں۔
وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی تنقید کرتے ہوئے کبیر نے کہا کہ جب میں 2012 میں کانگریس چھوڑ کر ٹی ایم سی میں شامل ہوا تھا تو میں نے ممتا بنرجی سے ملاقات کی تھی۔ اس وقت میری کوئی شرط نہیں تھی۔ میں وزیر بننا نہیں چاہتا تھا۔ لیکن اُس وقت کی ممتا بنرجی اور آج کی ممتا بنرجی میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ انہوں نے مجھے غدار کہا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کو دھوکہ دیا ہے۔ میں انہیں کسی بھی ٹی وی چینل پر مباحثے کا چیلنج دیتا ہوں۔ اب تک انہوں نے مسلمانوں کو صرف زبانی تسلیاں اور وعظ دیے ہیں، کوئی ٹھوس کام نہیں کیا۔
کبیر نے کہا کہ وہ جنوری میں کلکتہ کے بریگیڈ پریڈ گراؤنڈ میں ایک بڑا جلسہ کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ “میں ابھی تاریخ نہیں بتا رہا ہوں، لیکن جنوری میں ہی کلکتہ کے بریگیڈ پریڈ گراؤنڈ میں ہماری ایک عوامی میٹنگ ہوگی۔ اس دن میں دکھاؤں گا کہ ہمارے ساتھ کتنے لوگ ہیں
انہوں نے حزبِ اختلاف کے لیڈر سوبھندو ادھیکاری کو بھی نشانہ بنایا اور کہاکہ حزبِ اختلاف کے لیڈر (سوبھندو ادھیکاری) نے کہا تھا کہ وہ مسلم ممبراسمبلی کو باہر نکال دیں گے۔ 294 میں سے ہم کتنی سیٹوں پر لڑیں گے، یہ وقت بتائے گا۔ ممکن ہے ہم 200 سیٹوں پر امیدوار کھڑے کریں، جن میں سے 100 جیت سکتے ہیں — ان میں 70 مسلم اور 30 ہندو امیدوار ہوں گے۔ پھر ہم اسمبلی کی طرف مارچ کریں گے۔
