Sunday, January 18, 2026
homeاہم خبریںووٹ کا حق خطرے میں؟ مسلم اکثریتی اضلاع میں ایس آئی آر...

ووٹ کا حق خطرے میں؟ مسلم اکثریتی اضلاع میں ایس آئی آر نوٹس نے کھڑے کیے سنگین سوال

ایس آئی آر نوٹس مغربی بنگال انتخابات مسلم ووٹر ووٹر لسٹ نظرثانی ووٹ کا حق اقلیتی حقوق الیکشن کمیشن جمہوریت ہندوستان سیاسی اخراج

انصاف نیوز آن لائن

مغربی بنگال میں انتخابی فہرستوں کی ’’خصوصی گہری نظرثانی (SIR)کے تحت جاری کردہ نوٹسز میں اچانک اضافے نے ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ اعداد و شمار اور زمینی حقائق اس تشویشناک پہلو کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ تصدیق کے اس عمل میں مذہبی بنیادوں پر تفریق برتی جا رہی ہے۔ ریاست بھر سے جمع کردہ ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ SIR کا ’’تضاد‘‘ (Discrepancy) تلاش کرنے والا نظام مسلم اکثریتی علاقوں کے ووٹرز کو غیر متناسب طور پر نشان زد کر رہا ہے۔

سیاسی بیانیہ اور زمینی حقائق کا ٹکراؤ

ابتدائی طور پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے ’’روہنگیا‘‘ اور ’’بنگلہ دیشی دراندازی‘‘ کو بنیاد بنا کر پولرائزیشن کی کوشش کی تھی، تاہم SIR کے اعداد و شمار نے ان دعوئوں کو غلط ثابت کر دیا۔ جب ڈرافٹ رول اور ASSD (غیر حاضر، منتقل شدہ، مشتبہ مردہ) فہرستیں شائع ہوئیں، تو اس کا سب سے زیادہ اثر بی جے پی کے اپنے حامی حلقوں، جیسے ‘متوا اور دیگر ہندو شیڈولڈ کاسٹ کمیونٹیز پر پڑا۔ ان علاقوں میں ووٹرز کے ناموں کے اخراج اور ‘نو میپنگ کی وجہ سے بی جے پی کا بیانیہ ناکام ہو گیا۔اس کے بعد اب انتظامیہ کی تمام تر توجہ اقلیتی اکثریتی پولنگ اسٹیشنز پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔

مسلم اکثریتی اضلاع: دستاویزات مکمل، پھر بھی نشانہ

بی جے پی کے ’’دراندازی‘‘ پروپیگنڈے کے برعکس اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مسلم اکثریتی حلقوں کے ووٹرز کے پاس سب سے زیادہ دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔ مرشد آباد کے مسلم اکثریتی علاقوں جیسے ڈومکل (77.67فیصدمسلم) میں ‘نو میپنگ کی شرح صرف0 .42فیصدہے۔ اسی طرح رانی نگر، *ہری ہر پارہ اور لال گولا میں بھی یہ شرح ایک فیصد کے لگ بھگ ہے۔
اس کے باوجود، انہی اضلاع میں ووٹرز کو سب سے زیادہ سماعت (Hearing) کے نوٹسز بھیجے جا رہے ہیں۔ مثال کے طور پر:
مرشد آباد: 66فیصدمسلم آبادی، مگر 30.20فیصدووٹرز کو سماعت کے لیے طلب کیا گیا۔
شمالی دیناج پور: 49.9مسلم آبادی29.75فیصد ووٹرز کو نوٹس جاری ہوئے۔
مالدہ:51.3فیصدمسلم آبادی28.2فیصدووٹرز کو طلب کیا گیا۔

اس کے برعکس، کم مسلم آبادی والے اضلاع جیسے بانکوڑا اور پرولیا (جہاں مسلم آبادی 8فیصدسے کم ہے) میں صرف 10 سے 13 فیصد ووٹرز کو سماعت کے لیے بلایا گیا۔ شماریاتی طور پر، مرشد آباد کے ایک مسلمان ووٹر کو بانکوڑا کے ووٹر وںکے مقابلے میں نوٹس ملنے کا امکان تین گنا زیادہ ہے۔

ٹیکنالوجی کا غلط استعمال اور لسانی مسائل

الیکشن کمیشن کا استعمال کردہ سافٹ ویئر (جو مبینہ طور پر C-DAC نے تیار کیا ہے) بنگالی ناموں کے مختلف لہجوں اور ان کے رسم الخط کی تبدیلی (Transliteration) کو سمجھنے میں ناکام رہا ہے۔ ناموں کے ہجے (Spellings) میں معمولی فرق کو یہ سافٹ ویئر ’’تضاد‘‘ قرار دے کر فلیگ کر دیتا ہے۔

تکنیکی ماہرین کے مطابق اس سافٹ ویئر میں ’’فجی میچنگ(Fuzzy Matching)الگورتھم کی کمی ہے، جو بنگالی ناموں کی روایات کو نہیں سمجھتا۔ یہ مسئلہ خاص طور پر مسلم ووٹرز کے لیے سنگین ہے جن کے خاندانی ناموں یا والد کے نام کے ساتھ املا کی تبدیلیاں عام ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ جو ووٹر 2002 کے ریکارڈ سے مکمل طور پر ‘میپڈ (منسلک) ہیں، انہیں بھی صرف اسپلنگ کی غلطی کی وجہ سے ہراساں کیا جا رہا ہے۔

ہگلی ضلع میں مجموعی طور پر سماعت کی شرح13.9فیصد ہے، جو بظاہر کم معلوم ہوتی ہے۔ لیکن گہرائی میں جانے پر معلوم ہوتا ہے کہ مسلم اکثریتی علاقوں جیسے چندی تلہ میں بڑی تعداد میں نوٹس جاری کیا گیا ہے۔

نواب پور پنچایت (65فیصد مسلم آبادی)5000سے زائد نوٹسز۔
بھگبت پور پنچایت (63فیصدمسلم آبادی):4,500سے زائد نوٹسز۔
*کرشن رام پور (ہندو اکثریتی): صرف 1000کے قریب نوٹسز۔

تصدیق یا حقِ رائے دہی سے محرومی؟

منطقی تضادات کے نام پر کی جانے والی یہ مشق غریب اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ووٹرز کے لیے ایک عذاب بن چکی ہے۔ ہزاروں لوگ اپنا کام چھوڑ کر اور سفر کے اخراجات برداشت کر کے صرف یہ ثابت کرنے پر مجبور ہیں کہ وہ وہی شخص ہیں جو سرکاری ریکارڈ پہلے ہی تسلیم کر چکا ہے۔

اگر الیکشن کمیشن نے اپنے سافٹ ویئر کے معیار اور ٹرانسلیٹریشن کی غلطیوں کا فوری آڈٹ نہ کیا، تو مغربی بنگال کی یہ تصدیقی مہم جائز شہریوں کے منظم اخراج (Targeted Exclusion) میں تبدیل ہو سکتی ہے، جو کہ جمہوریت کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔

آپ کے فراہم کردہ پیراگراف میں خیالات بہت اہم ہیں، لیکن ان کی ترتیب اور زبان کو مزید واضح (Clarify) اور اثر انگیز بنانے کی ضرورت ہے۔ میں نے اس پیراگراف کو صحافتی معیار کے مطابق دوبارہ ترتیب دیا ہے تاکہ بات کا منطقی ربط بہتر ہو سکے۔

“الیکشن کمیشن آف انڈیا (ECI) کا دعویٰ ہے کہ یہ سماعتیں محض غلطیوں کی اصلاح اور ایک شفاف انتخابی فہرست کی تیاری کے لیے ایک غیر جانبدارانہ عمل ہے۔ تاہم، اعداد و شمار اس کے برعکس کہانی سناتے ہیں؛ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس ‘صفائی’ کی قیمت غیر مساوی طور پر صرف ایک مخصوص طبقے سے وصول کی جا رہی ہے۔ انتظامیہ کی اپنی پیدا کردہ تکنیکی غلطیوں کی اصلاح کا سارا بوجھ اب اقلیتی ووٹرز کے کندھوں پر ڈال دیا گیا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ’’خصوصی گہری نظرثانی (SIR)‘‘کے عمل میں پہلے سے موجود تصدیق شدہ ڈیٹا (Mapping Data) کے مقابلے میں سافٹ ویئر کے ذریعے لگائے گئے ‘فلیگز (Flags) کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اقلیتی اضلاع کا ووٹر ‘تہری سزا کا سامنا کر رہا ہے: اول یہ کہ مکمل دستاویزات کے باوجود سافٹ ویئر اسے مشکوک قرار دے دیتا ہے، دوم یہ کہ اسے ریاست کی تکنیکی ناکامیوں کی تلافی کے لیے معاشی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے، اور سوم یہ کہ اسے بار بار اپنی شہریت ثابت کرنے کے نفسیاتی دباؤ میں رکھا جا رہا ہے۔

اگر ‘لاجیکل ڈسکریپنسی (منطقی تضاد) کے معیار اور اس میں موجود لسانی تعصب (Transliteration Bias) کا فوری آڈٹ نہ کیا گیا، تو مغربی بنگال کی یہ تصدیقی مہم ان ہی شہریوں کو نشانہ بنا کر انتخابی عمل سے باہر کرنے کا ذریعہ بن جائے گی جن کی تصدیق کا یہ کمیشن دعویٰ کرتا ہے۔ اسی تناظر میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کے ریاستی سیکریٹری محمد سلیم نے سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ‘ووٹر لسٹ کی اصلاح الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری ہے، لیکن کمیشن اصلاح کے بجائے اب ووٹرز کے اخراج پر زیادہ زور دے رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین