Tuesday, January 13, 2026
homeاہم خبریںہجومی تشدد میں ہلاک محمد اخلاق قتل کیس میں الزامات واپس لینے...

ہجومی تشدد میں ہلاک محمد اخلاق قتل کیس میں الزامات واپس لینے کی یوپی حکومت کی درخواست مسترد–عدالت نے اس معاملے کی تیزی سے سماعت کرنے کی ہدایت دی

لکھنو : انصاف نیوز آن لائن

اتر پردیش حکومت کو ایک بڑا جھٹکا دیتے ہوئے سورج پور کی ایک عدالت نے منگل کو 2015 میں ہجومی تشدد میںمحمد اخلاق کے معاملے میں ملزمان کے خلاف تمام الزامات واپس لینے کی ریاستی حکومت کی درخواست مسترد کر دی۔ عدالت نےدرخواست مسترد کرتے ہوئے کیس کی تیز رفتااور روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرنے کی ہدایت دی ۔

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج سوربھ ترویدی نے پولیس کمشنر گوتم بدھ نگر اور ڈپٹی کمشنر گریٹر نوئیڈا کو خط لکھ کر شواہد کے مکمل تحفظ کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت دی۔ عدالت نے کہا کہ تمام قسم کے ثبوتوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔

عدالت نے مزید ہدایت دی کہ اس معاملے کو “انتہائی اہم” زمرے میں رکھا جائے اور اس کی روزانہ سماعت کی جائے۔ استغاثہ کو بھی حکم دیا گیا کہ وہ جلد از جلد شواہد ریکارڈ کرائے۔

اس کیس کی اگلی سماعت 6 جنوری کو ہوگی۔

واضح رہے کہ 50 سالہ محمد اخلاق کو دادری کے بسادا گاؤں میں مبینہ طور پر گائے کے ذبیحہ اور گھر میں گوشت رکھنے کی افواہوں کے بعد ایک ہجوم نے پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا تھا۔

15 اکتوبر 2015 کو گاؤں کے مندر سے اعلان کیا گیا کہ اخلاق نے گائے ذبح کیاہے۔اس کے بعد ایک ہجوم ان کے گھر کے باہر جمع ہو گیا۔ اخلاق اور ان کے بیٹے دانش، جو بیچ بچاؤ کے لیے آگے آئے، کو گھر سے گھسیٹ کر باہر نکالا گیا اور اس وقت تک تشدد کا نشانہ بنایا گیا جب تک وہ بے ہوش نہیں ہو گئے۔ اخلاق بعد میں نوئیڈا کے ایک اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسے، جبکہ دانش شدید سر کی چوٹوں اور بڑی سرجری کے بعد بچ گئے۔

28 ستمبر 2015 کو درج اس معاملے میں، اخلاق کی اہلیہ اکرامن کی شکایت پر جارچہ تھانے میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی، جس میں تعزیراتِ ہند کی دفعات 302 (قتل)، 307 (قتل کی کوشش)، 147 (فساد)، 148 (مہلک ہتھیار کے ساتھ فساد)، 149 (غیر قانونی اجتماع)، 323 (تشدد)، 504 (امن خراب کرنے کے ارادے سے توہین) سمیت دیگر دفعات شامل تھیں۔

پولیس نے 23 دسمبر 2015 کو سورج پور کی مجسٹریٹ عدالت میں چارج شیٹ داخل کی تھی، جس میں ایک نابالغ سمیت 15 افراد کو اس لنچنگ کے معاملے میں نامزد کیا گیا تھا۔ اس وقت تمام ملزمان ضمانت پر ہیں۔
تاہم، چارج شیٹ میں گائے کے گوشت کا واضح طور پر ذکر نہیں تھا، کیونکہ اس وقت فرانزک رپورٹ دستیاب نہیں تھی۔

قابلِ ذکر ہے کہ 15 اکتوبر کو اتر پردیش حکومت نے اس کیس میں استغاثہ واپس لینے کی درخواست دائر کی تھی۔ حکومت نے اس کے لیے مختلف وجوہات پیش کی، جن میں اخلاق کے اہل خانہ کے بیانات میں مبینہ تضاد، ملزمان سے کسی آتشیں یا نوکیلے ہتھیار کی برآمدگی نہ ہونا، اور مقتول و ملزمان کے درمیان کسی سابقہ دشمنی یا عناد کا ریکارڈ موجود نہ ہونا شامل تھا۔

انڈین ایکسپریس کی پیر کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، اتر پردیش حکومت نے کیس واپس لینے کی درخواست میں بنیادی طور پر وہی دلائل پیش کیے جو دو ملزمان نے آٹھ سال سے زیادہ عرصہ قبل ضمانت کی درخواست کے دوران دیے تھے، اور جن کی بنیاد پر انہیں ضمانت مل گئی تھی۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین