اڈیشہ : انصاف نیوز آن لائن
بنگالی زبان بولنے والے مسلم مہاجر مزدوروں کو نشانہ بنانے کے ایک اور واقعے میں مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے 19 سالہ مزدور کو بدھ کی رات اڈیشہ کے سمبل پور ضلع میں ہجوم نے پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا۔ پولیس نے اس قتل کے سلسلے میں چھ افراد کو گرفتار کیا ہے۔
مہلوک کی شناخت جوئیل رانا کے طور پر ہوئی ہے، جو مرشد آباد ضلع کے سوتی تھانہ حلقہ کے تحت واقع ”چک بہادر پور“ گاو¿ں کا رہنے والا تھا۔ اس کے ساتھی مزدوروں اور اہل خانہ کا الزام ہے کہ بنگلہ دیشی غیر قانونی شہری کے شبہ میں جوئیل پر حملہ کیا گیا ہے ۔
پر اس شبہ میں حملہ کیا گیا کہ وہ ایک “غیر قانونی بنگلہ دیشی مہاجر” ہے۔
تاہم”اڈیشہ پولیس نے اس بات کی تردید کی ہے کہ حملہ اس نوعیت کے شبہات سے جڑا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان اور مقتول ایک دوسرے کو جانتے تھے۔
پولیس کے مطابق، یہ واقعہ بدھ کی دیر رات شانتی نگر علاقے میں پیش آیا، جب جویَل کام سے واپس لوٹ رہا تھا۔
مہاجر مزدوروں کے ایک مقامی کارکن اسیم الرحمان نے بتایاکہ حملے آوروں نے آدھار کارڈ مانگے اور انہیں زبردستی ‘جے شری رام’ کے نعرے لگانے پر مجبور کیا۔
رحمان کے مطابق، حملہ آور بانس کی لاٹھیوں سے مسلح تھے اور جیسے ہی انہیں معلوم ہوا کہ تینوں بنگالی زبان بولنے والے مسلمان ہیں، انہوں نے مارپیٹ شروع کر دی۔
مزدوروں نے جویَل کو فوری طور پر اسپتال پہنچایا، جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔ حملے میں زخمی ہونے والے دو دیگر مزدوراقیور رحمان (19)اور سنور حسین (27)اس وقت سمبل پور کے ایک اسپتال میں زیر علاج ہیں۔
سمبل پور کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سری منت بارک نے کہا کہ مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے یہ مزدور کئی برسوں سے اس علاقے میں رہ رہے تھے اور مقامی لوگوں سے واقف تھے۔
ادھر، چک بہادر پور گاو¿ں میں جویَل رانا کی موت کی خبر نے اس کے خاندان کو غم میں ڈبو دیا۔ وہ 20 دسمبر کو تین ماہ کے لیے اڈیشہ گیا تھا، جہاں وہ مستری کے طور پر روزانہ 600روپے کی مزدوری پر کام کرنے والا تھا۔
مقامی ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) رہنماو¿ں کے ساتھ سوتی کے ممبر اسمبلی بھی جویَل کے گھر پہنچے اور خاندان کو مدد کا یقین دلایا۔
ترنمول کانگریس نے اس قتل کو“ایک تشویشناک رجحان کا حصہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کی حکمرانی والی ریاستوں میں بنگالی مہاجر مزدوروں کو محض ان کی زبان اور شناخت کی بنیاد پر شک، ہراسانی اور تشدد کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
پارٹی نے خبردار کیا کہ بے گناہ مزدوروں کو مشتبہ قرار دینے کے خطرات کے بارے میں بارہا توجہ دلانے کے باوجود“تشدد کا یہ سلسلہ بغیر کسی روک ٹوک کے جاری ہے۔”

ترنمول کانگریس نے سوال کیا کہ “بی جے پی کی اس غیر انسانی نفرت انگیز مہم کے روکنے سے پہلے مزید کتنی جانیں جائیں گی؟”
پارٹی نے کہا کہ جہاں بی جے پی خوف اور نفرت پھیلا رہی ہے، وہیں ترنمول کانگریس متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ہر بنگالی مہاجر مزدور کے تحفظ، وقار اور آئینی حقوق کے لیے آواز اٹھاتی رہے گی۔
ترنمو ل کانگریس کے راجیہ سبھا رکن اور مغربی بنگال مہاجر مزدور فلاحی بورڈ کے چیئرمین سمیرالاسلام نے الزام لگایا کہ بی جے پی کی حکمرانی والے اڈیشہ میں اس طرح کے واقعات بار بار ہو رہے ہیں اور بنگالی مہاجر مزدوروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ “ایک بار پھر بی جے پی کی حکمرانی والی ریاست میں بنگالی زبان بولنے والے مہاجر مزدوروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ بی جے پی آخر کتنی معصوم بنگالی جانیں چاہتی ہے؟”

انہوں نے مزید کہاکہ “یہ اس بات کی ایک اور مثال ہے کہ بی جے پی بنگالیوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ بی جے پی کو اقتدار سے باہر کیا جائے، اور بنگال کے عوام آنے والے انتخابات میں جمہوری طریقے سے ‘بنگلا مخالف بی جے پی’ کو سبق سکھائیں گے۔”
انہوں نے مطالبہ کیا کہ بنگال حکومت اس معاملے کو اڈیشہ حکومت کے ساتھ اٹھائے اور مقتول کے خاندان کو معاوضہ دلائے۔
”پریا جَیی شرمک ایکیہ منچ“ (مہاجر مزدور اتحاد فورم) کے ریاستی جنرل سیکریٹری آصف فاروق نے کہا کہ بنگالی مہاجرین کو صرف اڈیشہ ہی نہیں بلکہ کئی دیگر ریاستوں میں بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ اڈیشہ ان ریاستوں میں شامل ہے جہاں مبینہ “غیر قانونی بنگلہ دیشی مہاجرین” کے خلاف کارروائیاں تیز کی گئی ہیں، جن کے دوران بنگالی زبان بولنے والے کئی مہاجر مزدوروں کو حراست میں لیے جانے یا ان پر حملے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
